شبر زیدی کے الزامات اور عمران خان کا وزیر اعظم بننے کا خواب

تحریک انصاف کے دور  حکومت میں  ایک سال کے لگ بھگ ریوینیو بورڈ کے سربراہ رہنے والے شبر زیدی نے  دعویٰ کیا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت قائم رہتی تو اسے انتخابات میں پانچ فیصد ووٹ بھی نہ ملتے  کیوں کہ ملک ڈیفالٹ ہوچکا ہوتا۔  انہوں نے سابق وزیر اعظم پر معاشی  امور سے عدم دلچسپی کا الزام  بھی عائد کیا ہے۔ اس دوران  لاہور کے ایک تھانے میں   عمران خان کے خلاف سانحہ 9 مئی  کی جے آئی ٹی کو دھمکی دینے کا مقدمہ قائم  کیا گیا ہے۔

ملکی سیاسی تناظر میں یہ دونوں خبریں دو انتہاؤں کی اطلاع   دے رہی ہیں جس سے  معاملات سمجھنے اور ان کی سنگینی کا اندازہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ اگر حکومت تحریک انصاف کے بارے میں کسی نرمی یا خوشدلی کا مظاہرہ نہیں کررہی تو تحریک انصاف اور اس کے لیڈر عمران خان بھی  تصادم سے اجتناب کرنے اور سیاسی مفاہمت کا کوئی راستہ اختیار کرنے کا اشارہ دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔   گو کہ کچھ عرصہ پہلے تک عمران خان  بات چیت سے معاملات طے کرنے کی بات کرتے تھے لیکن  وہ مذاکرات کی دعوت فوج کو دیتے رہے ہیں اور آرمی چیف کو مخاطب کرکے واضح کرتے رہے ہیں کہ انہیں ان سے کوئی پریشانی نہیں ہے ، بس فوج موجودہ حکومت کی سرپرستی سے دست کش ہوجائے اور حسب سابق  تحریک انصاف کے ساتھ ایک پیج کی پالیسی پر عمل درآمد شروع کردے۔ عمران خان کی دلیل یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیوں کہ سارے اختیارات فوج کے ہاتھ  میں ہیں۔

عمران خان کی یہ دلیل   ان کے اس سابقہ مؤقف سے مختلف دکھائی دیتی ہے جس میں وہ  اس بنیاد پر موجودہ حکمران جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے یا مل بیٹھنے  سے انکار کرتے تھے  کہ وہ بدعنوان ہیں اور    صرف ناجائز  طور سے دولت کمانے کے لئے سیاست کرتے ہیں۔   بہر حال  عمران خان کی  طرف سے سیاسی مکالمہ سے انکار کی وجہ  کوئی بھی ہو، اس سخت گیر رویہ سے ملک میں سیاسی تناؤ میں شدید اضافہ ہؤا ہے۔ ابھی تک چونکہ عوامی رائے کے بارے میں کوئی واضح  اشارے موجود نہیں ہیں ، اس لئے عمران خان  امید لگائے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی مقبولیت کے بل بوتے  پر  انتخابات میں واضح برتری حاصل کرلیں گے اور ان کے مخالفین اور فوج منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ عمران خان اور ان کے حامیوں کے اندازے درست ہیں اور عمران خان کو اس قدر مقبولیت حاصل ہے کہ وہ سب مخالفین کو شکست فاش دے سکتے ہیں۔ ایسی کسی صورت حال کو کسی بھی جمہوری سیٹ اپ میں پریشان کن کی بجائے خوش کن کہنا چاہئے کہ عوام کسی اثر و رسوخ کے بغیر کسی لیڈر کی باتوں پر یقین  کرتے ہوئے اسے اقتدار میں لاسکتے ہیں۔  کیوں کہ اگر عوام  میں یہ شعور موجود  ہے کہ  ایک خاص مرحلے پر کون سی جماعت یا لیڈر ان کی ضروریات و خواہشات کے مطابق فیصلے کرنے اور امور مملکت چلانے کی پوزیشن میں ہے تو اگلے مرحلے پر یہی عوام  کسی دوسری پارٹی یا لیڈر کو بھی منتخب کرسکتے ہیں۔ اسی کو جمہوریت کہتے ہیں اور اسی طریقے سے ملک میں جمہوری روایت مستحکم ہوگی   اور عوام کی حکمرانی کا خواب پورا ہوگا۔

