اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے کے طعنوں سے مجھے فرق نہیں پڑتا: شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مجھے طعنہ دیا جاتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے۔ ان باتوں سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، مقصد صرف ایک تھا کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ مل کر ملک کو آگے لے کر جائیں۔
اسلام آباد میں بھارہ کہو بائی پاس کے افتتاح کے بعد تقریب سےخطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہاں اس مقام پر گھنٹوں ٹریفک جام رہتا تھا، ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کا بھارہ کہو سے گزرنا محال تھا، اب منصوبے کی تکمیل سے ٹریفک مسائل حل ہوں گے، فیول اور وقت کی بچت ہوگی۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر منصوبے کی تکمیل کے لیے تین ماہ کا وقت دیا لیکن عدالتی امور سمیت دیگر چیلنجز کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ اب ملک بھر کے سیاح یہاں سے آزاد کشمیر کی طرف جائیں گے، منصوبے کی تکمیل سے وقت بچے گا۔ فیول اور دھوئیں کی بچت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کے دشت میں 38 سال ہوگئے۔ اس دوران کئی سپہ سالاروں سے ملاقات کی۔ اس کا ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ ملک ترقی کرے اور اسلام آباد کی حکومت اور راولپنڈی کی اسٹیبلشمنٹ اور دوسرے ادارے ملک کر مشاورت کریں اور پاکستان کو وہاں لے کر جائیں جس کا قائد اعظم نے خواب دیکھا تھا۔ میں بڑے بڑے سپہ سالاروں اور قد آور سپہ سالاروں سے ملا۔ ان ملاقوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ سیاست دان اور ادارے مل کر ملک کو وہاں لے جائیں جہاں اس کی تخلیق کے لیے قربانیاں دینے والے لاکھوں لوگوں کی روح کو تسکین پہنچے، ملک کو عظیم بنا کر غربت و بےروزگاری کا خاتمہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ دوست مجھے طعنہ دیتے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے، فلاں ہے۔ ان باتوں سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ اگر میں نے ذاتی مفادات لینے ہوتے تو تب تو بات تھی۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کیونکہ یہ بات پبلک ہوچکی ہے، میں اس لیے اس کی مثال دے رہا ہوں ورنہ ایسے راز میری قبر تک جائیں گے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ شہباز شریف اس کے قریب ہے۔ لیکن نواز شریف جیل گئے، میں بھی جیل گیا، ان کی طرح میں اور میرا خاندان بھی جلا وطن ہوا۔ مجھے کیا ملا، میرے دل میں ایک ہی بات سمائی ہوئی تھی، ہے اور رہے گی کہ ہمارے زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس غریب قوم کا ہم نے خیال کرنا ہے۔ انہیں کن مشکل حالات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کر اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔ مشکلات ہیں، لیکن اگر ہم مل کر، اتفاق رائے کے ساتھ فیصلہ کرلیں کہ ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔ ملنے کا یہ مقصد نہیں کہ ہر چیز پر ہمارا اتفاق ہو۔ ملنے کا مطلب یہ کہ مشاورت ہو، فیصلہ ہوجائے کہ یہ چیزیں ملک کے مفاد میں ہم نے کرنی ہیں۔ اس پر فیصلہ نہیں ہوا، اس کو پیچھے رکھ دیں، یہ ہے مشاورت اور قومی یکجہتی، قومی اتفاق جس کے ذریعے ہم ترقی کرسکتے ہیں۔
ہمارا پڑوسی ملک ہم سے بہت آگے چلا گیا، لیکن گھبرانے اور رونے دھونے کی بات نہیں۔ اگر ہم آج فیصلہ کرلیں، ترقی کی طرف بھاگیں تو اس پوزیشن میں آئیں گے جہاں نواز شریف ملک کو 90 کی دہائی میں لے کر آئے تھے۔
قبل ازیں وزیراعظم نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ کا افتتاح کر دیا، 9 ماہ کی قلیل مدت میں 31 جولائی 2023 کو منصوبہ مکمل کر لیا گیا جس پر 6 ارب 25 کروڑ روپے لاگت آئی ہے، منصوبے کی تکمیل سے مقامی آبادی اور سیاحوں کو بہترین سفری سہولیات حاصل ہوں گی۔