بااختیار نگران وزیر اعظم کس کے لئے خطرہ ہوگا؟

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے  انتخابی ایکٹ میں ترامیم منظور کرلی ہیں۔ انتخابات  منعقد کروانے کے علاوہ اس ایکٹ کی شق 230 میں ترمیم کرتے ہوئے نگران حکومت کو اہم عالمی معاہدوں پر دستخط کرنے اور پالیسی معاملات طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ایسے اختیارات تو کبھی منتخب حکومت کو نہیں دیے گئے جو اب نگران  وزیر اعظم کو دیے جارہے ہیں۔ تاہم اتحادیوں اور اپوزیشن ارکان کی مخالفت کے باوجود ان ترامیم کو چند تبدیلیوں کے بعد منظور کروا لیا گیا۔

گزشتہ روز کے اجلاس میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور  جماعت اسلامی کے ارکان نے  نگران   وزیر اعظم کو کسی منتخب وزیر اعظم جیسے اختیارات دینے پر شدید رد عمل ظاہر کیا تھا۔ تاہم آج کے اجلاس میں  وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ کہہ کر بات آگے بڑھائی کہ ’نگران حکومت پہلے سے جاری پروگرام اور منصوبوں سے متعلق اختیارات استعمال کر سکے گی اور اہم پالیسی فیصلے لے سکے گی‘۔ اس سے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ نگران  حکومت کو  نئے معاہدے کرنے  کا اختیار نہیں ہوگا بلکہ  حکومتی پالیسی کے تسلسل کے لئے  نگران سیٹ اپ کو بااختیار بنانا ضروری  تھا۔

سیکشن 230 پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا گیا  تھاکہ قانون کے مطابق نگران حکومت کا کام محض روزمرہ کے معاملات کو اس وقت تک چلانا ہے جب تک نئی منتخب حکومت نہیں آ جاتی ۔ نگران حکومت کو اضافی اختیارات دے کر ایک منتخب حکومت کے برابر لانا  ’آئین کے قتل‘ کے مترادف ہے۔ بہت سے اراکین نے اپنی تقریروں میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا  تھا  کہ نگران حکومت کو بااختیار بنانے سے متعلق ترمیم ’دراصل آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے ہے‘۔

آج کارروائی کے دوران  حکومت کی طرف سے وضاحت کی گئی  کہ ستمبر میں پاکستان کو چند بین الااقوامی معاہدوں کی تکمیل کرنی ہے جن میں پرائیوٹائزیشن، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے شامل ہیں۔ اس موقع پر اگر  نگران حکومت کے پاس  معاہدوں پر کارروائی آگے بڑھانے کا مناسب  اختیار نہ ہؤا تو ملکی معیشت کے اہم منصوبے ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوجائیں گے۔  نگران سیٹ کے اختیارات میں اضافہ سے ایک طرف ان خدشات   میں اضافہ ہؤا ہے کہ  شاید  مستقبل قریب کی نگران حکومت  آئین کے مطابق طے شدہ 60 یا90 دن کی مدت میں انتخابات منعقد کرواکے نئی منتخب حکومت کو اقتدار نہ سونپے۔ گویا یہ خدشہ موجود ہے کہ انتخابات کا وعدہ کرنے کے باوجود  اس پر عمل درآمد نہ ہوسکے اور ملک میں معاشی استحکام کے نام پر نگران حکومت کی مدت میں غیر ضروری توسیع کردی جائے۔ اس کی ایک مثال تو موجودہ حکومت نے خود ہی قائم کردی ہے جب پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کی بجائے نگران حکومتیں قائم رکھنے پر اصرار کیا گیا۔ اس وقت ملک کے دو صوبوں میں  جو نگران حکومتیں  کام کررہی ہیں، انہیں کوئی آئینی حیثت حاصل نہیں ہے لیکن وہ تمام حکومتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے  پنجاب اور خیبر پختون خوا کے معاملات چلا رہی ہیں۔

