آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے پر تحریک انصاف کے سینیٹرز کے خلاف کارروائی ہوگی
سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک ایوان بالا میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری میں ملوث اپنے سینیٹرز کے خلاف تحقیقات شروع کرے گی۔
ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی صدارت میں ایک کور کمیٹی اجلاس کے دوران سینیٹ میں ’آرمی ایکٹ کی منظوری کے عمل میں تحریک انصاف کے اراکین کے کردار کا بھرپور جائزہ لیا گیا۔‘
عمران خان نے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری میں تحریک انصاف کے اراکین کے کردار کی باضابطہ تحقیقات کی منظوری دی ہے۔ بیان کے مطابق سینیٹر شبلی فراز پر مشتمل ایک رکنی کمیشن معاملے کی جامع تحقیقات کرے گا اور ’بلا تاخیر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ چیئرمین تحریک انصاف کے ملاحظے کے لیے پیش کرے گا۔
شبلی فراز کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں پارٹی پالیسی سے انحراف کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
سینیٹ نے موجودہ حکومت کی طرف سے آرمی ایکٹ 1952 میں کی گئی ترامیم پر مبنی بِل کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ اس میں تجویز دی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص سرکاری حیثیت میں حاصل کی گئی ایسی معلومات، جو ملکی مفاد اور سلامتی کے لیے نقصان دہ بن سکتی ہوں، کو ظاہر کرتا ہے یا اسے ظاہر کرنے کا سبب بنتا ہے، اسے پانچ سال تک قید بامشقت کی سزا دی جا سکے گی۔
سینیٹ سے پاس ہونے والے اس بل میں دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ جو افسر دوران سروس ایسے عہدے پر فائز رہا ہو جو آرمی ایکٹ کے تحت آتا ہو اور جسے ’حساس‘ قرار دیا گیا ہے وہ اپنی ریٹائرمنٹ، یا مستعفی ہونے، یا پھر برطرفی کے پانچ سال مکمل ہونے تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔
ایوان کی معمول کی کارروائی کے برخلاف منظوری سے قبل اس بِل کو سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی میں غور و خوض کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ تاہم جب اس بل کو منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش کیا گیا تو تحریک انصاف کے سینیٹرز سمیت کسی بھی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد اب اس بل کو قومی اسمبلی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