رضوانہ تشدد کیس، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 02 / اگست / 2023
ہمارے ہاں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں آئے روز کا معمول ہیں لیکن میڈیا و سول سوسائٹی اورحکومت وریاست صرف اس وقت تھوڑا بہت حرکت میں آتے ہیں جب بچوں سے زیادتی یا گھریلو تشدد کا کوئی انتہا ئی سنگین واقعہ رونما ہوجاتاہے۔
ایک ہفتہ قبل اسلام آباد کے سول جج کی اہلیہ کے ہاتھوں مبینہ تشدد کا شکار ہونے والی کم سن رضوانہ کا کیس بھی ان معدودے چند کیسوں میں سے ایک ہے جس نے میڈیا و سول سوسائٹی اور عوام اور حکومت سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر سول جج عاصم حفیظ بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔جج عاصم حفیظ کے مطابق" ان کی اہلیہ سخت مزاج ضرور ہیں لیکن انہوں نے بچی پر تشدد نہیں کیا، میڈیا ہر لمحے مجھے اور میرے خاندان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، میڈیا ٹرائل سے بہتر ہے کہ ہمیں ذبح کر دیا جائے۔" فاضل جج نے اعتراف تو کیا ہے لیکن ادھورا، سچ تو بولا ہے لیکن آدھا۔ پورا سچ یہی ہے کہ کم سن رضوانہ جج صاحب کی سخت مزاج بل کہ ذہنی عوارض کا شکار اہلیہ کے ہاتھوں لمبے عرصے سے تشدد کاشکار رہی ہے۔میڈیکل رپورٹس کے مطابق بچی کے سر پر گہرے زخم تھے جس میں کیڑے پڑ چکے تھے۔سر کے علاوہ بھی بچی کے جسم پر ایک درجن سے زائد جگہوں پر زخموں کے نشانات تھے اور اس کے دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے۔
ڈاکٹرز کے مطابق زخم بہت پرانے ہیں جس کی وجہ سے رضوانہ کے خون میں انفیکشن پھیل گیا ہے۔پھیپھڑوں میں شدید انفکیشن کی کی وجہ سے رضوانہ کو ابھی تک آکسیجن پر رکھا گیا ہے۔ میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں اس کیس میں چند نئی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جن میں وحشیانہ تشدد کر کے اعضاء توڑنے کی دفعہ 328اے بھی لگائی گئی ہے جس کے بعد مزید ضمانت ملنا مشکل ہے تاہم تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق جج کی بیوی کو عدالت نے سات اگست تک عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔عدالت میں جج صاحب کی ہلیہ نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے رضوانہ پر کبھی تشدد نہیں کیا اور وہ اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تفتیشی افسر کے سامنے تفصیلی بیان دوں گی۔عبوری ضمانت کی استدعا کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے انہیں اگر اس کیس میں گرفتار کیا تو ان کی عزت ووقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
تلخ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان میں قانون صرف غریبوں اور بے کسوں پر نافذ ہوتا ہے اور انصاف تک رسائی صرف امراء اور حکمران اشرافیہ کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔میڈیکل رپورٹس صاف بتا رہی ہیں کہ بچی کے زخم کافی پرانے ہیں لیکن فاضل جج اور ان کی اہلیہ تشدد سے صاف انکاری ہیں۔اگر رضوانہ کے والدین نے لالچ یا کسی اور مقصد کے حصول کے لیے رضوانہ کو خود زخم لگائے ہوتے تو میڈیکل رپورٹس میں واضح ہو جاتا۔اس حوالے سے ابھی تک جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق رضوانہ کے والدین(جو کہ سرگودھا کے رہائشی ہیں) نے اپنے کسی جاننے والے کی وساطت سے اسلام آباد کے سول جج عاصم حفیظ کے گھر کام کے لیے رکھوایا تھا۔رپورٹس کے مطابق رضوانہ کی عمر پندرہ سال سے کم ہے۔اس مہنگائی کے دور میں فاضل جج نے صرف دس ہزار ماہوار پر رضوانہ کو چوبیس گھنٹوں کے لیے ملازم رکھا ہوا تھا۔یقینی طور پر فاضل جج صاحب کے علم میں ہوگا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں 15سال سے کم عمر بچوں کو گھروں میں ملازم رکھنا جرم ہے لیکن بات وہی کہ مملکت خداداد پاکستان میں قانون صرف غریبوں کے لیے بنتے ہیں۔
