اسلامو فوبیا میں اضافہ کیوں؟

سویڈن اور ڈنمارک میں انتہا پسندوں کی جانب سے قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کرنے کے حالیہ واقعات کے بعد عالمی میڈیا میں اسلاموفوبیا اور آزادی اظہار رائے کی حدود پر بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔

اگرچہ سویڈن اور ڈنمارک سمیت یورپ کے کئی ایک ممالک میں گزشتہ کئی سالوں سے قرآن مجید نذر آتش کرنے اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سمیت مذہب اسلام کی توہین اور بے حرمتی کے واقعات گاہے بگاہے ہوتے رہے ہیں لیکن سویڈن میں پچھلے دو سالو ں سے دائیں بازو کی امیگریشن اور اسلام مخالف تنظیم نے قرآن مجید کے نسخوں کو نذرآتش کرنے کی باقاعدہ منظم مہم شروع کر رکھی ہے۔اگرچہ ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں بھی دائیں بازو کی جماعتیں امیگریشن اور اسلام مخالف پالیسی کو فروغ دے رہی ہیں لیکن پورے یورپ میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے عروج کی جھلک سویڈن میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔اگرچہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اسٹاک ہوم میں دوسری بار قرآن مجید نذر آتش کرنے سے سویڈن کی نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کی امیدوں کو ایک اور دھچکا لگا ہے لیکن "سویڈن ڈیموکریٹس "جیسی امیگریشن مخالف اور نسل پرست جماعت کا سویڈن کی موجودہ حکومت کا حصہ ہونے اور سویڈیش معاشرے میں "سٹرام کرس "جیسے بنیاد پرست دائیں بازو کے گروہوں کی بڑھتی مقبولیت کے باعث سویڈن میں مستقبل قریب میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا ممکن نہیں۔

 اگرچہ اسلاموفوبیا کی اصطلاح کے استعمال کا آغازفرانسیسی زبان میں 1910جب کہ انگریزی زبان میں 1923میں ہو گیا تھا لیکن بیسویں صدی کی اسی اور نوے کی ابتدائی دہائیوں میں اس کا استعمال بہت ہی کم رہا۔انگریزی زبان میں مستعمل لفظ (Islamophobia)  دنیا کی بیشتر زبانوں میں اسلام سے خوف اور دہشت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔11ستمبر2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد عالمی سطح پر کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔سانحہ نائن الیون کے بعد روایت پسند اسلامی جماعتوں کی جانب سے ردعمل کے طور پر اسلاموفوبیا کی اصطلاح کو فروغ دیا گیا۔

پاکستان میں اسلاموفوبیا کی اصطلاح کو مقبول عام کرنے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کردار اہم رہا۔  نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی مساجد پر دہشت گرد حملوں اور فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی عوامی تشہیر کے واقعات پر عمران خان نے نہ صرف ملکی سطح پر بل کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر بھی اسلامو فوبیا کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ کرائسٹ چرچ حملے کوپاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ساتھ کینیڈین وزیراعظم نے بھی اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیا۔گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلامی تعاون کی تنظیم کے ایما پر اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی پاکستان کی پیش کردہ قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت رواں برس15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف پہلا عالمی دن منایا گیا۔

 مغرب میں اسلاموفوبیا کوئی پچھلے پانچ دس سالوں میں سامنے نہیں آیا بلکہ یہ تو نوے کی دہائی سے قبل کاموجود ہے۔  البتہ نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک دائیں بازو کے سیاستدانوں اور شدت پسند مذہبی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے وقتافوقتا دئیے جانے والے بیانات نے مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا کو سنجیدہ خطرہ بنا نے میں اہم کردار اداکیا ہے۔یورپ میں مذہب اور ریاست کے الگ ہونے اور اظہار رائے پر کسی بھی قسم کی مذہبی قدغن نہ ہونے کی وجہ سے مذہب اور مذہبی شخصیات پر تنقید عام ہے لیکن مسلمان مذہب، خاص طور پر پیغمبر اسلام پر کسی بھی قسم کی تنقید وطنز سننے کو تیار نہیں۔یورپ والے ایسے واقعات پر مسلمانوں کی طرف سے آنے والے شدید جذباتی ردعمل کو عدم برداشت سے تعبیر کرتے ہیں جب کہ مسلمان اسے  اسلاموفوبیا قرار دیتے ہیں۔ کمزور معاشی حیثیت اور کوئی موثر سیاسی پلیٹ فارم نہ ہونے کے باعث مسلم ممالک مغرب کا نہ تو معاشی بائیکاٹ کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی بزور طاقت اسے اپنے معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کا حکم دے سکتے ہیں۔اسلامی ممالک کے پاس واحد آپشن یہی ہے کہ وہ افہام و تفہیم اور دلائل سے مغرب کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں کرتے رہیں کہ وہ ہولو کاسٹ کی طرح پیغمبر اسلام کے خلاف بھی کوئی منفی بات نہ کریں۔

