ہمارا ماضی اور عصرِحاضر کا شعور؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 26 / جولائی / 2023
مشہور مقولہ ہے کہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ اکیسویں صد ی کی مہذب اور باشعور دنیا اس جانگلی اصول کو ماننے سے انکاری ہے خواہ اس کی بھاری قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔
مہذب دنیا کا اصول بہرصورت یہی ہونا چاہیے کہ بھینس اسی کی ہوگی جس کے پاس اس کی جائز ملکیت کا ٹھوس ثبوت ہوگا۔ چاہے اس کے پاس لٹھ کی طاقت ہو یا نہ ہو۔ آج روسی بربریت اپنے ہمسایہ ملک یوکرین پر جارحیت کرتے ہوئے جو ظلم و ستم ڈھا رہی ہے بشمول امریکا پوری مہذب دنیا اندھی روسی طاقت کے خلاف یوکرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ حالانکہ اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اس وقت بھی ہوا تھا جب عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین نے طاقت کے نشے اور لوٹ مار کے شوق میں اپنے ہمسایہ محسن ملک کویت پریلغار کرتے ہوئے اس پر قبضہ جما لیا تھا۔ اور یہ اعلان کردیا تھا کہ دنیا اب کویت نامی ملک کو بھول جائے کیونکہ ہم اسے اپنا انیسواں صوبہ بنا چکے ہیں۔ مگر پوری مہذب دنیا امریکی قیادت میں اس اپروچ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ نتیجتاً آج کویت اپنی اسی آزادی کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ البتہ جارحیت کرنے والے کی حکومت کیا اس کا اپنا بھی حشر نشر ہوچکا ہے۔
بلاشبہ امریکی قوم کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور امریکا مخالف عناصر اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ مگر نقاد یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر مہذب اقوام ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموشی سے ایسی جارحیتوں کو پی جائیں توپھر دنیا بھر کی کمزور اقوام کا کوئی پرسان حال نہیں رہے گا، جس کے پاس لٹھ یعنی اسلحہ بندی کی طاقت ہوگی وہ اپنی ہمسائیگی میں آباد کسی بھی ایسی قوم پر چڑھ دوڑے گی جو اسلحہ بندی کی بجائے اپنے عوام کی معاشی خوشحالی پر یقین رکھتی ہوگی۔ دنیا میں اگر لٹھ یا اسلحہ بندی یعنی مضبوط ڈیفنس کو ہی عزت و احترام، طاقت یا بقا کا معیار بنا لیا جائے گا تو اس کا فوری و براہ راست نقصان یا قیمت اس ملک میں بسنے والے کروڑوں عوام کو چکانی پڑے گی۔ اگر ہم انسانی تاریخ کے صدیوں پر محیط سفر کا جائزہ لیں توطاقت کا زعم ہی جارحیت کا باعث بنتا رہا ہے۔
کوئی بھی بدمعاش ذہنیت جب ایسا مسلح جتھہ تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتی تھی تو وہ اپنا یہ دینی و دنیوی حق سمجھتی تھی کہ قرب و جوار کے قبائل اور اقوام پر چڑھ دوڑے انہیں اپنا ذہنی وفکری ہی نہیں معاشی غلام بنائے اور ان کی املاک و جائیداد کو بے دردی سے لوٹ لے، یہ املاک چاہے منقولہ ہو یا غیرمنقولہ ہوتی تھیں مال غنیمت ہی قرار پاتی تھیں، یعنی دشمن کا لوٹا ہوا مال۔ انہیں ہڑپ کرنا اور اپنے لیٹروں میں بانٹ دینا کوئی غیر اخلاقی یا غیر انسانی اقدام نہیں گردانا جاتا تھا۔ ستم و سنگ دلی کی انتہا تھی کہ املاک یا جائیداد کی لوٹ مار یا بندر بانٹ تو رہی ایک طرف ان کےبالغ مردوں کوقتل کردیا جاتا تھا تاکہ ان میں سے کوئی مزاحمت کے قابل نہ رہے جبکہ بچوں، بچیوں اور خواتین کو غلام اور لونڈیاں قرار دے کر باہم بانٹ دیا جاتا تھا جو ان معزز خواتین کی مرضی و رضا مندی کے قطعی برعکس انہیں جنسی طور پر محض ہراساں نہیں کرتے تھے بلکہ پوری وحشت سے ان کے ساتھ وہ درندگی روا رکھتے تھے کہ جس کا آج محض تصور کرتے ہوئے مہذب انسانی احساسات کانپ اٹھتے ہیں۔ وہ ان بدقسمت خواتین کو نہ تو عورتیں تسلیم کرتے تھے اور نہ انہیں عورتوں کے حقوق دینے کی کوئی سوچ رکھتے تھے۔ کیونکہ جب وہ ’عورت‘ کا لفظ استعمال فرماتے تھے تو اس میں یہ مظلوم لونڈیاں شامل نہیں ہوتی تھیں۔ وہ محض ان کی مِلک یا ملکیت تھیں جس طرح بھیڑ بکریاں یا اونٹنیاں تھیں چاہے انہیں خود استعمال کرو، جب دل بھر جائے تو دوسروں کو فروخت کردو یا دوستوں کو تحفتاً پیش کرو یا انہیں عطیہ کر دو۔
