جنرل عاصم منیر ملک و قوم کے نئے مسیحا نہ بنیں!

پاکستانی سیاست دان  اس  بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ کس  جھوٹی خبر کی بنیاد پر مستقبل کے نگران وزیر اعظم کے بارے میں قیاس آرائیاں  ہورہی ہیں اور کیا پیپلز پارٹی کو اس معاملہ پر اعتماد میں لے لیا گیا ہے یا ابھی اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ البتہ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے  زرعی   انقلاب لانے، بھکاری کا کشکول اٹھا کر باہر  پھینکنے اور  پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کا عزم کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  کے مطابق خانیوال ماڈل ایگری  کلچر فارم کی افتتاحی تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے  آرمی چیف  نے کہا کہ پاک فوج کو اپنی قوم کی خدمت کرنے پر فخر ہے۔   پاکستانی غیرت مند،  غیور اور باصلاحیت قوم ہے۔  ہمیں دنیا کی کوئی طاقت ترقی کرنے سے نہیں روک سکتی۔ پاکستان میں زرعی انقلاب آکر رہے گا۔ جنرل عاصم منیر نے  مزید کہا کہ سکیورٹی اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سکیورٹی کے بغیر معیشت اور معیشت کے بغیر سکیورٹی  ممکن  نہیں ۔

پاکستان  میں قوم کی حالت سدھارنے اور ملک کو حوادث سے بچا کر ترقی کے راستے ہر گامزن کرنے کا یہ عزم نیا نہیں ہے۔  ماضی میں پاک فوج کے متعدد سربراہان اس عزم  و ارادے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بلکہ چار فوجی سربراہان نے تو سول  لیڈروں کو مسترد کرتے ہوئے براہ راست اقتدار پر قبضہ کرکے اس منصوبہ کو مکمل کرنے کا اقدام بھی کیا تھا لیکن ہر بار کچھ ایسی انہونی  ہوگئی کہ ان نیک ارادوں پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔  اس تفصیل میں جانے کا محل نہیں ہے لیکن   پاکستان کی مختصر تاریخ میں ہونے والے تمام تجربات سے یہی سبق سیکھا جاسکتا ہے کہ  جس کا کام اسی کو ساجھے۔ جب بھی کوئی ادارہ اپنا کام چھوڑ کر دوسرے اداروں کے  مقاصد کی تکمیل کا عزم کرے گا تو اس میں کامیابی کے امکانات  نہیں ہوں گے۔  پاکستان میں سیاسی معاملات کے علاوہ معاشی اصلاح کے لئے فوج کی نگرانی میں  شروع ہونے والے  کسی منصوبے میں کامیابی  حاصل نہیں ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہی نکلتا رہا ہے کہ قوم و ملک کو سیاسی سفر کا آغاز ازسر نو کرنا پڑا ۔  یوں سول معاملات میں فوجی مداخلت  کی وجہ سے  ملک دائیرے کے سفر میں مبتلا رہا ۔ نہ منزل کا پتہ رہااور نہ ہی عوامی بہبود کے کسی پروگرام کو عملی جامہ پہنایا جاسکا۔ اس کی  بجائے اختیار  واقتدار کی کشمکش میں سیاست دانوں کے علاوہ فوج بھی شامل ہوگئی۔

کسی کو فوج کی نیت یا موجودہ آرمی چیف کے  ارادوں اور عزم  پر شبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن  ان کی نیک نیتی اور اخلاص پر پورے یقین  کے باوجود یہ کہنے میں بھی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ  ملک میں زرعی اصلاحات، خوشحالی کے منصوبوں کا آغاز، قرضوں کی ادائیگی کے لئے معاشی اقدامات اور  نظام حکومت  میں ربط و ضبط پیدا کرنے کے معاملات طے کرنے کا کام اس ملک کے سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے ۔ ملک میں ایک آئین موجود ہے۔ اسی آئینی انتظام کے تحت اسمبلیاں منتخب کی جاتی ہیں اور وہاں کئے جانے فیصلوں سے ہی ملک و قوم کی سمت متعین ہوسکتی ہے۔  اگر اس تسلیم شدہ طریقے میں کوئی نقص محسوس کرتے ہوئے فوج کو ان میں سے کچھ اختیارات ’آؤٹ سورس‘ کرنے  فیصلہ کیا گیا ہے تو اس کا  طریقہ بھی اسی آئین میں موجود ہے جسے پچاس سال پہلے متفقہ طور سے منظور کیا گیا تھا اور دو  فوجی حکومتوں کے باوجود ابھی تک  یہ آئین موجود بھی ہے اور کسی حد تک اس پر عمل بھی ہورہا ہے۔ بلکہ ملک کی سپریم کورٹ تو بار بار اس عزم کا اعادہ کرتی رہتی ہے کہ وہ  آئین کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گی۔