سیموئل پی ہنٹنگٹن نے نوے کی دہائی کے آخر میں کہا تھا کہ اکیسویں صدی میں مغربی تہذیب کو سب سے بڑا خطرہ اسلامی اور چینی تہذیب سے ہوگا۔اس کے خیال میں مغربی تہذیب کی معاشی و ثقافتی اجارہ داری کو کمزور کرنے کے لئے اسلامی و چینی تہذیب میں تعاون بھی ہو سکتا ہے۔اسی طرح ان دونوں تہذیبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مغربی تہذیب ہندی تہذیب کا دامن تھام سکتی ہے۔یورپی ممالک میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ہنٹنگٹن نے لکھا تھا۔"مسلمان تارکین وطن کی مخالف یورپی پارٹیاں مسلمان ملکوں کی اسلام پسند پارٹیوں کا عکس ہیں۔اسلامی جماعتوں کی طرح یورپ کی دائیں بازو کی بیشتر  جماعتیں معاشی خدمات کا استعمال کرتی ہیں،نسلی اور مذہبی ترغیبات دیتی ہیں اور اپنے معاشروں پر خارجی اثرات پر نکتہ چینی کرتی ہیں۔

اسی کی دہائی میں امریکہ آنے والے تارکین وطن میں سے 35فیصد کا تعلق ایشیا، 45فیصد کا لاطینی امریکہ اور 15فیصد سے کم کا تعلق یورپ اور کینیڈا سے تھا۔امریکہ میں قدرتی افزائش آبادی کی شرح کم ہے جبکہ یورپ میں صٖٖفر۔اس کے مقابلے میں ترک وطن کرنے والوں میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ مغرب کے لوگوں میں خوف پیدا ہو رہا ہے کہ اب ان پر’حملہ‘  تو کیا گیا ہے لیکن فوجوں اور ٹینکوں سے نہیں بلکہ  ترک وطن کرنے والوں کی صورت میں جو مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف خداؤں کو مانتے ہیں، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔انہیں خوف ہے کہ یہ لوگ ان کے کاروبار پر قبضہ کر لیں گے، ویلفیئر سسٹم کو برباد کر دیں گے اور ان کے طرز حیات کو تباہ کر دیں گے۔

 یورپ میں سب سے زیادہ پریشانی مسلمان تارکین وطن کے حوالے سے ہے۔مسلمان اپنے میزبان ملکوں کی ثقافتوں میں ضم نہیں ہوئے ہیں اور یورپ والوں کو یہی پریشانی ہے کہ وہ ضم ہوتے دکھائی بھی نہیں دے رہے۔ "ہنٹنگٹن کے مطابق دیگر ثقافتوں کوجذب نہ کرنا یا دیگر ثقافتوں میں ضم ہونے کے خلاف مزاحمت اور غیر مسلم گروہوں سے اجنبیت اسلام کے تاریخی اوصاف ہیں۔

دیکھا جائے تو آج بھی مغربی و یورپی معاشروں میں آباد مسلمان تارکین وطن کا رویہ ایسا ہی ہے۔مغرب کے اخلاقی، سماجی اور خاندانی زوال کو دیکھتے ہوئے وہاں مقیم مسلمان خاندانوں کی اکثریت اپنے مذہب، ثقافت اور خاندانی نظام پر کاربند رہنے کی سعی کر رہی ہے۔مسلم تارکین وطن نہ صرف اپنی مذہبی اقدار، رسم ورواج اور ثقافت سے وابستہ ہیں بلکہ وہ اس کو پھیلانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ یورپی معاشروں کے قوم پرست سیاست دان اور مذہبی تنگ نظر اپنے ممالک میں بڑھتی ہوئی مساجد اور اسلام کے اثر ورسوخ سے سخت خوف زدہ ہیں۔ کرائسٹ چرچ مساجد حملوں کے پیچھے ایسی ہی سوچ کارفرما تھی۔