کیا انڈین سپریم کورٹ آرٹیکل 370بحال کر سکتی ہے؟
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعہ 04 / اگست / 2023
خبر ہے کہ انڈین سپریم کورٹ تین روز قبل روزانہ کی بنیاد پر قریبا دو درجن ایسی درخواستوں پر سماعت کا آغاز کر دیاہے جس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق 5اگست2019کو کیے گئے انڈین حکومت کے فیصلے کوغیرقانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) کو بحال کرنے کا کہا گیا ہے۔
انڈین سپریم کورٹ میں پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بینچ کے پاس زیر سماعت اس کیس میں اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت عظمی نے مودی حکومت کے اس بیان حلفی کو بحث سے خارج کر دیا تھا جس کے مطابق آرٹیکل370 کے خاتمہ سے کشمیر میں دہشت گردی کا خاتمہ ہونے سے امن اور ترقی کا دور شروع ہو گیا ہے۔درخواست گزاروں کا استدلال ہے کہ آرٹیکل 370کے خاتمے کے وقت جموں کشمیر میں کوئی عوامی حکومت نہیں تھی۔واضح رہے 2018میں بی جے پی نے محبوبہ مفتی کی قیادت والی حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی اور جموں کشمیر میں صدارتی راج نافذ کر دیا تھا۔خیال رہے کہ انڈین سپریم کورٹ میں یہ آئینی درخواستیں کشمیر کے تین ممبران پارلیمنٹ، انڈین آرمی اور انڈین فضائیہ کے سابق افسروں اور سماجی رضاکاروں کی طرف سے دائر کی گئی ہیں اور ان میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیا عوامی حکومت کی غیر موجودگی اور کشمیریوں کی مرضی کے بغیر پارلیمان کو یک طرفہ طور پر آرٹیکل370کے خاتمے جیسا بڑا فیصلہ لینے کا اختیار تھا یا نہیں؟
آرٹیکل 370کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت جموں کشمیر میں ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی اور انہیں انڈیا کے ساتھ الحاق میں تحفظات تھے۔سب جانتے ہیں کہ آزادی ملنے کے دو ماہ بعد ہی دونوں ملکوں نے ریاست کشمیر پر قبضے کیلئے باقاعدہ جنگ چھیڑ لی تھی۔ایک سال دو مہنے جاری رہنے والی اس جنگ کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی نوابی ریاست کے لداخ، جموں اور مشرقی کشمیر کے حصوں پرانڈیا نے قبضہ جما لیا جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے پاکستان کے کنٹرول میں آگئے۔اگر صرف وادی کشمیر کی بات کی جائے تو اس جنگ کے بعد وادی کشمیر کے دو تہائی حصوں پر پاکستان کا قبضہ ہو گیا۔جنگ کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے نہ صرف انڈین فوج سے مدد طلب کی بل کہ تین شرائط پر انڈیا کے ساتھ الحاق کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔
الحاق کے مطابق کشمیر کی کرنسی، دفاع اور مواصلات انڈین حکومت کے کنٹرول میں ہوں گے جب کہ مقامی قانون سازی، ٹیکس اور دوسرے سبھی امور پر کشمیریوں کا اختیار ہوگا۔1953 میں کشمیر کے پہلے وزیراعظم شیخ عبداللہ کو اس وقت کے انڈین وزیراعظم نہرو نے معزول کر کے جیل بھیج دیا۔اس افراتفری کے عالم میں جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدراتی آرڈر کے زریعے انڈین آئین میں آرٹیکل370کو شامل کیا گیا۔آرٹیکل 370کے تحت جموں کشمیر کو اس طرح سے خصوصی حیثیت ملی کہ نہ صرف اس کو اپنا الگ سے آئین دیا گیا بل کہ یہاں ٹیکسز کا نظام بھی سب سے علیحدہ تھا۔2019 میں مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں "جموں کشمیر تنظیم نو"کے عنوان سے بل منظور کرایا جس کے تحت ریاست جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔اس فیصلے کے تحت جموں کشمیر اب ریاست نہیں بل کہ وفاقی علاقہ ہے اور اس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہے جب کہ لداخ وفاق کے زیر انتظام علاقہ ہے لیکن اسے قانون سازی کا حق نہیں ہے۔
آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد کچھ عرصہ تو کشمیر میں سیکورٹی صورت حال بہت زیادہ خراب رہی لیکن بتدریج "ریاستی وحکومتی کنٹرول" سے کشمیر میں سیکورٹی حالات معمول پر آتے گئے۔علیحدگی پسند سیاست کو منظر عام سے ہٹانے سے بظاہر آئے روز ہڑتالوں، پتھراؤ اور مظاہروں کے سلسلے ختم یا بہت کم ہو چکے ہیں لیکن اندر خانے حریت پسندابھی بھی سرگرم عمل ہیں۔پانچ اگست 2019کے اقدام کے سات ماہ بعد پاکستان اور انڈیا کی افواج کے مابین سیز فائر معاہدے کو سختی سے نافذ کرنے کا نیا معاہدہ طے پایا اور اس کے بعد سے لے کر اب تک دونوں ملکوں کی افواج لائن آف کنٹرول پر خاموش ہیں۔ گولہ باری کا سلسلہ رکنے سے ایل او سی کے قریبی علاقوں میں روزمرہ کی زندگی پرسکون ہے۔اسی طرح پانچ اگست کے انڈین اقدام کے فوری بعد پاکستان کے سیاسی و سماجی اور مذہبی و عوامی حلقوں میں شروع کے چند ماہ میں تو شدید ردعمل دکھائی دیتا رہا لیکن پھر بتدریج کشمیر ایشو پر ریاست و حکومت کے بیانات میں پہلے والی گرم جو شی کم ہوتی گئی۔
ہم مانیں نہ مانیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ پانچ اگست 2019کے انڈین اقدام کے نتیجے میں علاقائی وعالمی سطح پر کشمیرپر ہمارا مقدمہ کمزور ہو گیا ہے۔2019سے پہلے وقتاً فوقتاً دونوں ملکوں کے مابین کشمیر ایشو کے حل کے لیے بات چیت کے امکانات سامنے آتے رہتے تھے لیکن کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم ہونے کے بعدنہ صرف مذاکرات کے نتیجے میں کچھ لوکچھ دو کے اصول کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل کے امکانات ختم ہو گئے بل کہ کشمیر کی آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کی خواہشات بھی محض سراب بن کر رہ گئیں۔
جہاں تک آرٹیکل370کی بحالی کے حوالے سے انڈین سپریم کورٹ میں زیر سماعت آئینی درخواستوں کے مستقبل کا سوال ہے تو ہمیں اس حوالے سے کوئی زیادہ "خوش گمان"نہیں ہونا چاہیے۔ مودی سرکار کسی نہ کسی تکنیکی پہلو پر اس مقدمے کی سماعت کو تاخیر کا شکار کرنے کی پوری کوشش کرے گی کیوں کہ اگلے سال انڈیا میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔مودی سرکار کی قیادت میں بی جے پی نے2019کا الیکشن آرٹیکل370کے خاتمے کی بنیاد پر لڑا تھا،اگلے الیکشن سے قبل اتنے بڑے فیصلے کی عدالت میں ہار مودی سرکار کے لیے ایک بڑے سیاسی دھچکے سے کم ہوگی۔
ارباب اقتدار کی خدمت میں صرف اتنی ہی گزارش ہے کہ آپ کشمیر ایشو پر سیاست اور قوم کو جذباتی کرنے کی بجائے انڈیا سے خوش گوار تعلقات قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں کہ ہمارے لیے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے قرضوں اور دوست ممالک کی امدادکے باوجود معیشت کو سنبھالا دینا مشکل ہوتا جا رہاہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارت کاموجودہ حجم ایک بلین ڈالر سے بھی کم ہے جو کہ بہتر تعلقات کی صورت میں 40بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔اگر چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعے سمیت کئی ایک اختلافات کے باوجود دو طرفہ تجارت کا حجم 140بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کو فروغ کیوں نہیں دیا جا سکتا۔دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے علاوہ ہم بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک تک راہ داری کی سہولت دے کر ٹول ٹیکس کی مد میں اچھا خاصا کما سکتے ہیں۔