باجوڑ خودکش حملہ کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 03 / اگست / 2023
آج سے قریباً 2 برس قبل 15 اگست 2021 کو افغانستان میں اشرف غنی حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے طالبان کی نئی حکومت قائم ہوئی، اس دعوے کے ساتھ کہ اس مرتبہ وہ ملاعمر کی طالبان حکومت سے مختلف ہوگی۔
اس حوالے سے دوحا معاہدے کے تحت عالمی طاقت امریکا سے یہ طے پایا تھا کہ آئندہ سے طالبان دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث نہیں ہوں گے اور نہ ہی اپنی سرزمین ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔ کسی بھی فرد یا گروہ کی آئندہ کے لیے یقین دہانیوں کو اس کے ماضی کی کارکردگی یا طرزِ عمل کی روشنی میں ہی جانچا یا پرکھا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب دوحا معاہدہ طے پانے جارہا تھا اس وقت پوری دنیا میں بہت سے اہلِ دانش نے یہ آواز اٹھائی تھی کہ طالبان کی یقین دہانیاں وقت کے ساتھ سراب ثابت ہوں گی۔ خود امریکی میڈیا کے اندر سے بھی کھلے بندوں اس نوع کے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن امریکی انتظامیہ کو بوجوہ شتابی تھی کہ کسی بھی طرح اس لاحاصل جنگ کا خاتمہ کرتے ہوئے وہ اپنی فورسز کو واپس لے جائیں۔ یوں اس شتابی و جلد بازی میں بہت سے بلنڈرز ہوگئے۔
اشرف غنی حکومت اور اس کی صلاحیت کے متعلق بھی امریکی انتظامیہ کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ امریکی ہمارے خطے کی سائیکی کو درست طور پر سمجھنے سے قاصر رہے۔ اُن کا خیال تھا کہ دو لاکھ کے قریب جو فورسز انہوں نے خود افغانوں کے ذریعے تیار کروائی ہیں جنہیں خود ان کے لوگ ٹریننگ بھی دیتے رہے، یہ ایک قومی ریاست کی فورس بن کر کارکردگی دکھائے گی۔ وہ افغانوں کے قبائلی سسٹم، اس کی خامیوں اور جاری و ساری کرپشن کی پرکھ سے قاصر رہے۔ جب یہ فورس وقت آنے پر ریت کی دیوار ثابت ہوئی تب امریکیوں کو سمجھ آئی کہ ان کی بھاری رقوم کس ڈرامے بازی سے ہڑپ کی جارہی تھیں۔
دوسری طرف پاکستانیوں کا رول بھی امریکیوں کے لیے افسوس اور پچھتاوے کا باعث بنا جو ایک طرف ان کے سامنے دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کے خلاف امریکی اتحادی بنے بلند بانگ دعوے کرتے، ڈالرز وصول کررہے تھے تو دوسری طرف طالبان سے نہ صرف ہمدردی رکھتے تھے بلکہ کئی مواقع پر ان کی معاونت کرتے بھی پائے گئے، جس کے بہت سے شواہد امریکی میڈیا کی زینت بھی بنے۔ اگر سچائی سے اظہارِ خیال کیا جائے تو اس حقیقت کی صداقت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ہمارے لوگوں کے دوغلے رول پر الگ سے پورا آرٹیکل تحریر کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے لوٹوں کے اذہان سے یہ بات نکل ہی نہیں رہی تھی اور شاید آج بھی انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ افغانستان میں مذہبی جنونیت پر استوار طالبانی حکومت کسی بھی حوالے سے پاکستان کے مفاد میں نہیں۔
ہمارے عسکری ادارے تو رہے ایک طرف ہمارے دفتر خارجہ میں براجمان باریک بینوں کے موٹے دماغوں میں بھی یہ باریک نقطہ کبھی نہیں سما سکا کہ مذہبی جنونیت ہماری قومی سلامتی کے لیے کس قدر مہلک زہر ہے، جسے اپنی قوم کے وجود میں اُتارنے کے لیے ہم بے چین رہتے ہیں۔ اس اپروچ کی بنیاد ہماری خارجہ پالیسی میں انڈیا دشمنی پر استوار ہے جس سے ہم نے بہرصورت کشمیر لے کر چھوڑنا ہے اور اپنی پون صدی پرانی لاحاصل سوچ کو خارجہ پالیسی کا محور بنائے رکھنا ہے۔ آخر ہم حقائق کا انکار کیسے کرسکتے ہیں 15اگست 2021 کے فوری بعد ہمارا وزیراعظم جب عالمی میڈیا کے سامنے یہ کہہ رہا تھا کہ طالبان کی فتح درحقیقت اسلام کی فتح ہے اور یہ کہ طالبان نے غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالی ہیں۔
