افغان پالیسی: غیر سیاسی سوچ کے قبرستانی ہیولے (1)

12 جولائی کی صبح بلوچستان کے شمال مشرقی ضلع ژوب میں مذہبی دہشت گردوں کے قابل نفرین حملے کی مزاحمت کرتے ہوئے نو فوجی جوانوں نے وطن پر جان نچھاور کر دی۔ اسی روز صوبے کے مشرقی ضلع سوئی میں ایک اور حملے میں تین جوان شہید ہوئے۔

دونوں واقعات میں 5 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے۔ رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں دہشت گرد کارروائیوں میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کل ملا کے 280 حملوں میں 500 سے زائد پاکستانی شہری شہید ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں دو نکات تشویش ناک ہیں۔ دہشت گرد فوجی اہداف اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کے باقاعدہ فوجی جوانوں اور دہشت گردوں میں اموات کا تناسب قریب قریب یکساں ہے۔ گویا اس غیر متناسب لڑائی میں دہشت گردوں کی لڑاکا صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے یہ ہمارے جوانوں کی بہادری کا معاملہ نہیں، فیصلہ سازوں کی ناقص پالیسیوں کا تاوان ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کبھی ہموار نہیں رہے۔ بہت پیچھے جائیے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کا سوال زیر غور تھا۔ پاکستان کے لیے مکمل رکنیت کی حمایت کرنے والا پہلا ملک بھارت تھا اور افغانستان نے سب سے آخر میں بادل نخواستہ پاکستان کے حق میں رائے دی تھی۔ اس قضیے کی جڑیں 19 ویں صدی میں روس اور برطانیہ کی نام نہاد گریٹ گیم سے ملتی ہیں۔ زار روس افغانستان میں پیش قدمی کر کے برطانوی ہند کی سرحد تک پہنچنا چاہتا تھا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے وائسرائے ہند نے Mortimer Durand نامی سفارت کار کو افغانستان بھیجا۔ طویل مذاکرات کے بعد برطانوی ہند اور امیر افغانستان عبدالرحمن خان میں ڈیورنڈ لائن کے نام سے 1893 میں سرحدی حد بندی طے پا گئی اور روس کو بتا دیا گیا کہ اس سرحد کی خلاف ورزی کو براہ راست برطانیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

 1947 میں تقسیم ہند کے بعد ڈیورنڈ لائن پاکستان کے حصے میں آئی اور اقوام عالم نے اسے پاکستان کی بین الاقوامی سرحد تسلیم کیا۔ تاہم افغانستان کا موقف تھا کہ برطانوی راج کے ختم ہونے کے بعد ڈیورنڈ لائن کی قانونی حیثیت ختم ہو گئی ہے اور پاکستان میں پختون علاقوں پر افغانستان کا حق دعویٰ موجود ہے۔ افغانستان کا یہ یک طرفہ موقف کبھی بین الاقوامی پذیرائی حاصل نہیں کر پایا۔ افغانستان کو سمندر تک رسائی کے لیے پاکستان کی ضرورت پڑتی ہے۔ دوسری طرف سرحد کے دونوں جانب موجود افغان قبائل میں تاریخی، ثقافتی اور معاشی روابط موجود رہے ہیں۔ چنانچہ جون 1947 میں پختون قبائل نے بنوں قرارداد کے ذریعے آزاد پختونستان کا مطالبہ کیا تاہم کلیمنٹ ایٹلی کی لیبر حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ صوبہ سرحد میں کانگرس اور سرخ پوش تحریک کی مخلوط حکومت کے باعث صوبائی اسمبلی میں پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور ہونا مشکل تھا۔ اس مسلم اکثریتی منطقے کا مجوزہ بھارتی یونین سے جغرافیائی اتصال بھی موجود نہیں تھا چنانچہ صوبہ سرحد میں استصواب رائے منعقد ہوا جس میں مسلم لیگ کو واضح برتری حاصل ہوئی۔

