توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم، گواہوں کی فہرست مسترد

  • بدھ 02 / اگست / 2023

اسلام آباد کی ایک عدالت نے توشہ خانہ کیس  میں چیئرمین پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرتے ہوئے ان کے تجویز کردہ تمام گواہوں کو غیر متعلقہ قرار دیا ہے۔ اس بارے میں الیکشن کمیشن کی استدعا کی تھی جو منظور کرلی گئی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے 4 گواہان کی فہرست عدالت میں پیش کی جن میں ٹیکس کنسلٹنٹ محمد عثمان علی، سینئیر مینجر قدیر احمد، آئی ٹی پی کے سینئیر مینجر نوید فرید اور پی ٹی آئی کے رؤف حسن شامل تھے۔

وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز ایڈووکیٹ نے اعتراض کیا کہ یہ غیر متعلقہ گواہ ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کی گواہ طلبی کی درخواست مسترد کردی اور ان کے تمام 4 گواہوں کو غیر متعلقہ قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم گواہوں کے کیس سے متعلقہ ہونے کو ثابت نہیں کرسکے۔ آج جمع کروائی گئی فہرست میں ٹیکس کنسلٹنٹ اور ایک اکاؤنٹنٹ شامل ہیں۔ وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق یہ غیر متعلقہ گواہ ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے عدالت سے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مؤکل کے اکاؤنٹ کی اسٹیٹمنٹ عدالت کے سامنے پیش نہیں کی بلکہ فوٹو کاپی اسٹیٹمنٹ دی گئی ہے۔ تھوڑا رحم کریں آپ ہی میرے حقوق کے امین ہیں، لیول پلینگ فیلڈ دیں، انصاف کی توقع ہے۔

جج ہمایوں دلاور نے فریقین کو مقدمے میں کل حتمی دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کل فریقین حتمی دلائل نہیں دیتے تو فیصلہ محفوظ کر لیا جائے گا۔  کیس کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

اس دوران سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی توشہ خانہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نےچیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی تھی، پھر بھی ہم نے سنا اور حکم دیا۔ ہم صورتِ حال کو سمجھ رہے ہیں، ہم نے سمجھا تھا ہائی کورٹ آپ کو بہتر آرڈر دے گی۔ پہلے ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں پھر سپریم کورٹ میں کیس لگالیں گے۔ ممکن ہے کل ہائی کورٹ ٹرائل ہی روکنے کا حکم دے دے۔ ہائی کورٹ سے آرڈر آنے کے بعد کیس کو سماعت کے لیے مقررکریں گے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریلیف دے دیا تھا۔ مزید کیا چاہتے ہیں؟ جو ریلیف آپ نے مانگا وہ ہم نے دے دیا تھا۔ حیرت ہے آپ نے پھر بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس کل ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہے۔ اصل سوال دائرہ اختیار کا ہے۔ ٹرائل کورٹ میں سیکشن 342 کا بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔ ٹرائل کورٹ نے آج ہی گواہان کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے کہا ہے کہ اگر آج گواہان کی فہرست نہ دی تو ٹرائل مکمل ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز کے فیصلے تک ٹرائل روکنے کا حکم دے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے حکم امتناع کی درخواست کی ہی نہیں ہے۔ بہتر ہو گا کہ آپ ابھی سوچ لیں اور حکم امتناع کی درخواست دائر کر دیں۔ ممکن ہے جو ریلیف ہم سے چاہ رہے ہیں اس سے اچھا حکم ہائی کورٹ سے آ جائے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 4 اگست تک ملتوی کر دی۔