راجہ ریاض بھی نہ ہوتا تو آپ کیا کر لیتے؟
- تحریر وسعت اللہ خان
- سوموار 31 / جولائی / 2023
قومی اسمبلی نو اگست کو ٹوٹتی ہے کہ 11 یا 12 اگست کو۔ ہمیں قطعاً دلچسپی نہیں۔ انتظار ہے تو اس بات کا کہ قومی اسمبلی میں 20 رکنی اپوزیشن کے قائد راجہ ریاض احمد خان اگلے دو روز میں کیا فیصلہ کرتے ہیں؟
ہمیں بھی راجہ صاحب کی طرح شدت سے انتظار ہے کہ یکم اگست کو وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قائدِ حزبِ اختلاف کی ممکنہ اہم ترین ملاقات میں نگراں وزیرِ اعظم کے نام پر اتفاق ہوتا ہے کہ نہیں۔ آئینی طریقے کے مطابق وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف تین تین نام پیش کریں گے۔ جس نام پر میاں صاحب اور راجہ صاحب میں اتفاق ہو گا وہی خالی کرسی پر بیٹھے گا۔
اگر ناموں پر ڈیڈ لاک ہو گیا تو پھر ایک اور آئینی بحران جنم لے سکتا ہے۔ چنانچہ ملک کا اگر کوئی آئینی و جمہوری مستقبل ہے بھی تو اس وقت راجہ صاحب فیصل آبادی کے ہاتھ میں ہے۔ راجہ ریاض 1993 سے پارلیمانی سیاست میں منجھ رہے ہیں۔ 2016 تک وہ پیپلز پارٹی کے جیالے تھے۔ انہوں نے شہباز شریف کے ساتھ پنجاب کی مخلوط حکومت میں بطور وزیرِ آبپاشی بھی کام کیا۔
پیپلز پارٹی میں ڈھائی عشرے گزارنے کے بعد ایک دن پارٹی قیادت سے آپ کے اصولی اختلافات ہو گئے۔ چنانچہ 2018 میں آپ نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا اور وزارتِ پٹرولیم کے پارلیمانی سیکریٹری نامزد ہوئے۔
مارچ 2022 میں آپ کے عمران خان سے بھی اصولی اختلافات ہو گئے۔ جب عمران خان کے استعفی کے بعد پی ٹی آئی کی پارلیمانی اکثریت بھی قومی اسمبلی سے نکل گئی تو یہ راجہ صاحب ہی تھے جنہوں نے اس جذباتی فیصلے کی مخالفت کی اور 19 دیگر پی ٹی آئی ارکان کو مستعفی نہ ہونے پر آمادہ کر لیا اور جمہوریت کی بقا کی خاطر اسمبلی کے اندر رہ کر آمرانہ سوچ اور موقع پرستی کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ راجہ جی کو بادلِ نخواستہ شاہ محمود قریشی کی جگہ قائد حزبِ اختلاف مقرر ہونا پڑا۔ اس حیثیت میں انہوں نے مخلوط حکومت کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔ آپ نے یہ تک ببانگِ دہل کہا کہ اگر مجھے جمہوریت کی بقا کے لیے نون لیگ کے ٹکٹ پر بھی کبھی الیکشن لڑنا پڑا تو دریغ نہیں کروں گا۔ حال ہی میں راجہ صاحب نے بطور نگراں وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کے نام کی پھلجھڑی چھوڑے جانے پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ چنانچہ نونیوں کو اپنا غبارہ واپس اتارنا پڑ گیا۔
اس ردِعمل کے بعد سے حکمران جماعت بھی محتاط نظر آ رہی ہے اور اس کی نگاہیں بھی ہماری طرح یکم اگست کو ’دو بڑوں‘ کی مجوزہ ملاقات پر گڑی ہیں۔
ویسے بھی جس طرح کا پارلیمانی ڈھانچہ اس وقت ہمارے ملک میں کام کر رہا ہے ۔ اس کے معیار پر نہ راجہ صاحب کو اور نہ ہی ہم جیسے مبصرین کو کوئی ٹینشن ہے۔ اور ٹینشن ہو بھی کیوں؟
مثلاً شمالی کوریا کے بارے میں کم و بیش سب کو مغالطہ ہے کہ یہ کوئی یک جماعتی خاندانی آمریت ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں ووٹرز دو معروف سیاسی خاندانوں کو چاہتے ہیں۔ ان سے کئی گنا محبت شمالی کوریا کے عوام کم ال سنگ کے خاندان سے کرتے ہیں ۔اسی لیے وہاں اب آلِ کم کی چوتھی پیڑھی برسرِ اقتدار ہے۔
جو لوگ شمالی کوریا کو دنیا کی پہلی کیمونسٹ بادشاہت ہونے کا طعنہ دیتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ 75 برس سے ہردلعزیز کورین ورکرز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود شمالی کوریا ایک کثیر الجماعتی ریاست ہے۔ اس کی پارلیمنٹ میں ڈیموکریٹک فرنٹ کے علاوہ سوشلسٹ پیٹریاٹک یوتھ لیگ، ویمن لیگ، لیبر لیگ اور کسان لیگ سمیت پوری پانچ اپوزیشن جماعتیں ہیں۔
مگر یہ اپوزیشن ہماری طرح بات بے بات مخالفت اور بال کی کھال نکالنے پر یقین نہیں رکھتی۔ جب کبھی بھی ملکی مفاد میں حکمران پارٹی سے اختلاف کا موقع آئے گا اپوزیشن مافی الضمیر بیان کرنے سے ہرگز نہیں چوکے گی۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )