پاکستان کو بحران سے نکالنے کا عزم صمیم
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- جمعہ 28 / جولائی / 2023
پاکستان کے سالارِ اعلیٰ جنرل عاصم منیر نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکال کر دم لیں گے“۔ خانیوال ماڈل ایگریکلچر فارم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت سے کہا پاکستان کے غیور عوام کو کشکول اٹھا کر باہر پھینکنا ہے۔فوج عوام سے ہے اور عوام فوج سے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو تمام نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں دنیا کی کوئی طاقت ترقی کرنے سے روک نہیں سکتی، سیکیورٹی اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے،سیکیورٹی کے بغیر معیشت اور معیشت کے بغیر سیکیورٹی ناممکن ہے۔
ہمارے آرمی چیف نے جو بھی باتیں کی ہیں وہ بلاشبہ قابلِ ستائش اور مبنی برحقیقت اور مبنی برحق بھی ہیں ان پر کسی قسم کی انگلی اٹھانا ممکن نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا مسئلہ کیا ہے۔ یہ مسائل، حالات حاضرہ جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ بجلی، گیس پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اشیاء ضروریہ بشمول اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ، ٹیکسوں کی بھرمار اور دیگر ایسی خرافات نے عام آدمی تو کیا درمیانے طبقے کا جینا بھی محال کر رکھا ہے۔ بجلی کے بلوں میں ٹی وی فیس تو پہلے ہی موجود تھی اب ماہانہ ریڈیو فیس بھی لاگو کر دی گئی ہے۔ اب تو لوگ مذاق میں کہہ رہے ہیں کہ بجلی کے بلوں میں چھوٹا پیشاب 10روپے اوربڑا پیشاب 20روپے ماہانہ فیس بھی شامل کر دی جائے تو انہیں حیرانی نہیں ہو گی۔
حکمران1.1 ارب ڈالر کے قرض کے حصول کے لئے 9ماہ تک آئی ایم ایف کے ترلے منتیں کرتے رہے، انہیں راضی کرنے کی احمقانہ کاوشیں بھی کرتے رہے۔ ہمارے وزیراعظم نے بھیک مانگنے کی اعلیٰ درجے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ایسا کرنے میں درپیش مشکلات کا بھی کھل کر ذکر کیا۔ ایک بات طے تھی کہ اگر آئی ایم ایف نے ہمارا ہاتھ نہ پکڑا، ہمارے ساتھ معاملات طے نہ کئے تو ہم مالی اعتبار سے سیاسی اعتبار سے دنیا سے کٹ جائیں گے۔ ہماری جاں بلب معیشت یقینا ڈیفالٹ کر جائے گی لیکن ہمارے شہبازشریف آئی ایم ایف کو منانے میں کامیاب ہو گئے۔ صرف کامیاب ہی نہیں ہوئے بلکہ کامران بھی قرار پائے کہ 1.1ارب ڈالر کے حصول کے لئے کاوشیں نہ صرف رنگ لے آئیں بلکہ 3ارب ڈالر کے حصول کا معاہدہ کر گئے۔ ڈالروں کی ریل پیل ہونے لگی۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے لگے۔ ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان پیدا ہو گیا۔ سٹاک مارکیٹ میں بہتری نظر آنے لگی۔ عوام نے شہبازشریف کی صلاحیتوں کو سلام پیش کیا، شہبازشریف ویل ڈن۔
پھر ہم نے دیکھا کہ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی باتیں ہونے لگیں۔ بجلی کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، گیس کی قیمت میں اضافہ ہو گیا۔ پورے ملک میں، جو پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں تھا، مہنگائی کا سونامی آ گیا۔ ویسے سونامی کا لفظ ہمارے معاملات کی شاید درست عکاسی نہیں کرتا۔ معاملات اب سونامی سے آگے جا رہے ہیں، مکمل تباہی و بربادی کی طرف جا رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا کے مقابلے میں ہمارے ہاں سب سے زیادہ ہے۔ قدر زر میں گراوٹ بھی تاریخی ہے۔ ہمارے حکمران ٹیکسوں کے بوجھ تلے پستے ہوئے عوام کو صبر کی تلقین بھی کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ٹیکسوں میں اضافہ بھی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک چھڑکتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے، وفاقی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ تنخواہوں میں 35فیصد اضافے کو 30فیصد اور پنشن میں 17.5فیصد اضافے کو گھٹا کر 5فیصد کرنے کا فیصلہ نمک پاشی نہیں تو کیا ہے۔ پھر صوبہ بھر کے خواتین و حضرات کے طویل مظاہرے کے بعد یہ فیصلہ واپس لیا گیا یہ کس کے ایماء پرکیا گیا اور کس نے کیا؟ کیا کوئی اس ظلم کو دیکھنے اور روکنے کا ذمہ دار بھی ہے؟
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف عوام کراہ رہے ہیں، تکلیف میں ہیں، مہنگائی کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ دوسری طرف بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، شدید ترین حبس میں معمولات زندگی کا قائم اور جاری رکھنا ناممکن ہو چکا ہے، ایسے حالات میں، جب عوام حکمران کے خلاف شدید نفرت کا شکار نظر آ رہے ہوں، حکومت پنجاب کا سرکاری افسروں کے لئے 2ارب 33کروڑ روپے کی گاڑیوں کی خریداری کی منظوری کیا کہیں گے؟ عوام نانِ جویں کے لئے ترس رہے ہیں، انہیں دو وقت کی نہیں ایک وقت کی روٹی بھی درکار نہیں ہے تو حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں، اعلانیہ عیاشیوں کا ارتکاب، گناہ ہی نہیں، گناہ کبیرہ ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حکمران اپنے ہی رنگ ڈھنگ لئے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ قوم پیچھے کی طرف ڈھلک رہی ہے۔
ایسے پس منظر میں سالار اعلیٰ کا بیان وقت کی آواز ہی نہیں ،نقارہ خدا سمجھنا چاہیے ۔اس وقت ضرورت ہے کہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ ان کی تسلی و تشفی کی کاوشیں کی جائیں۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر عمل درآمد کے نتیجے میں جو سختیاں آ رہی ہیں انہیں برداشت کرنے کا جو حوصلہ پیدا کرنے کی کاوشیں کی جائیں۔ ہمارے سالارِ اعلیٰ نے وقت کی آواز کو جانا، پہچانا اور سنا اور پھر اس پر لبیک کہا۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھنے کے باوجود عامتہ الناس، فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے ۔کیونکہ فوج ہر مشکل گھڑی میں، نہ صرف زبانی کلامی بلکہ عملاً بھی عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ جبکہ ہمارے سیاستدان اور بیورو کریسی عزم و ہمت اور فہم و فراست کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اس لئے ہمارے سیاستدانوں اور سرکاری اہلکاروں کو کئی اچھے کام کرنے کے باوجود وہ پذیرائی نہیں مل پاتی ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)