جسے شک ہے وہ بے شک تمام تاریخی کتب کا باریک بینی سے مطالعہ فرما لے۔ کسی بھی عورت سے جنسی تعلق قائم کرنے سے پہلے کم از کم اس سے تین مرتبہ اس کی رضا مندی پوچھی جاتی تھی جبکہ لونڈی کے لئے مرضی پوچھنا تو دور کی بات ایک ہی حکم تھا کہ وہ اپنے مالک یا آقا کے حکم کی بلاچون وچرا تعمیل کرتی چلی جائے۔ اگر مالک یا آقا کا اپنا جی بھر گیا ہے اور وہ اسے دوسرے کسی وحشی کوبیچ دیتا ہے۔ چاہے وہ کتنا مکروہ، گندا، ناپسندیدہ یا اس سے کمتر درجے کا ہے۔ اس سے بدبو آ رہی ہے لیکن اس نصیبوں جلی کے لئے ایک ہی حکم ہے کہ وہ اپنے مالک یا آقا کے حکم کی تعمیل میں کسی نوع کی کمی نہ آنے دے بلاچون و چرا اس کی خدمت میں لگی رہے۔ یہ لونڈی سماجی طور پر چاہے اپنے قبیلے کے سردار کی بیٹی ہو اور نازو نعم میں پلی شہزادی رہی ہو، اب چونکہ وہ لونڈی ہے اس لئے اس پر لونڈی کے احکامات ہی لاگو ہوں گے۔
درویش نے ازمنۂ وسطیٰ کے صدیوں پرانے قبائلی قانون کی محض ایک جھلک پیش کرنے کی جسارت کی ہے اب اگر وہ اس کی مختلف مثالیں ثبوتوں کے ساتھ پیش کرنے کی کاوش کرے گا تو بہت سے پارسا اسے پسند نہیں فرمائیں گے۔ اپنی نوجوان نسلوں سے درویش کی ایک ہی استدعا ہے کہ وہ سٹڈی کی عادت ڈالیں۔ مختلف النوع غیر انسانی مظالم کے اصل حقائق از خود ان پر کھلتے چلے جائیں گے اور وہ فطرت کے شکرگزار ہوں گے کہ وہ زمانہ قدیم میں نہیں عصرِ حاضر میں پیدا ہوئے ہیں۔ جی تو چاہ رہا ہے کہ زیادہ دور جانے کی بجائے یہاں اٹھارویں صدی کے ایک مسلم مفکر حضرت شاہ ولی اللہ کے انسانی غلامی کے حوالے سے وچار یا فرمودات تحریر کردیے جائیں جو ان کی کتاب ”حجتہ اللہ البالغہ“ میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ مگر بہتر یہی ہوگا کہ جو زیرک و باشعور نوجوان اس حوالے سے دلچسپی رکھتے ہیں، وہ خود ہی انہیں پڑھ لیں۔
مختصراً عرض ہے کہ حضرت فرماتے ہیں ہمارے سماج کو لونڈیوں اور غلاموں کی آج بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح باربرداری کے لیے گھوڑوں اور گدھوں کی۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ہمارے لوگوں میں یہ اپروچ ہنوز تھمی نہیں۔ درویش کی عصرِ حاضر کے ایک مسلم سکالر ڈاکٹر اسرار احمد کے ساتھ اس حوالے سے خاصی منہ ماری ہوئی تھی۔ اگر کوئی دوست دلچسپی رکھتا ہو تو وہ اسے بھی ملاحظہ کروائی جاسکتی ہے۔ درویش کی کتاب اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب میں ان کے ساتھ ہونے والی یہ بحث ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ ان کا مؤقف کچھ اس طرح ہے کہ ہمارے دین میں انسانی غلامی کو اس لیے ختم نہیں کیا گیا کہ یہ وقت بدل جائے گا اور پھر وہ وقت آئے گا جب اس سسٹم کا ریوائیول ہوگا جس میں لونڈیوں اور غلاموں کی سماجی طور پر ضرورت پڑے گی اور انہوں نے اس سچائی یا حقیقت کو تسلیم کیا کہ ہاں کتابِ مقدس نے لونڈی کو عورت تسلیم نہیں کیا اس کی حیثیت ایک شے، چیز یا ملکیت کی ہے اور اوماملکت ایمانکم کی یہی تشریح ہے۔
اس طرح اس حقیقت کو ماننے میں کوئی امر مانع نہ ہے کہ ہمارے عہدِ زریں خلافتِ راشدہ میں لونڈیوں اور غلاموں کی ایسی ہی منڈیاں لگتی تھیں جیسی آج کل منڈی مویشیاں، جبکہ اس کے بالمقابل جدید مغربی تہذیب کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ امریکی صدر ابراہم لنکن نے بڑے بڑے نقصانات برداشت کرلیے لیکن اس امر پر ڈٹ گئے کہ انسانی غلامی یا انسانوں کی خریدوفروخت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے ملک سے بلکہ پوری دنیا سے انسانی غلامی کا کلی خاتمہ کرتے ہوئے وہ اقدامات اُٹھائے جن کی ماضی کے مقدس ترین ادوار میں ڈھونڈنے سے مثال نہیں ملتی ہے۔ پھر اسی کا تسلسل یو این ہیومن رائٹس ڈیکلریشن میں جلوہ گر ہوا اور دنیا کی تمام اقوام اور معاشرتوں کو اس امر کا پابند بنادیا گیا کہ وہ انسانی غلامی کے کلی خاتمہ پر کسی نوع کی کوئی گنجائش نہیں رہنے دیں گے۔
عصرِ حاضر کی شعوری ترقی کا یہ قابلِ فخر اثاثہ و سرمایہ ہے جس کا کریڈٹ امریکی صدر ابراہم لنکن کی عظیم سوچ اور فکر کو جاتا ہے اور وہ بجا طور پر اقوامِ عالم کے لیے مینارۂ نور اور ابر رحمت ہیں۔