منی پور فسادات کے بارے میں تنازعہ، نریندر مودی کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی

  • بدھ 26 / جولائی / 2023

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف اپوزیشن کی دو جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر اسپیکر نے ووٹنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اسپیکر نے یہ اعلان نہیں کیا کہ تحریک پر ووٹنگ کب ہو گی۔

بھارتی اخبار 'انڈیا ٹوڈے' کے مطابق ریاست منی پور میں جاری فسادات پر حکومت کی جانب سے ایوان میں بحث نہ کرانے پر اپوزیشن جماعت کانگریس اور بھارت راشٹریہ سمیتی(بی آر ایس) نے الگ الگ تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ وزیرِ اعظم مودی پارلیمنٹ میں آکر منی پور میں جاری فسادات پر اظہارِ خیال کریں جب کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ وزیرِ داخلہ امیت شاہ ایوان کو منی پور کی صورتِ حال پر بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں۔

ریاست منی پور میں کوکی اور میتی قبائل کے درمیان تین مئی سے شروع ہونے والے فسادات کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ ریاست میں تاحال پُرتشدد صورتِ حال برقرار ہے اور حکومتی کوششوں کے باوجود ان پر قابو نہیں پایا جا سکا۔

حال ہی میں فسادات کے دوران دو خواتین کی برہنہ پریڈ کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ بیس جولائی سے شروع ہونے والے لوک سبھا اجلاس کے بعد سے ہی اپوزیشن اتحاد حکومت پر زور دے رہا ہے کہ ریاست منی پور میں جاری فسادات پر ایوان میں بحث کرائی جائے اور وزیرِ اعظم ایوان کو اعتماد میں لیں۔

حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے پر غور نہ کرنے پر اپوزیشن اتحاد 'انڈیا' نے منگل کو وزیرِ اعظم مودی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا تھا۔ لوک سبھا کا ایوان 543 ارکان پر مشتمل ہے جس میں حکمراں اتحاد 331 اور اپوزیشن اتحاد (انڈیا) کے 144 ارکان ہیں۔ حکومت کو بظاہر عد م اعتماد کی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک سے حکومت کو منی پور واقعے پر ایوان میں بحث کرانے پر مجبور کیا جائے گا۔

اپوزیشن اتحاد کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ منی پور میں جاری فسادات اور خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو ایک ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ منی پور میں جاری صورتِ حال پر وزیرِ اعظم مودی ایوان میں آکر بیان دیں۔