اس پیچیدہ صورت حال میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سرد جنگ کی حرکیات بھی شامل ہو گئی۔ بھارت، قوم پرست پختون عناصر اور سوویت یونین میں مفادات کا نامیاتی تعلق موجود تھا جبکہ پاکستان نے واضح طور پر مغربی بلاک میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ سرد جنگ میں سرمایہ دار دنیا کے بیانیے میں مذہب کے نام پر سیاست بھی شامل تھی چنانچہ پاکستان کی ریاست اور قوم پرست سیکولر پختون آبادی میں تناﺅ پیدا ہو گیا۔ 1971 میں بنگلہ دیش الگ ہونے کے بعد بچے کھچے پاکستان میں علیحدگی پسند عناصر کا خوف بڑھ گیا۔ 1973 میں بلوچستان پر فوج کشی سے حالات مزید مخدوش ہو گئے۔ پاکستان میں وفاق کی اکائیوں پر اعتماد کی بجائے اسی مذہبی سیاست پر تکیہ کیا گیا جو مشرقی اور مغربی پاکستان کو متحد رکھنے میں ناکام رہی تھی۔ جارج بش کے مشیر پیٹر ٹامسن کے مطابق گل بدین حکمت یار 60 ءکی دہائی کے اواخر میں بھی امریکی ایجنٹ تھا اور ہر ماہ اپنا بھتہ وصول کرنے اسلام آباد آتا تھا۔ افغانستان، پاکستان کے انتہا پسند پختون قوم پرستوں کی سرپرستی کر رہا تھا تو پاکستان بھی سرکاری ہیلی کاپٹروں میں حکمت یار، ربانی اور سیاف جیسے عناصر کو اپنے ہاں لا کر تربیت دے رہا تھا۔ اس کے باوجود اگست 1976 میں سردار داﺅ د پاکستان آئے تو انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم بیس برس بعد پاکستان کی پروردہ طالبان حکومت نے یہ کہہ کر ڈیورنڈ لائن کو ماننے سے انکار کر دیا کہ مسلمان ممالک کے درمیان سرحدوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ البتہ طالبان نے بین الاقوامی سرحدوں کے تعین میں ایران سے اس اسلامی رشتے کا تذکرہ نہیں کیا۔

جولائی 1977 میں ضیا الحق کو ہر فوجی آمر کی طرح دو بنیادی سوالات کا سامنا تھا۔ اپنی حکومت کا قانونی جواز اور اپنی آمریت کی تاحد نگاہ طوالت۔ جسٹس انوار الحق کو چیف جسٹس مقرر کر کے ضیا الحق نے پہلا ہدف تو حاصل کر لیا لیکن بیرونی دنیا میں اپنی حیثیت تسلیم کروانا کار دارد تھا۔ 25 دسمبر 1979 کو سوویت یونین نے افغانستان میں تین ڈویژن فوج اتاری تو ضیا الحق کو امید کی کرن نظر آئی۔ جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر bigniew Brzezinski نے 12 مئی 1979 کو امریکی صدر کے نام ایک یادداشت میں لکھا کہ سوویت یونین پاکستان کے راستے بحیرہ ہند کے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے۔ یہ رائے حقائق کے قطعی منافی تھی کیونکہ پہلی عالمی جنگ کے دوران روس اپنے شمال مشرقی شہر Murmansk کی بندرگاہ تعمیر کر چکا تھا جو سارا سال جہاز رانی کے لیے دستیاب تھی۔ Brzezinski کی یہ رائے پاکستان میں جنرل جیلانی، جنرل فضل حق اور جنرل مجیب الرحمن جیسے طالع آزما کرداروں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئی۔ خود ضیا الحق نے گرم پانیوں تک پہنچنے کے از کار رفتہ نظریے کو اس تواتر سے دہرایا گویا لیونڈ بریژنیف کراچی کے ساحل پر گرم پانیوں میں حمام کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

