انتخابات کے بارے میں غیر سنجیدہ مباحثہ کا کیا مطلب ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 25 / جولائی / 2023
اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے ملک میں انتخابات کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے اگر انتخابات میں دس سال تاخیر بھی ہوجائے تو اس میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے۔ قومی اسمبلی میں نام نہاد اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنانے کی مخالفت بھی کی حالانکہ اب مسلم لیکگ (ن) خود ہی اس تجویز سے دست بردار ہوچکی ہے۔
راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ اگر اسحاق ڈار نگران وزیر اعظم بن گئے تو انتخابات تو مشتبہ ہوں گے ہی لیکن اس صورت میں تو دو سال تک انتخابات ہونے کا امکان ہی ختم ہوجائے گا۔ یہ تو واضح نہیں ہے کہ راجہ ریاض نے اسحاق ڈار کے نگران وزیر اعظم بننے کی صورت میں انتخابات میں غیر معمولی تاخیر کا اندیشہ کیوں ظاہر کیا حالانکہ اسی انٹرویو کے دوران انہوں نے ملک میں انتخابات کو غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ انہیں تو ایک عشرے تک بھی ملتوی کیا جاسکتا ہے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوسکیں۔ ملک میں طے شدہ جمہوری نظام اور آئینی طریقہ کار کے بارے میں ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے جمہوریت اور عوام کو بااختیار بنانے کے بنیادی اصول کے بارے میں سیاست دانوں کی غیر سنجیدگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی سوچنا چاہئے کہ انتخابات کے مسلمہ و متفقہ طریقہ کار کو مباحثہ کا حصہ بنا کر کیا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟
اگرچہ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ راجہ ریاض کو ڈمی اپوزیشن لیڈر سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران تحریک انصاف کے ناراض ارکان میں شمولیت اختیار کی تھی اور اپریل 2022 میں شہباز شریف کی سربراہی میں اتحادی جماعتوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد انہیں مئی میں اپوزیشن لیڈر ’منتخب‘ کیا گیا تھا۔ حالانکہ وہ اس دوران یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ وہ آئیندہ انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے امید وار ہوں گے۔ انہوں نے البتہ ابھی تک تحریک انصاف سے استعفیٰ نہیں دیا اور ناراض ارکان کے گروپ کا حصہ بن کر عمران خان کی حکمت عملی کے برعکس بدستور قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور اس ’کارگزاری‘ یا خدمت کے صلہ میں انہیں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر بھی فائز کردیا گیا۔ یوں حکومت اور اپوزیشن میں نام کے سوا کوئی خاص فرق دیکھنے میں نہیں آتا۔
آئینی طور سے اگرچہ وزیر اعظم اپنا نگران جانشین مقرر کرنے کے لئے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے مشورہ کرنے اور ان کے تجویز کردہ ناموں پر غور کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن ملکی خبروں میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم تو کجا کسی اہم حکومتی ترجمان یا لیڈر نے بھی راجہ ریاض کو گھاس ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ خود انہوں نے ہی گزشتہ ہفتے میڈیا کو یہ بیان جاری کیا تھا کہ نگران وزیر اعظم کے بارے میں وہ اگست کے پہلے ہفتے میں وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔ یہ امر اپنی جگہ مضحکہ خیز ہے کہ نگران وزیر اعظم کی تقرری کے لئے آئین کے مطابق اہم ترین فریق ’اپوزیشن لیڈر‘ کو اس معاملہ پر بات چیت کا حصہ بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ جمہوریت اور آئین پسندی کے بلند بانگ دعوؤں میں اس طرز عمل سے واضح ہوتا ہے کہ جمہوریت و انتخابات کے بارے میں صرف راجہ ریاض ہی غیر سنجیدہ نہیں ہیں بلکہ ملک کے سب سیاست دان ہی اس بارے میں ایک سا لاتعلقی کا رویہ رکھتے ہیں۔
