شہریوں کے ملٹری ٹرائل میں فل کورٹ تشکیل دینے کا فیصلہ محفوظ
فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا جوکہ کل سنایا جائے گا۔
چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بینچ نے عام شہریوں کے ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصل صدیقی صاحب نے ملٹری کورٹس کے معاملے پر فل کورٹ کا مطالبہ کیا ہے، ہم جواد ایس خواجہ کے وکیل کو سنیں گے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ’پک اینڈ چوز‘ کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا، اگر انکوائری ہوئی تو ریکارڈ پر کیوں نہیں؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’پک اینڈ چوز‘ نہیں کیا۔ بہت احتیاط برتی گئی، جو لوگ براہ راست ملوث تھے انہیں ہی ملٹری کورٹس بھیجا گیا۔ کور کمانڈر ہاؤس میں جو لوگ داخل ہوئے انہیں ملٹری کورٹس بھیجا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی فورم پر مواد ہوگا تو پتا چلے گا کہ آپ کا دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کا سوال ہے کہ دیگر افراد کو کیوں چھوڑا۔ بہت سے لوگ ملوث تھے لیکن شواہد کی روشنی میں افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل نے فوج کی تحویل میں موجود 9 مئی کے واقعات میں ملوث 102 ملزمان کی فہرست عدالت میں پیش کردی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ زیر حراست 7 ملزمان جی ایچ کیو حملے میں ملوث ہیں، 4 ملزمان نے آرمی انسٹی ٹیوٹ پر حملہ کیا، 28 ملزمان نے کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں حملہ کیا، 5 ملزمان ملتان، 10 ملزمان گوجرانوالہ گریژن حملے میں ملوث ہیں، 8 ملزمان آئی ایس آئی آفس فیصل آباد، 5 ملزمان پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث ہیں، 14 ملزمان چکدرہ حملے میں ملوث ہیں، 7 ملزمان نے پنجاب رجمنٹ سینٹر مردان میں حملہ کیا، 3 ملزمان ایبٹ آباد، 10 ملزمان بنوں گریژن حملے میں ملوث ہیں، ایک ملزم آئی ایس آئی حمزہ کیمپ حملے میں ملوث ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زیر حراست ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی کیمرے اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کی گئی، فوجی ٹرائل کا سامنا کرنے والے زیر حراست افراد سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی ہے، تحریری جواب میں پورا چارٹ ہے کہ کتنی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، صرف 102 افراد کو گرفتار کیا گیا، بہت احتیاط برتی ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یعنی حکومت ان 102 افراد کا حکومت کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے؟
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ مجسٹریٹ کے آرڈر میں ملزمان کو ملٹری کورٹس بھجینے کی وجوہات کا ذکر نہیں ہے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ بظاہر لگتا ہے ملزمان کے خلاف مواد کے نام پر صرف فوٹو گراف ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ وکیل فیصل صدیقی نے ایک درخواست اپنے مؤکل کی طرف سے فل کورٹ کی دی ہے، ہم پہلے فیصل صدیقی کو سن لیتے ہیں۔ فیصل صدیقی نے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی درخواست پر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بینچ پر جو اعتراضات اٹھائے گے اس سے ہماری درخواست کا تعلق نہیں ہے۔ پہلے میں واضح کروں گا کہ ہماری درخواست الگ ہے۔
ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کی 3 وجوہات بیان کیں، فوجی آمر پرویز مشرف بھی فل کورٹ فیصلے کی مخالفت نہ کر سکا۔ جسٹس منصور علی شاہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی فل کورٹ تشکیل دینے کی بات کی۔ اٹارنی جنرل بتا چکے ہیں کہ کسی شخص کو سزائے موت یا عمر قید نہیں ہو گی، اٹارنی جنرل یقین دہانی بھی کروا چکے ہیں کہ عدالت کے علم میں لائے بغیر ملٹری ٹرائل شروع نہیں ہو گا۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاست دانوں اور وزرا کی جانب سے عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہیے، فل کورٹ کا بنایا جانا ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں۔ اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب ایف بی علی کیس میں ہے۔ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ اگر ایک جج کیس سننے سے انکار کرے تو اسے وہ کیس سننے کا نہیں کہا جاسکتا ہے، عدالتی تاریخ میں ملٹری کورٹس کیسز فل کورٹ نے ہی سنے ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ جن 3 ججز کی آپ بات کر رہے ہیں انہوں نے ملٹری کورٹس کیس سننے سے انکار نہیں کیا، جواب میں فیصل صدیقی نے کہا کہ جس انداز میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا حل نکالنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ کے لیے یہ پہلی درخواست آئی ہے، ہم باقی درخواست گزاروں کا مؤقف بھی سننا چاہتے ہیں۔
دوران سماعت درخواست گزار اعتزاز احسن روسٹرم پر آگئے اور عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ سب میرے لیے حیران کن ہے کہ اس مرحلے پر آکر بینچ کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا۔ ہم سپریم کورٹ کی تکریم کے لیے جیلوں میں گئے، ہمیں اس بینچ پر مکمل اعتماد ہے۔ عدالت نے تمام دستیاب ججوں کو بینچ میں شامل کیا تھا، 2 ججوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ ایک طرح کا فل کورٹ بینچ ہی ہے۔
سپریم کورٹ نے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستوں کو سننے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپس میں مشاورت کے بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔ اگر کیس میں جلد کسی رائے پر آجاتے ہیں تو 15 منٹ میں آگاہ کردیا جائے گا، اگر فیصلہ میں تاخیر ہوئی تو وکلا کو آگاہ کردیا جائے گا۔ بعد ازاں کورٹ ایسوسی ایٹ کی جانب سے جاری اعلان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ محفوظ فیصلہ کل سنائے گی، اعلان کا وقت بعد میں ہو گا۔