سویلین قیادت اور کٹھ پتلیاں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 04 / اگست / 2023
ان دنوں پاکستانی سیاست ایک نئے فیز میں داخل ہورہی ہے۔ ہماری موجودہ جیسی تیسی قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرتے ہوئے 9اگست کو تحلیل ہو رہی ہے، جس کے ساتھ ہی ن لیگ کی قیادت میں قائم کی گئی اتحادی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ساتھ ہی اس کی کارکردگی کے حوالے سے بحث ہوگی اور اس کا تقابل پی ٹی آئی حکومت کے ساڑھے تین سالہ دور کی کارکردگی سے کیاجائے گا۔
یہ بحث بھی زوروں پر ہے کہ اگلا نگران سیٹ اپ کیسا ہوگا؟ وہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگا یا اس میں کچھ اثرورسوخ والے سیاستدان بھی شامل ہوں گے؟ مگر ہنوز یہ فیصلہ نہیں ہوپایا کہ نگران سیٹ اپ کی قیادت کسے سونپی جارہی ہے؟ اس نوع کے خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں کہ مجوزہ نگران انتظامیہ بروقت انتخابات کا انعقاد کرپائے گی یا صوبائی نگرانوں جیسی یہ نگرانی بھی طول پکڑ جائے گی تاحال قوی شواہد یہی ہیں کہ اس سال بوجوہ انتخابات منعقد ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ پورے ملک کی سیاست میں کنفیوژن کے جوبادل چھائے ہوئے ہیں ان کے چھٹنے اور مطلع صاف ہونے کے آثار نہیں ہیں سچ تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی گیم اس وقت بڑی حد تک طاقتوروں کے ہاتھوں میں بُری طرح جاچکی ہے یا زیادہ درست الفاظ میں طاقتوروں کے ہاتھ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔
اس ملک بدنصیب میں سول ملٹری ریلیشنز پچھلی سات دہائیوں سے اسی تناؤ یا جوار بھاٹا کے ساتھ نمودار ہوتے چلے آرہے ہیں جنہیں سابق پیر پگاڑا سیدمردان شاہ ہمیشہ چوہے بلی کا کھیل کہا کرتے تھے۔ جب کوئی طاقتور سیاستدان برسرِاقتدار آجاتا تو یوں محسوس ہوتا کہ پلڑا سویلینز کی طرف بھاری ہورہا ہے جس کا جلد یا بدیر تریاق کرتے ہوئے نادیدہ ہاتھ یوں کرشمہ سازی کرتے کہ وزنی دکھتا سیاست دان عوامی نظروں میں ہلکا بناکر رکھ دیا جاتا، جیسے کہ اس سے بڑا چور، ملک دشمن یا انڈیا کا ایجنٹ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ یوں مختلف النوع گھٹیا الزامات کے تحت اُبھرتے یا سر نکالتے سیاستدان کو فارغ کیا جاتا تو اس کی جگہ اپنے تئیں ایسے شخص کو لایا جاتا جس کے بارے میں لانے والوں کو یقین ہوتا کہ یہ مٹی کا مادھو نہ بھی ہو ہمارا لایا یا بٹھایا ہونے کی وجہ سے ہمارا مرہونِ منت رہے گا۔ اور پوری جانفشانی کے ساتھ کٹھ پتلی کا رول ادا کرے گا۔
جونہی وہ پرپرزے نکالتا ہے تو یہ گمان کیاجاتا ہے کہ ہماری بلی اور ہمی کو میاؤں۔ تاریخی طور پر شخصی حکمرانی یا غیر جمہوری ادوار میں تو اس نوع کی روش عام ملاحظہ کی جاسکتی ہے جیسے کہ ہم زوال پذیر مغلیہ دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی شروعات کے رول کو مختلف مثالوں سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ شاید ایسے دور کو طوائف الملوکی کا نام دیاجاتا ہے مگر بدقسمتی سے اس مملکتِ بدنصیب کے قیام سے لے کر اب تک کی پون صدی پر محیط تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ بظاہر نام یہاں ہر کوئی جمہوریت کا خوب جپتا یا الاپتا ہے لیکن دھندہ وہی ہوتا ہے۔ شاید اس پس منظر میں ہمارے فارغ ہوتے بلند پرواز نے اتحادی ارکانِ پارلیمان کے الوداعی عشائیے میں لب کشائی خوب کی ہے ”مجھے اس نوع کے طعنے دیے جاتے ہیں کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہوں لیکن مجھے ان طعنوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا “۔