رضوانہ تشدد کیس سے پہلے بھی ججز، سرکاری افسران حتی کہ سیاستدانوں کے گھروں میں بھی کم سن بچوں کے ساتھ بہیمانہ تشدد کے متعدد واقعات رپورٹس ہو چکے ہیں جب کہ رپورٹس نہ ہونے والے واقعات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اندازہ کریں کہ گھریلو بچہ مزدوری کے خلاف بننے والے قوانین سیاستدان ہی بناتے ہیں اور ججز روزانہ کی بنیاد پر عدالتوں میں ایسے کیسز نمٹاتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود سیاست دانوں اور ججز کے گھر میں نہ صرف کم سن بچوں کو گھریلو ملازم رکھا جاتا ہے بل کہ گاہے بگاہے ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و جبر کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔سیاست دانوں، اعلی سرکاری افسران اور ججز کے گھروں میں پیش آنے والے ایسے بیشتر واقعات کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا تاہم 2016کے آخر میں سامنے آنے والے طیبہ تشدد کیس میں ایڈیشنل سیشن جج اور ان کی اہلیہ کو ایک ایک سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ طیبہ تشدد کیس کا چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سوا کروڑ کے قریب بچے مختلف اقسام کی چائلڈ لیبر میں کسی نہ کسی طرح سے پھنسے ہوئے ہیں جن میں 70لاکھ کے قریب بچوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے اور ان70لاکھ بچوں میں سے 40لاکھ بچے پندرہ سال سے کم عمر ہیں۔پاکستان میں چائلڈ لیبر پر مجبور بچوں کی ایک بڑی تعداد گھریلو بچہ مزدوروں کی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں خواتین اور بچوں سمیت 85لاکھ سے زائد افراد گھریلو مزدوری کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں گھریلو ملازمین ایکٹ2019 بھی موجود ہے جس کے تحت 15سال سے کم عمر بچوں کو گھریلوملازم نہیں رکھا جا سکتا اور12 سے15سال کی عمر کے بچوں کو گھریلو ملازم رکھنے پر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجودتلخ حقائق یہ ہیں کہ معمولی صاحب ثروت گھروں سے لے کر ایلیٹ کلاس تک کے ہر دوسرے گھر میں نہ صرف کم عمر بچے جز وقتی کام یاکل وقتی ملازمت کرتے دکھائی دیتے ہیں بل کہ صاحب ثروت گھروں میں کام کرنے والے بچوں کو معمولی نوعیت کی غلطیوں پر بدتین تشدد کانشانہ بنایا جانا بھی معمول بن چکا ہے۔ڈومیسٹک چائلڈ لیبر یا گھریلو بچہ مزدوری چائلڈ لیبر کی ایسی قسم ہے جس میں کم سن بچے(زیادہ تر نو عمر لڑکیاں)لوگوں کے گھروں میں کھانے پکانے، کپڑے دھونے اور استری کرنے اور صفائی ستھرائی جیسے مشقت کے کام سرانجام دینے کے علاوہ چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں۔
ان بچوں کے کام کرنے کے کوئی مخصوص اوقات کار مقرر نہیں ہوتے اور اسی بنیاد پر گھریلو بچہ مزدوری نئے دور کی غلامی کہی جا سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ رضوانہ تشدد کیس کی بھی طیبہ تشدد کیس کی طرح شفاف اور غیر جانب دارانہ تفتیش و تحقیق کر کے واقعے کے زمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔حکومت سے یہی گذارش ہے کہ گھریلو بچہ مزدوری کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے پورے ملک میں ایک جیسا جامع اور موثر قانون بنایا جائے۔