سینیٹ نے کاؤنٹر فنانسنگ اتھارٹی کے قیام کا بل منظور کرلیا
منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کاؤنٹر فنانسنگ اتھارٹی کے قیام کا بل سینیٹ نے بل منظور کر لیا ہے۔ اس بل پر آج سینیٹ میں ووٹنگ ہوئی تو اس کے خلاف 9 اور حق میں 28 ووٹ آئے۔
سینیٹرز رضا ربانی، طاہر بزنجو، کامران مرتضی سمیت دیگر نے بل کے خلاف ووٹ دیا۔ بل کے فوری منظور کیے جانے کے حوالے سے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے احتجاج کیا ہے۔ حنا ربانی کھر نے یہ بل سینیٹ میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر آیا ہے اور اس کے تحت اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے ایف اے ٹی ایف کو مستقبل کا پلان دیا ہے۔
تاہم سینیٹر محسن عزیز کا کہنا تھا کہ بارہ بلز ایک دن میں کس طرح پڑھے جا سکتے ہیں، ہمیں ربر سٹامپ نہ بنایا جائے۔ دنیا ہمارا تمسخر اڑا رہی ہے۔ تاہم وفاقی حکومت نے عجلت میں قانون سازی کا عمل جاری رکھتے ہوئے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے نئی اتھارٹی کے قیام کا بل گزشتہ روز قومی اسمبلی کے بعد آج سینیٹ سے بھی منظور کروا لیا۔
کئی سینیٹ اراکین نے بل کی منظوری کی مخالفت کی، رضا ربانی نے کہا کہ بل منظور کرنے کے بجائے کمیٹی کو بھیجا جائے۔ تاہم چیئرمین سینیٹ نے بل پر ووٹنگ کرائی اور بل کو اراکین کی اکثریت کی حمایت کے ساتھ منظور کرلیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں عجلت میں قانون سازی کا عمل جاری رکھتے ہوئے اس بل کو منظور کرلیا تھا۔ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل میں نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیرارزم اتھارٹی بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ایوان نے قواعد معطل کرکے اور متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجے بغیر بل کا جائزہ لیا تھا۔ حنا ربانی کھر نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ اتھارٹی پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تعزیری اقدامات سے بچائے گی، جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے ہونے والی فنڈنگ پر نظر رکھنے والا عالمی ادارہ ہے۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2022 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کردیا تھا، اس فہرست میں شامل ممالک کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے قانونی، مالیاتی، ریگولیٹری، عدالتی اور غیر سرکاری شعبوں میں خامیوں کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