عمران خان کا دوغلا پن: انتخابات کا مطالبہ اور دہشت گردی کا جواز

بی بی سی ہارڈ ٹاک   کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا یہ مؤقف درست ہے کہ حکومت کو ناکامی کا خطرہ نہیں  ہے اور اگر تحریک انصاف سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی تو   انتخابات منعقد کروانے میں لیت و لعل سے کیوں کام لیا جارہا ہے۔   حکومت انتخابات کے بارے میں جتنی بے یقنی پیدا کرے گی اور انہیں ملتوی رکھنے کی مضحکہ خیز کوششیں کی جائیں گی تو عمران خان کی اس دلیل  کی اصابت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

البتہ  اس ایک بات کے علاوہ عمران خان کی سب باتیں یا تو  پرانے الزامات کا ملغوبہ ہیں یا ایک ناکام سیاسی تحریک کے سربراہ کے طور پر بے بنیاد قیاس آرائیوں کے سہارے وہ اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔   سانحہ 9مئی کے بعد عمران خان اور تحریک انصاف کو شدید   مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔  پرتشدد کارروائیوں میں شرکت کی وجہ سے تحریک انصاف  کے متعدد لیڈرا ور کارکن گرفتار کئے گئے اور بڑی تعداد میں سیاسی لیڈروں نے تحریک انصاف سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ تاہم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیشتر لیڈر یا  توگرفتار ہیں ، یا زیر زمین ہیں اور حالات بہتر ہوتے ہی وہ سیاسی طور سے سرگرم ہوجائیں گے۔

عمران خان کا یہ دعویٰ اگرچہ زمینی حقائق کی درست تصویر پیش نہیں کرتا لیکن  کسی بھی سیاسی رہنما کو  اپنی مقبولیت اور طاقت کے بارے میں خوش گمانی میں مبتلا رہنے کا حق حاصل ہے۔ اس گمان کو شفاف  اور بروقت انتخابات کے ذریعے ہی غلط قرار دیا جاسکتا ہے۔ حکومت جب اس بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرے گی تو عمران خان کو ضرور یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ موجودہ حکومت عوام  کے اعتماد سے محروم ہے ۔ اور ان کی مقبولیت اور کامیابی کے خوف کی وجہ سے انتخابات منعقد کروانے سے گریز کررہی ہے۔  اگرچہ اس  وقت ملک میں اسمبلیاں توڑنے اور نگران   حکومت  قائم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں   تاکہ نئے انتخابات کی راہ ہموار ہو لیکن اس کے ساتھ ہی نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ اور  نئی ڈیجیٹل مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کروانے کے شوشے  چھوڑ کر انتخابات کے بروقت انعقاد کے بارے میں شبہات بھی پیدا کئے جارہے ہیں۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے چئیرمین ابھی تک اس سچائی کو تسلیم کرنے میں ناکام دکھائی دیے کہ 9 مئی کے واقعات ایک ایسی حقیقت ہے جس کا دیانت داری سے جائزہ لے کر ہر سیاسی جماعت اور ریاستی اداروں کو اپنی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے۔  ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلح افواج پر حملے، ایک سنگین معاملہ ہے ۔ عمران خان جب اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ریاستی اداروں  ہی کو اس کی سازش کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ  وہ تحریک  انصاف کو ختم کرسکیں تو  اس رویہ سے  وہ خود ہی  اپنی  سیاسی قبولیت  کو داؤ پر لگانے کا  موجب بنتے ہیں۔  تحریک انصاف کے متعدد لیڈروں سے پارٹی چھوڑتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی ایسی سیاسی جماعت کے ساتھ چلنا مشکل ہے جو ریاستی اداروں اور فوج پر پرتشدد حملے کرنے پر یقین  رکھتی ہو۔ اس تناظر میں  پرویز خٹک اور بعض دوسرے لیڈروں نے عمران خان کو براہ راست اس  سانحہ کا ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔

اب ہارڈ ٹاک کے سٹیفن سیکر کے ساتھ انٹرویو میں عمران خان ایک طرف تو 9 مئی کو اپنی گرفتاری کے بعد  تحریک انصاف کے احتجاج کو پر امن قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف  گرفتاری کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے  سوال بھی کرتے ہیں کہ ’جب انہوں نے دیکھا مجھے کمانڈوز اٹھا کر لے جا رہے ہیں کیا اس پر کوئی احتجاج نہیں ہونا تھا‘۔ عمران خان کے اس عذر میں بھی کوئی دم نہیں ہے کہ انہوں نے 27  سال پر امن سیاست کی ہے، کبھی کسی کو تشدد پر نہیں اکسایا۔  کیوں کہ عمران خان نے براہ راست کسی کو تشدد کرنے کا پیغام نہ بھی دیا ہو لیکن انہوں نے اپنی تقریروں، سوشل میڈیا مہم جوئی کے ذریعے نفرت اور انتہا پسندی کا جو ماحول پیدا کیا،  تشدد اس کا فطری نتیجہ ہے۔ اسی کا مظاہرہ   9 دیکھنے میں آیا۔ اب اس روز ہونے والے افسوسناک واقعات کی مذمت کرنے کی بجائے کبھی وہ اس سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ حملے تو بس چار فوجی مقامات پر ہوئے تھے لیکن ان کے دس ہزار کارکن پکڑ لئے گئے۔ گویا ان کا  کہناہے کہ چار مقامات پر حملوں  کی نسبت سے اگر چند درجن افراد پکڑے جاتے تو انہیں اس پر اعتراض نہ ہوتا۔ یہ رویہ عذر گناہ بد تر از گناہ کے مترادف ہے۔ عمران خان اپنی اسی ہٹ دھرمی  کی  سیاسی قیمت ادا کررہے ہیں۔

اس حد تک عمران خان کا یہ طرز عمل قابل فہم ہے کہ انہوں نے ملک میں شخصیت پرستی کا ایسا ماحول پیدا کیا ہے کہ ان کے حامی دلیل یا شواہد پر یقین کرنے کی بجائے ، اسی بات کو سچ ماننے پر  بضد ہوتے ہیں جو عمران خان بیان کردیں۔ عمران خان کو لگتا ہے کہ  وہ اپنی   ضد ، ہٹ دھرمی اور  واقعات کے  بارے میں غلط بیانی کے  ذریعے اپنے حامیوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہورہے ہیں کہ  ان کا لیڈر بہادر ہے جو کسی قسم کی مفاہمت کرنے پر آمادہ نہیں ہے ۔ حالانکہ 9 مئی سے پہلے اور اس کے بعد عمران خان فوج سے رابطہ کرنے اور کسی  بھی طرح براہ راست تعلق استوار کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے رہے ہیں۔ فوج کی طرف سے سیاسی مکالمہ سے انکار کے بعد  عمران خان اب   اپنے ان ہی حامیوں کو ’اینٹی اسٹبلشمنٹ‘ نعرے لگانے پر آمادہ کرچکے ہیں جو ڈیڑھ دو سال پہلے فوج کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے نہیں  تھکتے تھے۔ جس جنرل   باجوہ کو  اس وقت تحریک انصاف  جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن بنا کر پیش کرتی ہے، محض ایک سال پہلے تک  انہیں ملک و قوم کا محسن  قرار دے کر  ان کے عہدے میں مزید توسیع کی تجویز دی جارہی تھی۔

انتخاب لڑنا اور  نتائج آنے تک اپنی کامیابی کے دعوے کرنا کسی بھی سیاسی لیڈر کی طرح عمران خان کابھی حق ہے۔  لیکن  اس کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ ایک لیڈر اپنی سیاست کے لئے جھوٹ اور الزامات کی بنیاد پر ملک میں اشتعال اور نفرت کا ماحول پیدا کرے اور سیاسی مکالمہ کو غیر ضروری بلکہ مہلک قرار دے۔ بی بی  سی ہارڈ  ٹاک میں انٹرویو کے دوران عمران خان نے نواز شریف  اور دوسرے سیاسی لیڈروں سے  بات چیت سے انکار کیا ہے اور کہا کہ  ان لوگوں نے تیس برس تک ملک کو لوٹا ہے،  اب وہ اپنے اقتدار کے لئے ان سے ہاتھ نہیں ملا سکتے۔ حالانکہ  عمران خان کے پاس  اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے  لئے سیاسی  بیان بازی کے علاوہ کوئی   شواہد موجود نہیں ہیں۔  بدقسمتی سے  ملک میں مسلسل یہ صورت حال موجود ہے کہ  حکومتوں کی طرف سے سیاسی بنیاد پر مقدمے  قائم کئے جاتے ہیں اور سیاسی حالات تبدیل ہونے پر انہیں ختم کردیا جاتا ہے۔ عمران خان خود اس صورت حال کا سامنا کررہے ہیں۔ اگر عمران خان محض اس لئے دیانت دار ہیں کہ ابھی انہیں کسی عدالت سے سزا نہیں ملی تو نوازشریف  اور آصف زرداری  بھی یہی دعویٰ کرسکتے ہیں۔  صرف  مقدمے قائم ہونے کی بنیاد پر  خود کو نواز شریف سے ’اخلاقی برتر‘ ثابت کرنا حقائق سے منہ موڑنے اور حالات و واقعات کی مسخ شدہ تصویر پیش کرنے کے مترادف ہے۔