نگران حکومت کے اختیارات  بڑھانے  سے  متعلق شکوک و شبہات میں اضافہ یوں بھی پیدا ہؤا  کہ اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنوانے اور  نگران وزیر اعظم کو اضافی اختیارات دینے کی  بات بیک وقت شروع کی گئی تھی۔  بلکہ ایک ٹی وی پروگرام میں خود وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پہلے شق230 میں تبدیلی اور نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافے کی ترمیم لانے کی تصدیق کی ۔ پھر اسی پروگرام میں جب ان سے پوچھا گیا کہ  کیا وہ خود نگران وزیر اعظم بننے والے  ہیں تو اسحاق ڈار نے اس کی تردید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ یہ کہہ کر بات ٹالی کہ وہ کسی عہدے کا لالچ نہیں رکھتے لیکن ملک و قوم کی بھلائی کے لئے اگر انہیں کوئی ذمہ داری دی جاتی ہے تو وہ اس سے انکار نہیں کریں گے۔

اس پس منظر میں  عام طور سے یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) درحقیقت اقتدار پر  گرفت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ نگران وزیر اعظم کے اختیار میں اضافہ کرنے کا مقصد ہی یہ  ہے کہ اسحاق ڈار کو وزیر اعظم بنوا کر مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں   کامیابی کے بغیر  ہی ملکی معاملات چلانے کا اختیار حاصل ہوجائے۔   اور اس وقت تک انتخابات کو ٹالا جائے جب تک مسلم لیگ (ن) کی قیادت یہ باور نہ کرلے کہ وہ  حلقہ جاتی سیاست میں اتنی گرفت حاصل کرچکی ہے کہ  کم از کم پنجاب سے اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔  البتہ اسحاق ڈار کو وزیر اعظم بنوانے کی ’تجویز‘ تو  ایک ہی دن بعد  غیرمتعلق ہوگئی تھی کیوں کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ خود مسلم لیگ  (ن) میں نواز شریف کے وفادار خواجہ آصف نے اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دیا۔ تاہم اس دوران نگران حکومت کے اختیارات میں اضافہ کی ترمیم  انتخابی ایکٹ میں شامل کرنے کا کام مکمل کرلیا گیا۔ آج یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔

اب یہ کہا  جاسکتا ہے کہ اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنوانے کی ’تجویز‘ کبھی سنجیدگی سے موجود ہی نہیں تھی لیکن اس اشتعال انگیز ’خبر‘  کو عام کرکے بحث کا رخ اسحاق ڈار اور  ملکی سیاست  پر ان کے نگران وزیر اعظم بننے کے  منفی اثرات کی طرف موڑ دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا مقصد بھی  شاید اس طریقے سے کسی مسئلہ کے بغیر  نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ  کروانا ہی تھا۔   حکومت  اس مقصد میں کامیاب تو ہوگئی ہے لیکن  ان شبہات  کا خاتمہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی کہ  جو حکومتی انتظام محض  انتخابی عمل کی نگرانی اور نئی منتخب حکومت  کو   اقتدار منتقل کرنے کے لئے معرض وجود میں آتا ہے،  اسے اہم پالیسی فیصلے کرنے اور عالمی معاہدوں پر دستخط کرنے کا اختیار کیوں دیا جارہا ہے۔ حکومت کی اس دلیل میں بھی کوئی وزن محسوس نہیں ہوتا کہ ستمبر کے  دوران دیگر ممالک سے بڑی سرمایہ کاری ملک میں آنے والی ہے جس کی وجہ سے نگران حکومت کو بے اختیار نہیں چھوڑا جاسکتا۔

اگر ایسی کوئی مجبوری تھی تو شہباز شریف کی حکومت اگست میں اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ایسے معاہدوں پر دستخط کرکے تمام  معاملات طے کرسکتی تھی تاکہ نگران حکومت  انتخابات کا فریضہ ادا کرکے   اقتدار نئی منتخب  حکومت  کے حوالے کردیتی۔  تاہم   الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نگران سیٹ اپ کو بااختیار بنوانے کے طریقہ سے  یہ  امکان بھی سامنے آیا ہے کہ جن مالی منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں ارکان پارلیمنٹ کو معلومات فراہم کرکے الیکشن ایکٹ میں ترمیم پر راضی کیا گیا ہے، ان میں کچھ ایسے پہلو شامل ہوں جو سیاسی لحاظ سے   مشکل ہوں۔ پہلے ہی ملک کے ہوائی اڈے  ’آؤٹ سورس‘ کرنے اور کراچی کی بندرگاہ کو ٹھیکہ پر دینے کی باتیں سامنے آچکی ہیں۔  آئی ایم ایف  سے تین ارب ڈالر کے  اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت  پی آئی اے سمیت متعدد ایسے قومی اداروں  کا بوجھ کم کرنے کی باتیں بھی کی جاتی رہی ہیں جو قومی خزانے پر بھاری بوجھ بنے ہوئے ہیں۔

