سائفر معاملہ پر عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے: وزیر داخلہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سائفر کی تحقیقات میں عدم تعاون کرنے کی صورت میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کر سکتی ہے۔
وزیر داخلہ کا ایک ٹوئٹ میں یہ انتباہ سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے ایک مبینہ اعتراف کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ بیان میں انہوں نے عمران خان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے امریکا میں پاکستان کے مشن سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور خفیہ دستاویز استعمال کرتے ہوئے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بنانے کی کوشش کی۔
رانا ثنااللہ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اعترافی بیان اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر تنقید کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی۔ اس دوران ایف آئی اے نے عمران خان کو نوٹس جاری کیا جس میں انہیں سائفر تحقیقات کے سلسلے میں 25 جولائی کو اسلام آباد میں بیورو کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کی تحقیقات سے متعلق پیش رفت سے متعلق بتاتے ہوئے سابق وزیراعظم کو قانون کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کی یاد دہانی کروائی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سائفر کی تفتیش کے لیے طلب کیا ہے۔ اگر وہ انکوائری کے مرحلے کے دوران تعاون نہیں کرتے تو انہیں ممکنہ گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تحقیقات کے بعد ایف آئی اے ان لوگوں کے بارے میں شواہد کی بنیاد پر سفارشات کرے گی جو اس میں ملوث ہیں اور جن کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے چاہئیں۔
گزشتہ ماہ سے لاپتا اعظم خان، عمران خان کے خلاف بیان کے حوالے سے ان سے منسوب ایک خط سامنے آنے کے بعد دوبارہ منظر عام پر آئے ہیں اور ان کے وکیل نے ڈان کو بتایا کہ وہ اب گھر واپس آچکے ہیں۔ تاہم وکیل قاسم ودود نے ڈان کو بتایا کہ ان کے مؤکل ان سے منسوب بیان پر بات کرنے کی ’حالت میں نہیں ہیں‘۔
خیال رہے کہ اعظم خان 15 جون کو لاپتا ہو گئے تھے اور اسلام آباد پولیس نے ان کے اغوا کا مقدمہ درج کیا تھا۔ درخواست کے مطابق وہ شام کو دارالحکومت میں اپنے گھر سے نکلے لیکن پھر واپس نہیں آئے۔ اعظم خان کی بازیابی کی درخواست بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
گزشتہ روز عدالت میں پیشی کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اعظم خان ایک ایماندار آدمی ہیں۔ جب تک میں خود ان سے نہیں سنوں گا، یقین نہیں کروں گا۔
اعظم خان سے منسوب ’غیر تصدیق شدہ بیان‘ میں کہا گیا ہے کہ 8 مارچ 2022 کو سیکرٹری خارجہ نے محمد اعظم خان سے رابطہ کیا اور انہیں سائفر کے حوالے سے آگاہ کیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان نے اس سائفر کو دیکھنے کے بعد مبینہ طور پر جلدبازی کا مظاہرہ کیا اور اسے امریکا کی جانب سے کی گئی ’غلطی‘ کی بنیاد پر ’اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ‘ بنانے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
مبینہ اعتراف کے مطابق سائفر کاپی عمران خان نے اپنے پاس رکھی تھی اور اگلے دن (10 مارچ کو) جب ان سے وہ سائفر کاپی مانگی گئی تو عمران خان نے جواب دیا کہ وہ گم ہوگئی ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے بار بار درخواست کے باوجود اصل سائفر واپس نہیں کیا۔
مبینہ اعترافی بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری نے اپنے باس کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سائفر کے مواد کو عام نہ کریں کیونکہ یہ ایک خفیہ دستاویز ہے۔
اعظم خان کا بیان مبینہ طور پر سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا۔ عام طور پر، ایک گواہ، ایک مشتعل شخص، یا ایک ملزم حلف کے تحت اور مجسٹریٹ کے سامنے ایسا بیان ریکارڈ کرتا ہے اور دفعہ 161 کے معاملے میں تفتیشی افسر گواہ کا بیان ریکارڈ کرتا ہے جس پر گواہ کے دستخط کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
تاہم ضلعی عدالت کے ذرائع نے بتایا کہ کسی بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس بات کا امکان ہے کہ کسی ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کرایا ہو۔ تاہم مطلوبہ بیان ابھی تک ضلعی عدلیہ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
اعظم خان کا بیان منظر عام پر آنے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے سائفر بیانیہ کو ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان نے جرم کیا ہے اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس جرم میں شریک ہیں۔
ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ وہ غیر سینسر شدہ تفصیلات سامنے لائیں گے کہ یہ کس طرح حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش سامنے آئی۔ عمران خان نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، یہ ٹی وی پر کسی بھی ڈرامے سے زیادہ دلکش ہو گا۔