تاہم  عمران خان اگر اس گمان میں سرکاری افسروں کو دھمکائیں گے یا ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانے  کی کوشش کریں گے  کہ وہ بہر صورت وزیر اعظم بننے والے ہیں تو اسے بدترین کرپشن  کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ وہی الزام  ہے جو وہ مخالفین پر عائد کرتے ہوئے ان سے ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں کرتے۔  گزشتہ برسوں کے دوران ان سطور میں متعدد بار گزارش کی جاچکی ہے  کہ کرپشن کو ایک نعرہ بنانے کی بجائے ، اسے ہر شکل اور صورت میں ختم کرنے کا میکنزم تیار کرکے ہی پاکستان کو بدعنوانی سے پاک معاشرہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس شفاف اور صحت مند معاشرے کا پہلا اصول البتہ یہی ہوگا کہ کسی بھی شخص کو  اپنی حیثیت ، رتبے ، اختیار اور متوقع سیاسی کامیابی  کی بنیاد پر سرکاری افسروں و اہلکاروں کو دھمکانے اور اداروں کو دبانے کا  کام کرنے سے باز رہنا ہوگا۔  سانحہ 9 کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے پولیس کے پاس جو ایف آئی آر درج کروائی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ’  چیئرمین پی ٹی آئی کو تھانہ سرور روڈ  میں تفتیش کے لیے بلایا گیا تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے پیشی کے دوران انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے سربراہ عمران کشور اور دیگر ممبران کو دھمکایا۔  اور متنبہ کیا  کہ تحریک انصاف کی حکومت واپس آ رہی ہے، آپ سن لیں آپ نے رہنا نہیں ہے‘۔

عمران خان اس سے پہلے بھی درجنوں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں ۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس نئی ایف آئی آر کا ان کی سیاسی حیثیت یا ان کے قانونی معاملات پر کیا اثر مرتب ہوگا لیکن اس حوالے سے سیاسی طور سے چند باتوں پر غور کرنا بے حد ضروری  ہے۔  اول تو عمران خان کے طرز تکلم اور انداز گفتگو سے شناسا سب ہی لوگ اس بات کی  تصدیق کرسکتے ہیں کہ جے آئی ٹی کی کی طرف سے درج کروائی گئی شکایت میں مبالغہ نہیں ہوگا کیوں کہ سرکاری افسروں کو اس قسم کی دھمکیاں  تو وہ جلسوں میں بھی دیتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ اہم سوال  سامنے آتا ہے کہ کیا کسی بھی ملک میں اگر سیاسی لیڈر سرکاری افسروں کو  یوں دھمکیاں دیں گے  اور انتقام لینے کا عزم ظاہر کریں گے تو کیا کوئی بھی نظام شفافیت اور مساوات کی بناید پر کام کرسکتا ہے۔

عمران خان کے اس مؤقف کا احترام کیا جاسکتا ہے کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن جو سرکاری افسر کسی خاص واقعہ کی تحقیقات کے دوران ان سے پوچھ گچھ کرتے ہیں، ان کا ملکی سیاسی صورت حال اور کسی ایک لیڈر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ انتظامی طریقہ کار کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں سرکاری عہدوں پر فائز یا اس کی امید کرنے والے تمام سیاسی لیڈروں کو متوازن اور ہوشمندانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ سرکاری مشینری ضابطے اور  قواعد کے مطابق کام کرتی رہے ۔ اور اگر کسی سرکاری محکمے یا افسر نے کوئی زیادتی کی ہے تو   اس بارے میں انصاف  حاصل کرنے کے لئے عدالتوں سے رجوع کرلیا جائے۔  ایک خاص سیاسی مشکل مرحلے سے بدحواس ہوکر اگر سب سیاسی  لیڈر اپنے اپنے طور پر سرکاری افسروں کو دباؤ میں لائیں گے یا عمران خان اگر اس زعم میں خود کو قانون اور ضابطے سے بالا سمجھیں گے تو پھر ملک میں نظام مستحکم کرنے کا خواب کیسے پورا ہوگا؟ پھر تو جس کی لاٹھی ، اس کی بھینس والا معاملہ ہو ہوگا۔ عمران خان  سیاسی مقبولیت کے گمان میں جب تک اس غلط روش کو ترک نہیں کریں گے ، ان کے لئے سیاسی آسانیاں پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔

 سرکاری افسروں کو دھمکیاں دینے کی شکایت کو اگر  ایف بی  آر کے سابق چئیرمین شبر زیدی کے جیو ٹی وی کو دیے  گئے انٹرویو کے ساتھ ملاکر دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہوجاتی ہے۔  عمران خان نے  خاص طور سے شبر زیدی کو  وفاقی ریوینیو بورڈ کا چئیرمین بنایا تھا تاکہ وہ ملک  میں ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف  کارروائی کریں اور ٹیکس کی مد میں اضافہ کے اقدامات کریں۔ شبر زیدی ایک سال کے اندر ہی اس عہدہ سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس کے بعد سے وہ جستہ جستہ  اس دور میں ہونے والے تجربات کا ذکر کرتے رہتے ہیں تاہم آج نشر ہونے والے انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان  معاشی اصلاح اور ٹیکس آمدنی میں اضافہ   کی  تجاویز پر غور کرنے اور انہیں مؤثر بنانے کی بجائے مخالفین کی   کو کوتاہیوں کے بارے میں زیادہ  دلچسپی لیتے تھے۔   شبر زیدی نے کہا کہ ان سے نون لیگ کے اراکین کی ٹیکس  فائلیں مانگی جاتی تھیں۔ شہزاد اکبر ایک صوفے پر بیٹھ جاتے تھے،  وزیر اعظم عمران خان  انہیں بلاتے تھے اور کہتے  کہ ’شہزاد یہ کہہ رہا ہے، بتاؤ کیا کرنا ہے‘۔

9 مئی کئے بعد سیاسی خاموشی اختیار کرنے والے تحریک انصاف کے لیڈر اسد عمر نے  شبر زیدی کے الزامات پر رد عمل دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’ بھئی یہ کہانی کہاں سے آئی ہے‘؟ انہوں نے تحریک انصاف کے دور حکومت میں زرمبادلہ کی مقدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈیفالٹ کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔     ملک پر ایک سو ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔ اگر سال  ڈیڑھ سال کے دوران ان قرضوں  کی اقساط کرنے کی وجہ سے زر مبادلہ ذخائر کم ہوگئے تو اس سے موجودہ  حکومت کی نااہلی ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی اسے  سابقہ حکومت کی  اعلیٰ کارکردگی کا ثبوت کہا جاسکتا ہے۔ پھر اگر تحریک انصاف ہر دعوے پر ’کہانی کہاں سے آئی ہے‘ کا راگ الاپے گی تو اس سے  تصادم اور مشکلات کم نہیں ہوسکتیں۔

عمران خان کا رویہ اور شبر زیدی کے الزامات سے ایک ہی امر واضح ہوتا ہے کہ عمران خان نے  اقتدار کے دوران ملکی معاملات پر توجہ دینے کی بجائے  سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانا ضروری سمجھا۔ اب بھی اگر وہ اقتدار میں آکر اپنے اسی ’ادھورے مشن‘ کو پورا کرنے کا خواب دیکھتے ہیں تو انہیں یہ ضرور جان لینا چاہئے کہ اس  کا سب سے زیادہ نقصان  ان کی سیاست کو ہوگا۔ وہ  ایسی حرکتوں سے انہی ووٹروں کو مایوس کریں گے جن کی حمایت سے عمران خان ایک بار پھر وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھتے ہیں۔