حکومت یا بعض سیاسی عناصر یا فوجی قیادت اگر یہ محسوس کرتی ہے کہ  موجودہ آئینی  دائرہ کار ملک کو درپیش چیلنجز  کے مقابلے میں محدود ہے اور  ملکی نظام کو مؤثر طور سے چلانے  کے لئے کچھ ایسے ڈرامائی اور انقلابی اقدامات کرنا ضروری ہے جن میں فوج کی صلاحیتوں کو دفاع اور امن و امان کے علاوہ  زندگی کے دیگر شعبوں میں بہتری کے لئے بھی استعمال کرنا ضروری ہے تو اس کا  مہذب طریقہ تو یہی ہے کہ    فوج کے کردار کو تبدیل کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کرلی جائے۔  تاکہ  پھر آئینی طریقہ کے مطابق فوج قومی خدمت کے مقصد سے زندگی کے دیگر شعبوں میں خدمات سرانجام دے سک  اور فوجی یونٹ زرعی منصوبوں کی نگرانی کریں۔ پھر  آرمی چیف قرض مانگنے کے لئے غیر ملکی دوروں پر جائیں تو یہ اسے ان کا آئینی فرض سمجھا جائے اور اگر سیاسی  امور میں رائے دینے کا معاملہ ہو تو کور کمانڈر کانفرنس باقاعدہ اجلاس میں اس پر غور کرکے اپنی رائے سامنے لائے۔ تاہم جب تک ملکی آئین میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں لائی جاتی اور ملک کی آئین ساز اسمبلی باقاعدہ ترمیم کے ذریعے  ملکی معاملات میں فوج کا دائرہ کار وسیع نہیں کرتی، اس وقت تک   اعلانات کرنے اور عزم کا  اظہار کرنے سے   صورت حال تبدیل نہیں ہوسکتی۔

زرعی اصلاحات کے لئے آرمی چیف نے خانیوال میں  جس عزم کا اظہار کیا ہے اس کی بنیاد گو کہ وزیر اعظم نے چند ہفتے پہلے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک سیمنار میں رکھی تھی ۔ شہباز شریف نے اس وقت آرمی چیف  کو  مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں زرعی انقلاب لانے کا ’ویژن‘ درحقیقت آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے جنرل صاحب کی توصیف و تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے ، انہیں خطاب کرنے کی دعوت دی۔   پروگرام کے مطابق آرمی چیف کو اس موقع پر تقریر نہیں کرنی تھی اور وہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں محض رسمی شرکت کے لئے وہاں آئے تھے۔  تاہم وزیر اعظم کی دعوت پر آرمی چیف انکار نہیں کرسکے اور س موقع پر ان کی تقریر بعد میں میڈیا میں خبروں اور مباحث کا سبب بنی رہی۔

سوال  تو یہ ہے کہ  وزیر اعظم  تو خود ایک ایسی   پارلیمنٹ سے ’منتخب‘  ہوئے ہیں جس کے     ایک تہائی سے زیادہ ارکان  استعفی  دے چکے ہیں اور یہ اسمبلی آئینی ترمیم کا بنیادی اور اہم ترین فرض ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیوں کہ ارکان کی مناسب تعداد اس وقت موجود نہیں ہے۔  ایک ایسے وزیر اعظم کو آرمی چیف کے  کسی بھی ’ویژن‘ کو قوم پر مسلط کرنے یا  فوج کے سربراہ کو کوئی ایسی ذمہ داری تفویض کرنے کا اختیار کیسے حاصل ہوسکتا ہے  جس کے وہ خود مجا ز  ہی نہیں ہیں۔ یہ بات ملک کے  عوام، میڈیا، عدلیہ  کے علاوہ پاک فوج کو بھی سمجھنی چاہئے۔ حکومت کی طرف  سے خیر سگالی کا کیسا ہی اظہار کیوں نہ کیا جائے لیکن آرمی چیف کو ملکی سیاست اور امور مملکت میں فوج کے کردار  کے حوالے سے محتاط اور شعوری طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ ایک مشکل  وقت میں مسائل حل کرنے  کے جوش میں  اگر فوج نے ایک بار پھر کوئی غیر آئینی ذمہ داری قبول کرلی تو اس کے نتائج بھی ماضی  سے مختلف نہیں ہوں گے۔