آئین میں انتخابات کے ذریعے عوام کے منتخب نمائیندے ملکی معاملات طے کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ارکان کی اکثریت وزیر اعظم چنتی ہے جو امور مملکت چلانے کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے جبکہ صوبوں میں اسی طریقہ سے وزرائے اعلیٰ منتخب ہوتے ہیں۔ لیکن ملکی سیاست دانوں کی بھاگ دوڑ کا کل مقصد کسی جمہوری عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنا اور عوام کو آئینی تقاضوں کے مطابق بااختیار بنانا نہیں ہو تا بلکہ جمہوری عمل کی آڑ میں تمام سیاسی رہنما صرف حصول اقتدار کی تگ و دو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اصولی طور سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی خواہش رکھنا اور اس طرح اقتدار کے لئے کوشش کرنے میں نہ تو کوئی قباحت ہونی چاہئے اور نہ ہی اسے غیر آئینی طریقہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن ملکی سیاست دانوں کی تگ و دو صرف انتخابی کامیابی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس نام نہاد کامیابی کا راستہ ہموار کرنے کے لئے کوئی بھی غیر جمہوری یا غیر آئینی طریقہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔
اس کا مظاہرہ اس سال کے شروع میں پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد مقررہ مدت کے اندر انتخابات سے گریز کی صورت میں کیا جاچکا ہے۔ سپریم کورٹ کے واضح حکم اور آئینی صراحت کے باوجود حکومت نے حیلوں بہانوں سے انتخابات ٹالنے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ طریقہ سو فیصد غیر آئینی تھا لیکن اسے اختیار کرتے ہوئے کوئی شرمندگی یا پریشانی محسوس نہیں کی گئی۔ اسی طرح ملک کے دو صوبوں میں نگران حکومتوں کو کام کرتے ہوئے 6 ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں حالانکہ آئین کے مطابق ان کی مدت 90 دن سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ تاہم اس غیر ضروری تاخیر پر حکومت میں شامل کسی جماعت یا قومی اسمبلی و سینیٹ کے کسی رکن کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ معاملات یوں ہی رواں دواں ہیں جیسے یہ سب معمول کی بات ہو ۔ حالانکہ جب کوئی حکومتی نظام مسلمہ آئینی تقاضوں کو نظر اندااز کرتے ہوئے اپنی اتھارٹی نافذ کرنے کی کوشش کرے گا اور سیاسی جماعتیں محض آئیندہ انتخابات میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور انتخاب جیتنے کے لئے داؤ پیچ آزمانے ہی کو ضروری سمجھیں گی تو ایسے انتظام پر اعتبار کی سطح وہی ہوگی جو اس وقت موجودہ حکومتی انتظام کے بارے میں محسوس کی جارہی ہے۔
