لاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث نظام زندگی درہم برہم
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، بجلی کی فراہمی کا سلسلہ معطل اور نظام زندگی درہم برہم ہوگیا۔
شہر میں آج بارش کا سلسلہ صبح تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر شروع ہوا اور واسا لاہور کی جانب سے اب تک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش گلش راوی کے علاقے میں 201 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ ایئرپورٹ ایریا میں 195 ملی میٹر، تاجپورہ میں 193، نشتر ٹاؤن میں 190، لکشمی چوک اور جوہر ٹاؤن میں 180 ، پانی والا تالاب میں 175، قرطبہ چوک میں 172 اور مغل پورہ میں 166 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے، انڈر پاسز اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ شدید برسات کے باعث شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہے خاص کر لکشمی چوک، جوہر ٹاون، ہربنس پورہ، اقبال ٹاؤن میں پانی جمع ہے۔ بارشوں کے باعث دریائے راوی کی سطح بلند ہونے کے بعد پانی کناروں کو توڑتا ہوا ملتان روڈ کے متعدد دیہات میں داخل ہوگیا جس کے باعث ان کا دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
پانی کے ریلے سے نانو ڈوگر ، حکماں کا واڑہ ، وستیاں، نولا والہ گاؤں متاثر ہوئے۔ گاؤں کے مکینوں کا کہنا تھا کہ حفاظتی بند کمزور تھا اور اس کی عرصہ دراز سے مرمت نہیں کی گئی تھی جس کے باعث بند ٹوٹا اور پانی دیہاتوں میں داخل ہو گیا۔ حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی کا ریلا متعدد دیہات میں داخل ہوا جس سے سینکٹروں ایکٹر اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔
دوسری جانب شدید بارش کے باعث دریائے راوی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے راوی کنارے ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور رافعہ حیدر نے نوٹیفکیشن میں شہریوں کو دریا میں نہانے، کشتی رانی یا کسی بھی مقصد کے لیے جانے سے روک دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کسی بھی قسم کی تفریحی یا کاروباری سرگرمی کے لیے دریا کے قریب جانے کی مکمل ممانعت ہے۔
شہر میں بارش کے بعد بجلی فراہمی کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے بتایا کہ بارش کے باعث لیسکو کے 70 فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی عارضی طور پرمعطل ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ محکمہ موسمیات نے خلیج بنگال سے مون سون ہوائیں ملک میں داخل ہونے اور ایک مغربی لہر ملک کے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہونے کے پیش نظر 22سے 26 جولائی کے درمیان موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی تھی۔ محکمہ موسمیات کی جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ اس دوران اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گوجرانوالہ اور لاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاجبکہ مری،گلیات،کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخواہ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