انیسویں صدی کے دوران روس اور برطانیہ کی ’گریٹ گیم‘ کے تناظر میں بحیرہ ہند کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا مفروضہ روسی ہدف بیسویں صدی میں سرد جنگ کے دوران غیر متعلقہ ہو چکا تھا۔ زار شاہی کے آخری برسوں میں تعمیر ہونے والی Murmansk  کی بندرگاہ بھی اس زاویے سے غیر اہم ہو چکی تھی کہ سوویت بحریہ کے پاس ایسے نیوکلیئر جہاز موجود تھے جو برفانی منطقوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ سمندر تک رسائی سے محروم افغانستان 1974 میں 83 ترقی پذیر ممالک میں 73 ویں درجے پر آتا تھا۔ کل سوا کروڑ آبادی پر مشتمل ملک میں فی کس آمدنی 70 ڈالر تھی۔ خطے میں ایران اور پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کی موجودگی میں امریکا کے لئے افغانستان کی اہمیت نہ ہونے کے برابر تھی اگرچہ وہاں نور محمد ترکئی (خلق پارٹی) اور ببرک کارمل (پرچم پارٹی) کی صورت میں سوویت رسوخ موجود تھا۔ 1953 میں سی آئی اے کی سرگرم مداخلت سے ڈاکٹر مصدق کو معزول کر کے امریکا نے ایران میں زبردست اثر و نفوذ پیدا کر لیا تھا۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں مغربی پاکستان کو ناقابل رشک صورت حال سے بچانے میں امریکی کردار نے بھی خطے میں ممکنہ کمیونسٹ اثرات کی موثر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ تاہم امریکی دست نگری کے باوجود بھٹو حکومت کی سوویت یونین سے متوازن تعلقات کی خواہش امریکا کے لئے خوشگوار نہیں تھی۔

فروری 1979 میں ایرانی انقلاب نے خطے کی حرکیات کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ ایران میں امریکا مخالف رجعت پسند ملاﺅں کی حکومت کا قیام مشرق وسطیٰ کے جنوب میں آبنائے ہرمز کی اہم گزرگاہ پر امریکی اثر و نفوذ کا خاتمہ تھا۔ ایک اضافی زاویہ یہ تھا کہ سوویت حکومت نے افغان پرچم پارٹی کے سربراہ ببرک کارمل کو چیکوسلاواکیہ میں پناہ دے رکھی تھی چنانچہ بریژنیف حکومت کو خدشہ تھا کہ حفیظ اللہ امین کی قیادت میں خلق پارٹی امریکا کے کیمپ میں جانے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے روسی حکومت نے دسمبر 1979 میں حفیظ اللہ امین کو قتل کر کے ببرک کارمل کو کابل حکومت سونپ دی نیز کارمل حکومت کی حفاظت کے لئے ایک لاکھ روسی فوجی افغانستان روانہ کر دیے۔

