اسلامیہ یونیورسٹی: جوڈیشل کمیشن ضروری
- تحریر مرزا اشتیاق بیگ
- بدھ 02 / اگست / 2023
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا شمار برصغیر پاک و ہند کی قدیم اور تاریخی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے جس کا قیام پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل 1925 میں عمل میں آیا اور یہ یونیورسٹی اُس وقت ’جامعہ عباسیہ‘ کے نام سے مشہور تھی۔
تاہم 1975 میں یونیورسٹی کا نام بدل کر ’اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور‘ رکھ دیا گیا۔ کچھ سال قبل تک اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایشیا کی 500 بہترین اور پاکستان کی تیسری بہترین یونیورسٹی شمار کی جاتی تھی لیکن آج یہ یونیورسٹی 15 ویں پوزیشن پر آگئی ہے۔ یونیورسٹی میں 17 ہزار سے زائد طالب علم زیر تعلیم ہیں جبکہ پنجاب کے دیگر شہروں سے آئی سینکڑوں طالبات یونیورسٹی کے احاطے میں قائم ہاسٹل میں مقیم ہیں۔ یونیورسٹی کے ذیلی کیمپس رحیم یار خان، بہاولنگر اور لیاقت پور میں بھی قائم ہیں۔
پاکستان کی تاریخی اور سرکاری اسلامیہ یونیورسٹی آج کل طالبات میں منشیات کی خرید و فروخت اور جنسی ہراسانی کے گھناؤنے اسکینڈل کے حوالے سے افواہوں کی زد میں ہیں اور سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات اور اُن کے والدین منفی خبروں اور افواہوں کے باعث شدید ذہنی اذیت اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ جامعہ اسلامیہ کا اسکینڈل اُس وقت منظر عام پر آیا جب یونیورسٹی میں منشیات کی فروخت میں ملوث بہاولپور میں تعینات ایک ڈولفن پولیس اہلکار کو گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے آئس اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد ہوئیں۔ ملزم کے موبائل فون سے طالبات کی متعدد نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بھی برآمد ہوئیں۔ بعد ازاں ملزم کی نشاندہی پریونیورسٹی کے سکیورٹی آفیسر اعجاز شاہ کی گرفتاری عمل میں آئی جس کے موبائل فون سے درجنوں فحش ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئیں۔
اسلامیہ یونیورسٹی کا اسکینڈل پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گیا ہے جس پر سوشل میڈیا جلتی پر تیل کا کام کررہا ہے۔ اور یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات اور اُن کے والدین کے ساتھ عوام بھی تذبذب کا شکار ہیں جبکہ اسکینڈل منظر عام پر آنے پر یونیورسٹی میں جاری داخلوں کا سلسلہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے آنے والی سینکڑوں طالبات کے والدین بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو یونیورسٹی میں داخل کرانے سے گریزاں ہیں جس سے اسلامیہ یونیورسٹی کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے اور ملازمین کو تنخواہ دینے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔
پاکستان کی قدیم یونیورسٹی میں اس طرح کا گھناؤنا اسکینڈل منظر عام پر آنا لمحہ فکریہ ہے جس نے ہر شخص کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ایسے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے اسلامیہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں کئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز شامل ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی یونیورسٹی میں مالی بدعنوانیوں اور انتظامی بے قاعدگیوں کے علاوہ اسکینڈل سے متعلق تمام افراد کی ہر پہلو سے تفتیش کرے گی۔ ڈاکٹر مختار احمد نہایت اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ وہ مراکو میں اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنس اینڈ کلچرل آرگنائزیشن میں اعلیٰ عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ امید ہے کہ ان کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی واقعے کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کرکے ملوث افراد کا تعین کرے گی۔
اللہ کرے کہ اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل محض افواہوں پر مبنی ہو لیکن اگر اسکینڈل میں کوئی حقیقت ہے تو یہ بحیثیت قوم ہمارے لئے انتہائی باعث شرم ہے۔ گوکہ پولیس واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے مگر اسکینڈل میں بااثر شخصیات کے ملوث ہونے کے پیش نظر شفاف اور منصفانہ تحقیقات شاید ممکن نہ ہو ۔ 18ویں ترمیم کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی صوبائی حکومت کے ماتحت ہے۔ معاملے کی سنگینی اور عوام کا ردعمل دیکھتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کرانے کا اعلان کیا ہے جو ایک مثبت قدم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب تک جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آجاتی اور ملوث افراد کا تعین نہیں ہو جاتا، ہمیں اس معاملے پر کسی بھی تبصرے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ صرف چند طالبات تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں طالبات کا روشن مستقبل یونیورسٹی سے جڑا ہوا ہے۔
افواہوں کے طالبات اور یونیورسٹی پر سنگین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ اُمیدہے کہ جوڈیشل کمیشن واقعہ کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کرے گا تاکہ اسکینڈل کی حقیقت عوام پر آشکار ہو اور ملوث افراد کا تعین کرکے اُنہیں عبرتناک سزا دی جا سکے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)