پیمرا ترمیمی بل، میڈیا بندشوں میں مزید اضافہ؟
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 26 / جولائی / 2023
مملکت خداداد پاکستان میں ہر نئی حکومت اور کچھ کرے نہ کرے، میڈیا ریگولیشن یامیڈیا کا قبلہ سدھارنے کے نام پر نئے قوانین ضرور بناتی رہی ہے۔یہ قوانین بظاہر الیکٹرانک کرائمز اور فیک نیوز کی روک تھام کو یقینی بنانے اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے نام پر بنائے جاتے ہیں تاہم تاریخ گواہ ہے کہ ایسے قوانین کے نفاذ سے پہلے سے متعدد نوعیت کی بندشوں میں جکڑے میڈیا کی آزادی مزید سلب ہوجاتی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق پیمرا آرڈیننس2002کے بعد پیمرا قانون میں پہلی بار ترمیم کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کا پورا منظر نامہ بدل چکا ہے، اس لیے پیمرا قانون میں ترمیم وقت کی ضرورت ہے۔ پیمرا ترمیمی بل کے تحت پہلی مرتبہ صحافیوں کو شکایات کونسل میں اپنی شکایت درج کرانے کا اختیار دیا جارہا ہے۔اس کے علاوہ پہلے چینل بند کرنے کا اختیار چئیرمین پیمرا کے پاس تھا لیکن اب اس قانون کے تحت یہ اختیار تین رکنی کمیٹی کے پاس ہوگا۔فیک نیوز، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کی تشریح بل میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ دانستہ طور پر غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ایک اور تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پہلے کسی چینل پر غلط خبر چلے تو کہا جاتا تھا کہ صحافی نے یہ خبر ذاتی حیثیت سے دی، اب اسے چینل سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو پیمرا ترمیمی بل میں کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں اور بعض منفی بھی ہیں۔ معروف صحافی وتجزیہ نگارمظہر عباس کے مطاق پیمرا نے اپنے آپ کو ٹی وی چینلز کا ایڈیٹوریل بورڈ بنا دیا ہے۔ جو فیصلے اس میں لکھے گئے ہیں وہ بنیادی طور پر ایڈیٹر کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ ایڈیٹر کا فیصلہ ہوتا ہے کہ کون سی خبر مصدقہ ہے اور کون سی نہیں۔ان کے مطابق بورڈ میں بھی زیادہ تعداد حکومتی ارکان کی ہو گی اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے۔صحافی واینکر پرسن منصور علی خان کے مطابق فیک نیوز کا تعین حکومتی ذرائع کے پاس نہیں بل کہ آزاد صحافیوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کی اکثریت نے پیمرا ترمیمی بل پر تشویش و خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کی سفارشات کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے دو رکنی میڈیا کمیشن بنایا جائے اور پیمرا کی تشکیل نو کی جائے۔پی ٹی آئی نے پیمرا ترمیمی بل کو آزادی صحافت کا گلہ گھونٹنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی نمائندہ سیاسی قوت کی عدم موجودگی میں حکومت کی قانون سازی کی کوئی اہمیت نہیں۔
تلخ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر گزشتہ سات دہائیوں سے مختلف حیلے بہانوں اور اور ہتھکنڈوں سے حملے کئے جاتے رہے ہیں۔متعدد بار اس حق کے غلط استعمال کا بہانہ بنا کر فوجی آمروں اور غیر جمہوری سیاسی حکمرانوں نے میڈیا کی آزادی کا گلہ گھونٹا ہے۔ آزادانہ اظہاررائے سے خوف زدہ کسی بھی حکمران نے میڈیا کی آزادی کو پنپنے نہیں دیا۔آمروں اور آمروں کے پروردہ حکمرانوں نے ہاں میں ہاں نہ ملانے والے لکھاری،اینکرز اور میڈیا ہاؤسز کو ہر دور میں زیر عتاب رکھا۔ تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں ہر دورحکومت میں میڈیا کے صحافتی فیصلوں میں ریاستی و حکومتی سطح پر کئی قسم کی قدغنیں لگتی رہی ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی ریاستی و حکومتی سطح پر کئی ایک ایسے مرئی اور غیر مرئی اقدامات اٹھائے گئے جس سے صحافت پر ایک عجیب طرز کی سنسر شپ مسلط ہو گئی۔آج پی ٹی آئی پیمرا ترمیمی بل کو آزادی صحافت کا گلہ گھونٹنے کے مترادف قرار دیتی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی کے نئے پاکستان میں میڈیا کو نئے انداز سے قابو کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
کہیں پرجان کی دھمکیوں کی بجائے کام بند کرانے کی دھمکیاں دے کر مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے گئے تو کہیں عملی طور پر کام بند کرا کے تنقید کرنے والوں کی زبان بندی کر دی گئی۔کہیں قومی مفاد کے نام پر سرکاری بیانیے کی مخالفت کرنے والے نیوز چینلز کو کیبل پر غائب کر دیا گیا تو کہیں اخبارات کی ترسیل اور اشتہارات کی تقسیم پر اثر انداز ہو کر مخالف آوازوں کو خوش اسلوبی سے دبا دیا گیا۔پی ٹی آئی کے خلاف عدم اعتماد کے بعد پی ڈی ایم نے حکومت سنبھالی تو حکومت اور اسٹبلشمنٹ پر تنقید کرنے والے صحافی اور صحافتی ادارے زیر عتاب آ گئے۔پی ڈی ایم دور حکومت میں پی ٹی آئی کے حمایتی اور اسٹبلشمنٹ پر تنقید کرنے والے صحافی اور یوٹیوبر ملک چھوڑنے پر مجبوربھی ہوئے۔صحافی ارشد شریف کو تو پاکستان چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد کینیا میں قتل کر دیا گیا۔ مئی کے واقعے کے بعد تو پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو بھی روپوش ہونا پڑا۔
جدید جمہوری ریاستوں کے قیام کے بعدسے اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں سرفہرست تصور کیا جاتا ہے۔جدیدجمہوری معاشروں میں آزادی اظہار اور میڈیا پرکسی بھی قسم کی قدغن لگانے کو دیگر تمام بنیادی حقوق پر قدغن لگانے کے مترداف سمجھا جاتا ہے۔ریاضی کی اصطلاح میں بات کی جائے تو سماج کی فکری،علمی اور مادی نشوونما اظہار رائے کی آزادی کے ڈائریکٹلی پروپرشنل ہے یعنی جن ممالک میں افراد کو جتنی زیادہ آزادی اظہار حاصل ہوتی ہے، وہ قومیں فکری، علمی اور مادی ترقی میں دیگر اقوام سے اتنا ہی آگے نکل جاتی ہیں۔اس کے برعکس جن معاشروں میں اظہار رائے کی آزادی پر فوج، عدلیہ اور مذہب سمیت کسی بھی قسم کی قدغن لگی رہے،وہ معاشرے فکری، علمی اور مادی طور پر پسماندہ رہ جاتے ہیں۔فرد کے اظہار رائے کا حق میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔
ماس میڈیا یا ذرائع ابلاغ انسان کے دو بنیادی حقوق یعنی جاننے کا حق اور رائے کے اظہار کے حق کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ ماس میڈیا یا ذرائع ابلاغ ہی ہیں جن کی مدد سے ایک ملک یا دنیا کے مختلف حصوں میں بیٹھے ہوئے انسان اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دنیا بھر کی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں۔لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ میڈیا کی آزادی دراصل انسان کے جاننے اور اظہار کرنے کے دو بنیادی حقوق کی پاسداری کی ضمانت مہیا کرتی ہے اور میڈیا پر پابندی یا قدغن دراصل ان دو بنیادی انسانی حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔اظہار رائے اور جاننے کے حق کا استعمال روایتی (پرنٹ اورالیکٹرانک)میڈیا کے علاوہ بھی کئی ذرائع سے ہوتا ہے جن میں جلسہ جلوس، ڈرامہ، فلم، ادب، شاعری، تقریر و تحریر اورسوشل میڈیا زیادہ اہم ہیں۔عام آدمی کے جاننے اور اظہار رائے کے حق کو یقینی بنانے کے لئے ان مذکورہ ذرائع کی آزادی بھی انتہائی ضروری ہے۔