 کوئی بھی منتخب حکومت  ان اداروں سے جان چھڑانے کا حوصلہ نہیں کرتی کیوں کہ ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے مستقبل کی بحث سیاسی لحاظ سے مشکل  ثابت ہوسکتی ہے۔ قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے سرکاری اداروں میں بھرتی کئے گئے ملازمین کو  مختلف ادوار میں سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے  بھرتی کیا گیا تھا۔ یعنی ان لوگوں کا  حلقہ جاتی سیاست میں بدستور اثر و رسوخ موجود ہے۔ اگر  موجودہ حکومت انہیں کام سے فارغ کرنے کا اعلان کرتی تو سیاسی جماعتوں کے لئے انتخابات کے دوران اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینا مشکل ہوجاتا۔ کسی ایک حلقہ میں سیاسی توازن قائم رکھنے والی طاقتیں اور گروہ یہ نہیں دیکھتے کہ کسی فیصلہ کے قومی معاشی مفادات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس ایک مشکل کی وجہ سے بھی نگران حکومت ایک ایسا عبوری  دور ثابت ہوسکتا ہے جو مشکل  فیصلوں   کابوجھ برداشت کر سکتی  ہے کیوں کہ اسے  ان کی  سیاسی قیمت ادا نہیں کرنا پڑے گی۔

نگران حکومت کو باختیار بنانے کا ایک پہلو ملک میں سیاسی بے یقینی سے بھی جڑا ہؤا ہے۔ سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف  کو سیاسی لحاظ سے غیر مؤثر کرنے کے لئے متعدد  اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اب   بھی  پی ٹی آئی کے متعدد  اہم سیاسی لیڈر جیلوں میں بند ہیں اور خود پارٹی چئیرمین عمران خان درجنوں مقدموں میں عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ عمران خان متعدد بار متنبہ کرچکے ہیں کہ انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔  یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ حکومت عمران خان کو گرفتار کرنے کا سیاسی بوجھ برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتی ہو  ،  اس لئے  نگران وزیر اعظم کے ذریعے تحریک انصاف کا باقی ماندہ ’زہر‘ نکالنے کا کوئی ارادہ باندھا گیا ہو۔  

تحریک انصاف  اور اس کے حامی تو بدستور انتخابات میں تختہ الٹ دینے کی باتیں کرتے ہیں ۔ لیکن پاکستان میں پارلیمانی نظام کے تحت حلقوں کی بنیاد پر سیاست ہوتی ہے۔ ایسے سیاسی انتظام میں شخصی مقبولیت عام طور سے  کسی پارٹی کی انتخابی کامیابی کے لئے فیصلہ کن   عنصر نہیں ہوتی۔  یوں  بھی عمران خان کی مقبولیت اور اس کے زیر اثر انتخابات  میں مخالفین کا ’صفایا‘ کردینے کے اندازے اور  دعوے سیاسی خوش فہمی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔  ملک  کے موجودہ الجھے ہوئے اور منتشر سماجی  ماحول میں رائے عامہ کا کوئی  قابل اعتبار جائزہ بھی   ایسی پیش گوئی نہیں کرسکتا جو واقعی  زمینی حقائق کی تصویر کشی کرتا ہو۔ ایسے میں صرف قیاس آرائیاں ہیں جو ہر طرف سے کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کو سوشل میڈیا  مہارت کی وجہ سے اس  پر زیادہ دسترس حاصل ہے۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عمران خان کی نام نہاد ’مقبولیت‘ سے خاصی بدحواس ہے کیوں کہ اسے پنجاب میں  تحریک انصاف سے ہی حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ نگران سیٹ اپ کو بااختیار بنانے میں اس خوف کا عمل دخل بھی ہوسکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے نگران حکومت کے غیر معمولی اختیارات کے سوال پر  بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اب’ قومی مفاد کی جگہ  معاشی  اور سکیورٹی  مفاد نے لے لی ہے‘۔ مفادات کے اس بھنور میں عام آدمی کا مفاد، ضرورت اور خواہش بدستور تشنہ تکمیل ہے۔