باہم متصادم مفادات کے اس کھیل میں پاکستانی آمر جنرل ضیا الحق کے اقتدار سنبھالنے سے امریکی حکمت عملی کے بہت سے پیچ و خم  ہموار ہو گئے۔ 2014 میں سی آئی اے کے سابق سینیئر اہلکار بروس ریڈل نے اپنی کتاب What We Won: America’s Secret War in Afghanistan  کی تقریب رونمائی میں کہا تھا کہ افغانستان میں سوویت مزاحمت کو چارلی ولسن کی جنگ سمجھنا تاریخ کی غلط تفہیم ہے۔ اس جنگ کا بنیادی کردار پاکستانی صدر ضیا الحق تھا جو لامذہب کمیونسٹوں سے جنگ کر کے انہیں افغانستان سے نکالنا اپنے عقیدے کا حصہ سمجھتا تھا۔ اس لڑائی میں سعودی عرب نے ہر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک ڈالر کی مدد دی۔ ایک موقع پر تو افغان مجاہدین کے لئے سعودی عرب کی نجی ذرائع سے جمع شدہ مالی مدد ماہانہ دو کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔‘ ریڈل نے مزید کہا کہ ’سی آئی اے کبھی افغانستان میں داخل نہیں ہوئی اور نہ اس نے کسی کو تربیت دی۔ چنانچہ اس لڑائی میں امریکا کو کسی جانی نقصان کا امکان نہیں تھا۔ البتہ افغان اور پاکستانی شہری براہ راست خطرے کی زد میں تھے۔ ایک اہم اجلاس میں سی آئی اے کے عہدیدار نے صاف کہا کہ ’ہم افغانستان کی صورت میں سوویت یونین کے لئے تارکول کی ایک گڑیا تیار کریں گے۔ روس جتنے جوش سے اس گڑیا پر جھپٹے گا، وہ اس سیال دلدل میں دھنستا چلا جائے گا‘۔ اس ضمن میں دنیا کو یہ باور کرانا ضروری تھا کہ افغانستان میں روس کی موجودگی سے پاکستان اور ایران کی سلامتی کو براہ راست خطرات لاحق ہیں۔ اسی مفروضے سے گرم پانیوں تک رسائی کی داستان گھڑی گئی۔

ریڈل نے یہ کہنا مناسب نہیں سمجھا کہ ضیا الحق محض ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہی نہیں تھا۔ ایک کایاں آمر کی طرح اسے اپنی جیب کی بھی فکر تھی۔ کارٹر حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر افغانستان میں خفیہ کارروائی کے منصوبے کو آپریشن سائیکلون کا نام دیا تھا۔ جمی کارٹر نے 3 جولائی 1979 کو آپریشن سائیکلون کے لئے پراپیگنڈے کی مد میں 695000 ڈالر کی امداد پر دستخط کرتے ہوئے مزید 400 ملین ڈالر مدد کا عندیہ دیا تھا جسے ضیا الحق نے استہزائیہ انداز میں مونگ پھلی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ جنوری 1980 میں ریگن حکومت نے یہ امداد 20 سے 30 ملین ڈالر سالانہ تک بڑھا دی۔ 1987 تک اس مدد کا حجم 630 ملین ڈالر سالانہ ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ امریکا نے افغان جنگ کے بدلے میں پاکستان کو معاشی اور عسکری مد کے ضمن میں دو مرحلوں میں بھاری امداد دی۔ 1981۔ 87 تک 3.2 ارب ڈالر کا معاہدہ تھا جب کہ 1987۔ 93 کے چھ برسوں میں 4.2 ارب ڈالر امداد ملنا قرار پائی۔

سوویت مزاحمت کے بدلے امریکا، سعودی عرب اور چین سمیت دیگر ممالک سے پاکستان کو ملنے والی کل مدد کا تخمینہ 6 سے 8 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں کراچی بندرگاہ پر پہنچنے والے اسلحے میں خردبرد نے پاکستان کے ترقی یافتہ ترین شہر ہی کو مقتل میں نہیں بدلا، دنیا بھر سے آنے والے مجاہدین اور اندرون ملک مذہب پسند گروہوں کی کھلی سرپرستی نے پاکستانی سیاست، معیشت اور معاشرت کے خد و خال ہی بدل ڈالے۔ 1980 میں پاکستان میں مذہبی مدارس کی کل تعداد 300 تھی۔ 2021 ءمیں ان مدارس کی تعداد 35000 سے تجاوز کر چکی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں تطہیر اور تلقین کے نتیجے میں دو ایسی نسلیں پروان چڑھ چکی تھیں جو تعلیم کے نام پر نیم خواندہ، ذہنی طور پر مفلوج اور تخلیقی سطح پر بانجھ تھیں۔ (جاری ہے )

(بشکریہ: ہم سب لاہور)