خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں سے 9 افراد جاں بحق

  • اتوار 23 / جولائی / 2023

صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ہونے والی تباہ کن بارشوں کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات میں کم از کم 9 افراد جاں بحق ہو گئے۔ صوبے کی نگران حکومت نے 15 اگست تک اپر اور لوئر چترال میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

صوبے کے کچھ علاقوں میں گزشتہ روز تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، جس کی نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا۔ بارش دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہی، جس کے نتیجے میں ضلع میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور چترال میں سیلابی صورتحال بھی پیدا ہوگئی جو پُلوں، سڑکوں اور مویشیوں کو بہا لے گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے کئی علاقوں میں 26 جولائی تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 9 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ان میں سے دو افراد سوات، دو بٹگرام، مانسہرہ میں چار اور بونیر میں ایک شخص جان سے گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا کہ بارش کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات میں کم ازکم 7 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سوات اور بٹگرام میں تین، تین جبکہ مانسہرہ میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ مختلف واقعات میں 9 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 67 گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، ایک اسکول کی عمارت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ 47 مویشی ہلاک ہو گئے۔

محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ فوری ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں شروع کر سکیں۔

صوبائی حکومت نے فوری طور پر 2 اضلاع میں رین ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ 15 اگست تک ہوگا تاکہ امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ مواصلاتی نیٹ ورک اور پانی کی فراہمی کی مکمل بحالی ہوسکے۔

علاوہ ازیں گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اسکردو کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس  نے بتایا کہ ضلع استور سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی اسکردو سے گلگت جارہی تھی۔ ضلع گلگت کے قریب اسکردو کی آخری آبادی شینگوس کے مقام پر پہنچتے ہی ان کی گاڑی کے سامنے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے بچنے کے لیے تمام افراد گاڑی سے اُتر کر محفوظ مقام کی جانب جارہے تھے۔

اسی اثنا میں مذکورہ خاندان کے افراد دوسری لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آگئے جس کے نتیجے میں اس خاندان کے 5 افراد میں سے 3 خواتین اور ایک بچہ جاں بحق ہو گیا جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔ لینڈ سلائیڈنگ کے شکار افراد تک فوری رسائی اس لیے نہیں ملی کیونکہ شاہراہ بلتستان، جائے حادثہ کے علاوہ 4 دیگر مقامات پر تیز بارشوں کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے سبب بند ہے۔

ملبے تلے دب جانے والے افراد کو نکالنے کے حوالے سے ایس ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ رسائی کی کوشش جاری ہے، ریسکیو ٹیمیں ان تک پہنچنے کی تگ و دو کر رہی ہیں۔

دریں اثنا کوئٹہ کے علاقے نصیر آباد اور گرد و نواح میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، بارش کے باعث گرمی کی شدت میں کمی آگئی جبکہ نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ خضدار شہر اور گردونواح میں بادلوں کا راج ہے۔ رات گئے سے ہلکی ہلکی بارش جاری ہے جس کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا جبکہ بارش کے سبب ایم-8 قومی شاہراہ ٹریفک کے لیے بند کردی گئی۔ علاوہ ازیں مچھ، بولان اور گردونواح میں گزشتہ شب بارش کے باعث بولان پنجرہ پل کے مقام پر تاحال بند ہے۔