وہ ٹھیک فرمارہے ہیں انہیں بلاشبہ ایسے طعنوں سے فرق پڑنا بھی نہیں چاہیے۔ جب بندہ یہ مصمم عہد کرلے کہ میں نے کلرکی یا نوکری کرنی ہے تو پھر اسے کوئی چیری بلاسم کا نام دے یا بوٹ پالشیا کہے یا کٹھ پتلی و چاپلوس، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
غلام مصطفےٰ جتوئی نے محترمہ بے نظیر کے بالمقابل یا ان کی محاذ آرائی کے علی الرغم طاقتوروں کی نوکری قبول فرمالی اور یوں وزارتِ عظمیٰ کی گدی پر بٹھادیا گیا تو انہیں بھی کچھ اس نوع کے طعنے سننے پڑے۔ زچ ہوکر انہوں نے کہا تھا کہ آپ لوگ مجھے جو مرضی کہہ لیں لیکن یاد رکھیں پاکستان کی تاریخ میں میرا نام وزیراعظم کے طور پر ہی لکھا جائے گا جو خود کو بڑا یا پاپولر وزیراعظم کہتے ہیں میرا نام ان کے ناموں کے ساتھ ہی آئے گا۔ آج اسی اعترفِ ندامت کا مظاہرہ ہم اپنے موجودہ مصالحتی کہیں یا خوشامدی وزیراعظم کے منہ سے بھی سن رہے ہیں جن کا فرمانا ہے کہ مجھے پرویز مشرف کے حوالے سے بھی بڑے طعنے دیے جاتے تھے۔ یہ کہ میں ان کا بڑا ”قریبی“ ہوں حالانکہ اس نے مجھے کون سے لڈوپیڑے کھلادیے تھے۔ دوسرے لفظوں میں میں نے ان کی اتنی چاپلوسی کی کہ مجھے اسی نامِ نامی اسمِ گرامی سے پہچانا جانے لگا مگر اس نے مجھے وہ لڈوپیڑے مراد نمائشی عہدہ دیتے ہوئے نمائشی وزیراعظم بھی نہ بنایا۔
درویش کی نظر میں یہ سوچ جمہوریت کی عظمت یا سویلین اتھارٹی منوانے کے حوالے سے زہر قاتل ہے۔ اس سے جینوئین لوگ جو اپنی عوامی طاقت سے اوپر آتے ہیں وہ کمزور پڑتے ہیں اور ان کے اندر عوامی اتھارٹی منوانے کا جذبہ بھی مانند پڑتا ہے۔ اسے طاقت یا حالات کا جبر ہی قرار دیاجائے گا کہ عوامی اتھارٹی منوانے کی دھن رکھنے والوں کو جب بے دست و پا کردیا جائے گا تو اس حالتِ بے بسی میں وہ مجبور ہوں گے کہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے بھاگتے چور کی لنگوٹی پر آجائیں۔ دیکھا جائے تو ہماری سیاسی شطرنج کی بازی جیسی ہے، جس میں کبھی آگے جانا ہوتا ہے تو بارہا پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے لیکن اس پوری گیم میں اصل کچومر عوام کانکلتا ہے۔
آج ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک قومی تعمیر و ترقی میں آگے بڑھتے ہوئے چندریان تھری جیسے تجربات کررہے ہیں جبکہ ہم لوگ یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ نگران وزیراعظم کون ہوگا، اگلے انتخابات اگلے برس بھی ہوپائیں گے یا ایک نیا طویل دورانیہ بھگتنا پڑے گا؟ ہمارے یہاں مقابلہ عوامی اتھارٹی منوانے میں نہیں ہے اس امر میں ہے کہ بڑا کٹھ پتلی اور زیادہ چاپلوس کون ہے؟ ایک کو خود لانے والوں نے ٹھڈا مارا ہے تو وہ پھر بھی وہی پکا راگ الاپ رہا ہے ”تمہی سے محبت تمہی سے لڑائی“ سب کو اس کی نااہلی اور جیل یاترا دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن وہ سوچتا ہے کہ ملے نہ پھول تو کانٹوں سے دوستی کرلی، بوٹ والا نہ سہی تو ہتھوڑے والا ہی سہارا بن جائے گا۔ مولوی نہ ملے گا تو مالوی ہی سہی خدا خدا نہ سہی رام رام کر لیں گے لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی کیا ہماری سوچیں بوٹوں اور ہتھوڑوں سے آگے بھی جاسکتی ہیں؟
کیا ہم کبھی طاقتوروں کے ساتھ ساتھ ایسی چھوٹی ذہنیتوں سے بھی چھٹکارا پاسکیں گے؟ کیا ہم بھی کبھی آئیڈیل جمہوریت کا منہ دیکھ پائیں گے؟ کیا ہم بھی کبھی بھکاری کی بجاۓباوقار جمہوریت نواز قوم بن پائیں گے؟