قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی
- تحریر مظہر چوہدری
- اتوار 23 / جولائی / 2023
چند روز قبل ورلڈ کالمسٹ کلب کے نمائندہ وفد کی سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار سے ہونے والی خصوصی نشست میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی زیر بحث آئی۔سابق چیف جسٹس نے قانون کی حکمرانی کی ضرورت و اہمیت پر پر مغز لیکچر دیتے ہوئے پاکستان میں آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقو ق کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
ان کی گفتگوکا نچوڑ یہ تھا کہ کسی بھی ملک اور معاشرے میں قانون کی حکمرانی کا اس وقت تک تصور نہیں کیا جا سکتا جب تک وہاں کی عدلیہ ہر قسم کے اثر ورسوخ اور دباؤ سے آزاد نہ ہو۔ان کے مطابق قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی میں مصلحت، مفاد اور خوف بڑے مسائل ہیں۔سابق چیف جسٹس کے اظہار خیال کے بعد صحافیوں اور کالم نگاروں کی جانب سے سوالات کے سلسلے نے نشست کو مزید دلچسپ اور جان دار بنا دیا۔چیف صاحب سے چند ایک تیز و تند سوالات بھی پوچھے گئے۔
کالم نگاراسحاق جیلانی نے ڈیم فنڈ کے حوالے سے استفسار کرتے ہوئے نکتہ اٹھایا کہ ہمارے ججز اور بیوروکریٹس کوریٹائرڈ ہو کر قوم اور معاشرے کی اصلاح کی فکر ستاتی ہے جب کہ ملازمت اور جاب پر رہتے ہوئے یہ خود کچھ نہیں کر پاتے۔ ڈیم فنڈ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم فنڈ میں کوئی خرد برد نہیں ہوئی،ان کے چیف جسٹس رہنے تک 10ارب روپے ڈیم فنڈ میں جمع ہوا جب کہ چند ماہ قبل تک اضافے اور منافع لگنے سے یہ رقم 17ارب تک جا پہنچی تھی جسے بعد ازاں قومی خزانے میں جمع کراد یا گیا۔ان کے مطابق سب سے پہلے انہوں نے خود 10لاکھ روپے ڈیم فنڈ میں جمع کرائے تھے۔ان کے مطابق انہوں نے ریکارڈ سو موٹولینے سمیت ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد درخواستیں نمٹائیں اور یہ سب مفاد عامہ اور ملک و معاشرے کی اصلاح کو سامنے رکھتے ہوئے کیا۔
راقم نے سابق چیف جسٹس سے استفسار کیا کہ ملک میں جمہوریت اور عدلیہ کے مضبوط نہ ہونے کی سب سے اہم وجہ اقتدار پر مقدرہ کی گرفت کا مضبوط ہونا ہے اور اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے مقتدرہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور ججز کو بھی استعمال کرتی رہی ہے۔میرے سوال کا لب لباب یہ تھا کہ سیاست دان تو چلو سیاسی مفاد کے حصول کے لیے مقتدرہ کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے ہیں، ججز کا تو کوئی ایسا مفاد نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود تاریخ مقتدرہ کے آگے سرنڈر ہونے والوں ججز سے بھری پڑی ہے۔میرے نکتے کی تائید کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے پھر اسی بات کو دوہرایاکہ قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی میں مصلحت، مفاد اور خوف بڑے مسائل ہیں اور یہ ختم ہو گئے عدالتی شعبے میں حقیقی تبدیلی آ جائے گی۔عدالتی شعبے میں بہتری نہ آنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ججز اور چیف جسٹس صاحبان نہ تو قوانین تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ اپنی مرضی کا قانون بنوا سکتے ہیں، قانون بنانا مقننہ کا کام ہے جو بدقسمتی سے قوانین اپ ڈیٹ نہیں کر سکی۔ہمارے ہاں سینکڑوں سال پہلے کے قوانین شہادت اور دیگر قوانین چل رہے ہیں۔
