پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

  • بدھ 26 / جولائی / 2023

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اتحادیوں اور اپوزیشن اراکین کے اعتراضات واپس لینے کے بعد الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوسرے روز بھی جاری رہا، جہاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انتخابی اصلاحات پر گزشتہ روز اٹھائے گئے اعتراضات پر وضاحت کی اور اپوزیشن اور اتحادیوں کے اعتراضات تسلیم کرلیے۔

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے شق وار منظوری کے بعد اجلاس کے اختتامی مرحلے پر الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی بل 2023 پیش کردیا جس سے کثرت رائے سے منطور کرلیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے ایوان کی کارروائی پیر 7 اگست دوپہر 12 بجے ملتوی کردی۔

اس سے قبل جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس شروع ہوا تو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نگران حکومت کو اختیار دینے کے سیکشن 230 پر اٹھائے گئے اعتراضات تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے اتحادیوں اور اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کو دیکھتے ہوئے نیا ڈرافٹ تیار کر لیا ہے، سیکشن 230 کے علاوہ جتنی شقیں شامل کی گئی ہیں ان پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ سیکشن 230 کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ترمیم کل کی گئی حالانکہ یہ ترمیم 5 روز قبل وٹس ایپ اور ای میل کر دی گئی تھی۔ سیکشن 230 کی حد تک دوبارہ دیکھا گیا، اس کی نیت صرف جاری معاشی منصوبوں کا معاملہ ہے، جو منصوبے جاری ہیں ان پر ضرورت کے مطابق ایکشن لیا جاسکتا ہے۔ آج دوبارہ بحث کرنے کے بعد تقرر اور تبادلے کو واپس لے لیا گیا ہے اور اب نیا ڈرافٹ تمام ارکان کو شیئر کیا جارہا ہے۔ نوید قمر اس حوالے سے ڈرافٹ سب کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلیم مانڈوی والا نے جو ترامیم دی ہیں وہ کافی بہتر ہیں، شفاف انتخابات کے حوالے سے گزشتہ تجربے کو دیکھتے ہوئے یہ اصلاحات کی گئیں۔ اس موقع پر اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ مجھے بل کی دیگر شقوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آج  تک ہم نے پڑھا تھا کہ ان ممالک کا کیا حال ہوتا ہے جو عالمی مالیاتی ادارہ  کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

آئی ایم ایف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  پاکستان کو کہا گیا کہ شرائط پورا ہونے کے بعد معاہدہ ہوسکتا ہے۔ شرائط پوری ہونے کے باوجود عملے کی سطح پر معاہدہ نہیں ہوا، اس کے بعد وزیر اعظم کی مداخلت پر معاہدہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہوا لیکن وزیر اعظم نے ملک کے لیے کیا۔ بین الاقوامی سامراج کے نمائندے سیاسی جماعتوں سے ملے، یہ کہاں ہوتا ہے۔ آپ کا معاہدہ حکومت پاکستان کے ساتھ تھا، آپ کو یہ اجازت نہیں کہ آپ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملیں۔ یہ ملک کی خود مختاری کے خلاف ہے، آج ہمیں اپنی آئینی اسکیم سے ہٹنا پڑا۔ پہلے قومی مفاد کا منترا استعمال ہوتا تھا، اب معاشی مفادات اور سلامتی کے مفادات کا منترا استعمال ہوتا ہے۔

وزیرقانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا، جس کی شق وار منظوری دی گئی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز اور اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی نے الیکشن ایکٹ 2017 کے مجوزہ سیکشن 230 کی مخالفت کی تھی۔