دیکھا جائے تو راجہ ریاض نے اپنی ’کم علمی یا سادگی‘ میں انتخابات کے بارے میں جس رائے کا اظہار کیا ہے، ملک کے وزیر اعظم اور حکومتی اتحاد میں شامل اہم سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ سیاسی حکمت عملی کے اعتبار سے کسی جماعت کو فوری انتخابات میں فائدہ دکھائی دیتا ہے اور کسی کو جلد انتخابات میں سیاسی نقصان کا اندیشہ ہے۔ اسی لئے کبھی حکومت کی مدت کے بارے میں مباحث کو طوالت دی جاتی ہے اور کبھی وزیر اعظم کی طرف سے اقتدار نگران حکومت کے حوالے کرنے کے واضح اعلان کے باوجود انتخابات کے انعقاد اور نگران حکومت کی مدت کے بارے میں شبہات عام کئے جاتے ہیں۔ پہلے یہ بحث محض ساٹھ یا نوے دن کی مدت کے بارےمیں تھی لیکن اس دوران یہ اشارے بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ نگران سیٹ اپ کی مدت آئین کی مقرر کردہ مدت سے طویل بھی ہوسکتی ہے۔ انتخابی اصلاحات کے قانون میں ترامیم کے حوالے سے شق 230 میں تبدیلی کی تجویز ان شبہات کو یقینی بنا رہی ہے۔
حکومت اس شق میں تبدیلی کے ذریعے نگران حکومت کو ایسے اختیارات دینا چاہتی ہے جو ایک مختصر المدت نامزد نگران حکومت حاصل نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کا کوئی جواز تلاش کیا جاسکتا ہے۔ تاآنکہ بعض درپردہ عناصر اس آڑ میں ملک کے انتخابی نظام کو لپیٹنے اور بحران کے نام پر جمہوری عمل تلپٹ کرنے کا تہیہ کئے بیٹھے ہوں۔ راجہ ریاض بے اختیار اور سادہ لوح ضرور ہوسکتے ہیں لیکن وہ بہر حال اسی نظام کا حصہ ہیں اور کسی ’خوبی‘ ہی کی وجہ اپوزیشن لیڈر بنائے گئے تھے۔ جب وہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ملکی مسائل کے مقابلے میں انتخابات کو غیر ضروری مشقت کہتے ہیں تو ضرور غور کرنا چاہئے کہ طاقت کے مراکز میں کہیں نہ کہیں تو انتخاب دشمن قوتیں ضرور سرگرم ہیں اور وہ حیلے بہانے سے اپنی طاقت میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں رضا ربانی سمیت متعدد سینیٹرز نے آج اسی حوالے سے نگران حکومت کو غیر معمولی اختیارات دینے کی ترمیم پر سوال اٹھائے اور استفسار کیا ہے کہ اگر یہ سیٹ اپن دو یا تین ماہ کے لئے آئے گا تو اسے بے پناہ اختیارات دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے۔ یہ ترمیم درحقیقت ملکی انتخابی نظام کے تسلسل پر براہ راست حملہ کے مترادف ہے لیکن حکومتی حلقے ایک عارضی حکومت کو عوام کی تقدیر کا بلاشرکت غیرے مالک بنانا چاہتے ہیں۔ اسے ملک پر غیر جمہوری حکومت مسلط کرنے کا ’قانونی طریقہ‘ ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ سے اگر کسی پارٹی کو انتخاب جتوانے اور کسی کو ہرانے کے لئے کوئی انتظام، کرنے کا خواب دیکھا جارہا ہے تو اس کی تعبیر سوچنے میں خواہ کیسی ہی سہانی کیوں نہ ہو لیکن اس کا حتمی نتیجہ کبھی خوشگور نہیں ہوسکتا۔ ورنہ عمران پراجیکٹ کے نا م سے کئے جانے والے ہائبرڈ تجربے کے انجام پر نگاہ ڈال لی جائے۔
نگران حکومت کو بااختیار کرنے میں ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ اس کا تعلق محض انتخابی التوا سے نہیں بلکہ نگران انتظام کے تحت مقتدہ کچھ ایسے فیصلے نافذ کرنا چاہتی ہے جو ایک کمزور منتخب حکومت کے دور میں کرنا ممکن نہیں تھا۔ ان میں بعض لیڈروں کو سزا دلوانا، ملکی سیاسی منظر نامہ کو بعض عناصر سے ’پاک‘ کرنا اور انتخابات کے لئے کوئی ایسا سازگار ماحول بنانا شامل ہے جس میں صرف وہی عناصر کامیاب ہوں جنہیں قومی مفاد میں ضروری سمجھا جائے۔ اگر یہ طریقہ اختیار کیا گیا اور نگران سیٹ اپ کے تحت ملک پر جبر و استبداد کا نیا دور مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے عوام میں پائی جانے والی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔
شاید اسی لئے راجہ ریاض جیسے بے ضرور لیڈر کے منہ سے عوامی مسائل کے مقابلے میں انتخابات کو غیر ضرور ی قرار دینے کا اعلان کرواکے درجہ حرارت دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