قوانین میں ترمیم یا نئے قوانین بنانے کے حوالے سے جسٹس صاحب کے نکات سے مکمل اتفاق ہے لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہماری اعلی عدالتیں اور ججز موجودہ قوانین کے مطابق بھی قانون اور آئین کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ ماضی سے لے کر حال تک عدالتوں اور ججز پراسٹبلشمنٹ اور سیاسی حکومتوں کا دباؤ بھی رہا ہے تاہم 2009 میں عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے بعد عدلیہ پر اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایگزیکٹو کے اختیارات سنبھالنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔خودچیف جسٹس ثاقب نثار پر ایک نئے طرز کے جوڈیشل ایکٹیوازم کی بنیاد رکھنے کا الزام ہے۔انہوں نے جہاں ایک طرف سوموٹو نوٹس کا بے دریغ استعمال کر کے انتظامیہ کو لائن حاضر کیے رکھا وہیں ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز اکھٹاکرنے کی مہم چلا کر پارلیمان اور ایگزیکٹیو کے اختیارات بھی سنبھالنے کو کوشش کی۔
جسٹس ثاقب نثار کے دور میں میاں نوازشریف کو نہ صرف سیاست سے ڈس کوالیفائی کیا گیا بل کہ وہ گرفتار بھی ہوئے۔اس کے مقابلے میں جسٹس صاحب نے عمران خان کو صادق اور امین کا ٹائٹل بھی دیا اور ان کے ہی دور میں 2018کے متنازع الیکشن بھی ہوئے۔نواز شریف کو نااہل کرنے اورعمران خان کو صادق و امین قرار دینے کے فیصلے آج بھی سیاسی، صحافتی اور عوامی حلقوں میں ڈسکس ہو رہے ہیں۔ثاقب نثار کے بعد آنے والے دو چیف جسٹس صاحبان آصف سعید کھوسہ اور گلزار احمد کے دور میں اگرچہ جوڈیشل ایکٹیوازم کی شدت قدرے کم رہی لیکن موجودہ چیف جسٹس کے دور میں پھر سے جوڈیشل اسٹبلشمنٹ یا عدالتی آمریت قائم کرنے کی گونج بڑی شدت سے سنائی دی جاتی رہی ہے۔
کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک میں سماجی و جمہوری ترقی قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے بغیر ممکن نہیں۔قانون کی حکمرانی معاشرے کی معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ملک اور معاشرے میں قانون کی حکمرانی سمیت کسی بھی مثبت تبدیلی کیلئے ججز سمیت حکمران اشرافیہ کابذات خود رول ماڈل بننا ضروری ہے۔ہمارے سیاسی وجمہوری سسٹم پر غیرسیاسی و غیر جمہوری قوتوں کا اثر ورسوخ اور گرفت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ ہمارے وزرائے اعظم اور چیف جسٹس صاحبان اپنے اپنے شعبوں میں تبدیلی لانے سے قاصر ہیں۔سسٹم کے اندر رہتے ہوئے سسٹم کو یرغمال بنانے والوں کے خلاف نہ تو وزرائے اعظم کچھ کر پائے ہیں اور نہ ہی معزز عدالتوں کے سربراہان کا کچھ بس چل پایا ہے۔
ہمارے ہاں ایک اور بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ہر ادارہ اور محکمہ اپنے کام سے کام رکھنے کی بجائے دوسرے اداروں اور محکموں کے کاموں میں مداخلت کو ترجیح دیتا رہا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی سیاسی و انتخابی معاملات میں مداخلت تو سب کے سامنے ہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری مقننہ اور جوڈیشری بھی اپنے کام سے کام رکھنے کی بجائے دوسرے اداروں کے کام میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار بارے ایک فقرہ بڑا مشہور ہواتھاکہ "ان کی زندگی میں دو ہی مقصد رہ گئے ہیں، ایک ڈیم بنانا اور دوسرا ملک کو قرضوں سے نجات دلانا۔" اپنی بات کی وضاحت کے لیے بتاتا چلوں کہ جسٹس ثاقب نثار کے بعد سپریم کورٹ کے چیف بننے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے پیش روکے اعزاز میں دیئے جانے والے فل کورٹ ریفرنس میں کہا تھا کہ وہ عدالتی مقدمات میں غیر ضروری تاخیر، غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی اور جعلی گواہوں کے خلاف ڈیمز بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قرض اتارنے کے حوالے سے انہوں نے یہ کمٹمنٹ کی تھی کہ وہ زیر التوا مقدمات کے قرض کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کریں گے۔