عمران خان کو سنگین کرپشن کے دو مقدمات کا سامنا ہے۔ توشہ خانہ کیس میں ان پر وزیر اعظم کے طور پر ملنے والے تحائف کو سستے داموں خرید کر  مہنگی قیمت پر فروخت کرنے  اور غیر قانونی طور سے اس دولت کو اپنے اکاؤنٹ میں وصول کرنے کا الزام ہے۔  یہ  سادہ کرپشن کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ صورت حال   سفارتی حساسیات اور بنیادی اخلاقیات  کے بارے میں ہے۔ ایک وزیر اعظم اپنے عہدے کی وجہ سے ملنے والے مہنگے  تحفے   تھوڑا سا معاوضہ دے کر اپنے پاس رکھنے کی بجائے انہیں عام مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے وہ رقم پاکستان منتقل ہوتی ہے۔

اسی طرح القادر ٹرست کیس بھی سنگین بدعنوانی کا انوکھا معاملہ ہے جسے محض سیاسی انتقام کا نام دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔  ملک ریاض کو برطانیہ میں 170 ملین پاؤنڈ  جرمانہ ہؤا تھا۔  برطانیہ نے یہ رقم پاکستانی حکومت کو واپس کی تھی لیکن عمران خان  نے اپنے قائم کردہ القادر ٹرسٹ کے لئے  عطیہ اور زمین کا تحفہ وصول کرکے  برطانیہ سے  آنے والی اس خطیر رقم کو  سپریم کورٹ کی طرف سے بحریہ ٹاؤن پر عائد کردہ جرمانے کے فنڈ میں جمع کرنے کی اجازت دے کر نہ صرف  ملکی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا بلکہ برطانیہ جیسے ملک کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ پاکستان کی حکومت کے لئے منی  لانڈرنگ اور بدعنوانی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ وقوعہ اس وقت رونما ہورہا تھا جب پاکستان  ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر شامل تھا اور  خود عمران خان بدعنوانی کو  سیاسی نعرہ  بناکر اپنے  مخالفین کے خلاف مہم جوئی کررہے تھے۔  عمران خان کے خلاف کرپشن کے دونوں مقدمے   وزیر اعظم    طور پر ان کی بدعنوانی  اور بد نیتی  کا سنگین معاملہ  ہیں۔ لیکن دونوں مقدموں میں عمران خان الزامات کا سامنا کرنے کی بجائے قانونی اور تکنیکی موشگافیوں کی بنیاد پر کسی بھی طرح ان  کی  سماعت   ملتوی کروانے کی  کوشش کر رہے ہیں۔  کوئی ایماندار سیاست دان ایسا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔

عمران خان  نے اسی انٹرویو میں  یہ کہہ کر دہشت گردی کا جواز دینے کی بھی  کوشش کی ہے کہ خیبر پختون خوا  میں  ’ناجائز نگران‘ حکومت ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی ہے۔ انہوں نے  سوال کیا کہ ’جب ہم اقتدار میں تھے تو دہشتگردی کیوں نہ تھی؟ اچانک دہشتگردی میں اضافہ کیوں ہوا؟ کیونکہ اب ان کی نمائندگی نہیں ہو رہی‘۔ گویا  بزعم خویش ملک کا سب سے مقبول لیڈر  دہشت گردی کے واقعات کو اس لئے جائز قرار دے رہا ہے کیوں کہ موجودہ  حکومت ان کی خواہش و مرضی کے مطابق انتخابات کروانے پر راضی نہیں ہوئی۔ عمران خان کو جان لینا چاہئے کہ دہشت گرد انسانوں کے دشمن ہوتے ہیں اور معاشرے میں اضطراب پیدا کرنے کے لئے سرگرم ہوتے ہیں۔ وہ انتخابات یا جمہوری حقوق کے لئے عام شہریوں کو نہیں مارتے۔ اب اگر عمران خان  ملک و قوم کے دشمن عناصر  کی غیر انسانی حرکتوں   کے لئے دلیل  دیں گے تو  یہ طرز عمل غیر اخلاقی ، عوام دشمن  اور غیر قانونی  ہی نہیں بلکہ ملک میں انتہا پسندی کی سرپرستی کے مترادف ہوگا۔   اس رویہ کے ساتھ وہ کیسے دعویٰ  کرسکتے ہیں کہ ان کی  جد جہد ہمیشہ پر امن رہی ہے۔