جنرل عاصم منیر سے زیادہ کوئی اس بات کو نہیں جانتا ہوگا کہ پاک فوج اور ملک اس وقت جس بحران کا شکار ہیں،  اس کی بنیاد خود انہی کے پیشروؤں نے ملکی سیاست کو شفاف بنانے، بدعنوان عناصر سے پاک کرنے اور ملک میں ہائبرڈ نظام کے تحت فرسودہ اور آزمودہ  لیڈروں کی بجائے  ایک نئی، جوش و جذبے سے لیس اور نئے  تصورات کو نافذ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ڈائینامک قیادت  مسلط کرنے  کے منصوبہ کے تحت  رکھی تھی۔ عمران خان کو اقتدار دلوانے کے لئے ملکی آئینی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا اور عدلیہ  نے بھی عسکری قیادت کے ساتھ مل کر اس بے مثال منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے  میں پوری طرح معاونت کی ۔ یہ منصوبہ ساڑھے تین سال بھی کامیابی سے چل نہیں سکا اور اسی فوجی قیادت کو جو بڑی امیدوں کے ساتھ عمران خان کو ہزار حیلوں سے  اقتدار میں لائی تھی، ان کے  خلاف عدم اعتماد  کا راستہ ہمور کرنا پڑا۔

9 مئی اس تجربہ کا وہ بھیانک روپ  ہے  جسے پاک فوج کی قیادت کسی صورت بھلا نہیں سکتی۔   اس میں شبہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ پاک فوج ہی نہیں ، کسی بھی ملک کی فوج اپنی اتھارٹی،  وقار اور  دائرہ کار پر ایسے پرتشدد حملوں کی تاب نہیں لاسکتی اور مستقبل میں ان کا سدباب کرنے کے لئے اقدمات کرے گی۔ بدقسمتی سے   اتحادی جماعتوں کی موجودہ  حکومت  نے سانحہ 9 مئی کو صرف  تحریک انصاف کے خلاف انتقامی سرگرمیاں تیز کرنے کے لئے استعمال کیا اور عدلیہ بھی فوری  طور سے  اس روز ہونے والی سازش  اور پاک فوج کو نیچا دکھانے کی مذموم کوشش  کی شدت و سنگینی  کا  ادراک کرنے  میں کامیاب نہیں رہی۔ اسی وجہ سے  فوجی قیادت کو اس چیلنج سے تن تنہا نمٹنا پڑا۔  تاہم   اس سانحہ سے فوج کو یہ سبق ضرور سیکھنا چاہئے کہ  نو مئی کو ہونے والے واقعات درحقیقت اس غیر آئینی و غیر قانونی طریقہ کار کا فطری انجام تھے، جس کا آغاز بدقسمتی سے فوجی قیادت  نے ’ وسیع تر قومی مفاد‘ کے غیر  واضح  سلوگن کی بنیاد پر کیا  تھا۔ یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ قومی مفاد اور نظریہ پاکستان  جیسے نعرے ملکی آئین سے بھی بالا   ہیں۔ اسی غلط فہمی نے ملک کو بحران اور تباہی کی طرف دھکیلا ۔

پاکستان اس وقت بلاشبہ  ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ اس وقت کئے جانے والے فیصلے اس کے مستقبل اور یہاں  پر آباد لوگوں کی خوشحالی کے بارے میں اہم ہوں گے۔ لیکن یہ دوراہا فوجی قیادت کے لئے بھی اہم ہونا چاہئے۔ اسے ماضی قریب کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے یہ طے کرلینا چاہئے کہ  ملکی سیاسی و انتظامی امور میں مداخلت یا حصہ داری فوج کا کام نہیں ہے۔ سیاسی قیادت اپنے اپنے فائدے کے لئے فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی ضرور کوشش کرے گی۔ تاہم یہی امتحان کی گھڑی ہے۔ اس وقت ہی جنرل عاصم منیر کو طے کرنا ہے کہ  فوج کے سربراہ کے طور پر ان کی ذمہ داری فوج کو منظم کرنا ، ملکی دفاع پر توجہ دینا اور آئینی  حکومت کی وفاداری پر یقین رکھنا ہے۔ 

آرمی چیف کو کسی حالت میں قوم کا مسیحا بننے  کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی  اس غلط فہمی میں مبتلا ہونا چاہئے کہ اگر فوج  آگے نہیں بڑھے گی تو ملک اپنی منزل کی طرف بڑھ نہیں پائے گا۔ یہ ملک  آئینی انتظام پر عمل کرتے ہوئے ہی  اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوسکتا ہے۔ ملکی معاملات میں فوج کا غیر آئینی کردار، مستقبل کا راستہ صاف کرنے کی بجائے نئی پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