کہنے کو باتیں اس سے آگے بھی بہت سی ہیں، چائے پینے والوں کے احوال بھی سب کے سامنے ہیں۔ جو جشن منایا گیا وہ بھی سب کو معلوم ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایسا منہ اور ایسی ذہنیت بند کرنے کے لیے کیا یہاں کوئی اہتمام کیا گیا؟ ہمارے ہاں آج بھی اس پر کھل کر لکھنے یا بولنے کی اجازت نہیں۔ آج بھی باتوں کو گھما پھرا کر یوں تشریحات کی جاتی ہیں کہ گویا ٹی ٹی آئی تو کوئی اعلیٰ چیز ہے جبکہ ٹی ٹی پی کوئی بڑی گھٹیا تنظیم ، اسی سوچ کے زیراثر یہاں گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی اصلاحات گھڑی جاتی رہی ہیں۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ وسیع تر اسلامی جہاد یا دینی جدوجہد میں تمام مومنین بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ چاہے ان کا تعلق طالبان کے کسی بھی گروپ سے ہو، داعش سے ہو یا القاعدہ سے یا دیگر ان جہادیوں سے۔ جن کے نام لکھے جاسکتے ہیں طالبان کا یہ بیان بھی پیشِ نظر رہے کہ ہمارا معاہدہ امریکیوں سے تھا پاکستانیوں سے نہیں۔
آج باجوڑ میں جمیعت علمائے اسلام کے جلسے پر جو خودکش حملہ ہوا ہے اس میں ساٹھ کے قریب پاکستانی اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں دوسو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اس پر بہروپیوں کی طرح واویلا مچانے والوں کے سامنے درویش کا یہ سوال ہے کہ اصلیت کو تسلیم کیوں نہیں کرلیتے ہو؟ ان مظلوموں کا خون تم سب کی گردنوں پر ہے۔ تمہاری اس جنونی ذہنیت پر ہے جس نے یہ جہادی پال رکھے ہیں اور آج بھی بالواسطہ ان کی سپورٹ میں کھڑے ہو۔ ذرا اس ”بھارت نواز“ امریکی پٹھو اشرف غنی حکومت کے دورانیے کا موجودہ دو سالہ طالبانی اسلامی جہادی حکومت سے تقابل تو کرکے دیکھو۔ پیہم کے پی اور بلوچستان کے سرحدی ایریاز میں موت کا جوکھیل کھیلا جارہا ہے اور جو اب مزید آگے بڑھنے والا ہے، شاباش کوئی سبیل نکالواس میں بھی انڈیا دشمنی کو ثابت کرنے کی جس میں یہ کہا جا سکے کہ یہ سب کچھ ہمارا نہیں انڈیا کا اور را کا کیا دھرا ہے۔
ہمارے خوشامدی چاپلوسی کٹھ پتلی بھکاری نے تو اس نوع کا بیان داغ بھی دیا ہے۔ کہتا ہے کہ میں پھر مذاکرات کی پیش کش کررہا ہوں اور اس حوالے سے کڑی شرائط عائد کرنے کے ساتھ ایٹمی جنگ کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔ کہتا ہے کہ جوہری تصادم ہوا تو یہ بتانے کے لیے کوئی نہیں بچے گا کہ ہم کون تھے۔ کوئی ہے جو اس خودساختہ باتونی دانا اور تعلی باز سے یہ پوچھے کہ اے بڑی بڑی چھوڑنے والے، اپنے کپڑے بیچ کر آٹا فراہم کرنے اور مہنگائی کو ختم کرنے والے، حالت تو تمہاری یہ ہے کہ روسی سستے تیل کی بڑھکیں مارتے تمہارا گلا خشک نہیں ہورہا تھا اور بیس روپے اضافے کے ساتھ نیا پٹرول بم مہنگائی سے بلکتے عوام کے سینوں پر پھوڑ رہے ہو۔ لیکن ہمسائے پر ایٹم بم چلا دینے کی دھمکیاں دے رہے ہو۔ ساتھ ہی بلند بانگ دعوے کررہے ہو کہ اپنے بھکاری ہونے کا کشکول یا کٹورا توڑنے کے لیے قرضوں پر قرضے لیتا چلا جاؤں گا۔
پہلے بھیک مانگنے کا کشکول توڑ لو پھر دوسروں کو اپنے ایٹم بم سے ڈرا بھی لینا۔ بہتر ہے مشرق کی طرف منہ کرکے یہ بُری ہوا منہ سے نکالنے کی بجائے اپنا منہ مغرب کی طرف کرو جدھر آئے روز مظلوم اور دکھی بے گناہ عوام خودکش حملوں کے ذریعے خون میں نہلائے جارہے ہیں۔ تمہاری یہ ناہل حکومت تو چند روز میں ختم ہونے جارہی ہے، اپنے آقاؤں سے بات کرو کہ ان تڑپتی لاشوں کا سوچو اور یہ کہ عوامی دکھوں کا مداوا کیسے کرنا ہے۔