افغان پالیسی کے قبرستانی ہیولے (3)

پاکستان کی افغان پالیسی پر تحریروں کے اس سلسلے کا مقصد محض یہ واضح کرنا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کے خلاف بدترین ریاستی جرم افغان معاملات میں مداخلت رہی ہے۔ اس فضیحتے میں پاکستان کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کے خلاف بدترین ریاستی جرم افغان معاملات میں مداخلت رہی ہے۔ اس فضیحتے میں پاکستان کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا۔

داخلی سطح پر سیاسی اور معاشی بدھیا بیٹھ گئی۔ سرکاری سطح پر ہمارا افغان موقف ہر چند ماہ تبدیل ہوتا رہا۔ نتیجہ یہ کہ ایک طرف ہماری خارجی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی، دوسری طرف خود افغان عوام میں شدید معاندانہ جذبات پیدا ہوئے۔ پاکستان اس لڑائی میں اسلامی رشتے کا پرچم اٹھائے داخل ہوا تھا۔ مذہب فرد کا داخلی تجربہ ہے۔ سیاست اور معیشت کے دیوتا ایسے سنگی حقائق ہیں کہ صلیبی جنگوں سے ڈھاکہ تک مذہب کبھی پائیدار سیاسی یا معاشی بندوبست کی بنیاد نہیں بن سکا۔ نصف صدی پہلے ہم افغانستان میں ملوث ہوئے تو ہمارے اسلامی پھریرے پر سرد جنگ کے مغربی نظریہ سازوں کی مہر ثبت تھی۔ اس دوران پاکستان میں مذہبی مدرسوں کی تعداد تین سو سے بڑھ کر 35 ہزار تک جا پہنچی۔ یہ مدرسے دراصل افغان مزاحمت کے لئے غریب نوجوانوں کے بھرتی مراکز تھے جنہیں نیبراسکا یونیورسٹی کے تیار شدہ جہادی نصاب کا بپتسمہ دیا گیا تھا۔ خود پاکستان میں تدریس اور صحافت کے شعبوں میں باقاعدہ تطہیر، ادخال اورتلقین کے ذریعے اجتماعی ذہن پر جنگجو مذہبیت کی گہری تہ جمائی گئی۔

1988 میں سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا کی خبر آئی تو مجاہدین کی فتح کے تاشے مجیرے زور و شور سے پیٹے گئے۔ منتخب وزیراعظم بینظیر بھٹو پر عدم اعتماد کا یہ عالم تھا کہ انہیں قومی سلامتی پر بریفنگ کے لیے عسکری دفاتر میں طلب کیا جاتا تھا۔ سیاسی قیادت کے لیے خارجہ پالیسی ممنوعہ علاقہ قرار پائی۔ برسوں بعد اسلم بیگ نے 4 جنوری 2009ءکو پاکستان آبزرور میں لکھا کہ ’افغانستان میں سوویت یونین کو شکست ہو چکی تھی۔عراق کے خلاف جنگ میں ایران ایک مضبوط علاقائی طاقت بن کر ابھرا تھا۔ پاکستان میں ضیا حکومت ختم ہو چکی تھی۔ یہ بہترین موقع تھا کہ تینوں مسلمان ممالک ’مشترکہ دشمنوں‘ کے خلاف اتحاد قائم کر کے ایک سٹریٹجک ڈیپتھ (تزویراتی گہرائی) کی بنیاد رکھیں‘۔ اسلم بیگ کی سیاسی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ وہ شمالی افغانستان اور ایران کا تاریخی تعلق سمجھنے سے قاصر تھے۔ وہ یہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ افغانستان مستقبل میں بھارت سے قریبی تعلقات قائم کرنا چاہے گا۔

نفسیاتی جنگ کے ماہرین میں اتفاق ہے کہ حریف قوتوں کے باغی عناصر کو ذہنی غسل دینے والے اہلکاروں کی اپنی ذہنی اور پیشہ ورانہ صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی دو بڑی مثالیں حمید گل اور جاوید ناصر تھے۔ جاوید ناصر تو مذہبی غلو کے اس درجے پر پہنچ گئے کہ امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر نے وزیراعظم نواز شریف کو باقاعدہ دھمکی دی تھی کہ پاکستا ن کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔ حمید گل ایک اور مزاج کے عبقری تھے۔ ان کی توقع کے برعکس سوویت انخلا کے باوجود نجیب اللہ حکومت قائم رہی تو انہوں نے 5 مارچ 1989 کو جلال آباد پر افغان مجاہدین سے حملے کروا دیا۔ کچھ ابتدائی کامیابی کے بعد افغان مجاہدین فضائی بمباری اور سخت زمینی مزاحمت کے سامنے بے بس ہو گئے۔ اس حملے میں عرب مجاہدین سمیت 3000 جنگجو مارے گئے۔ مرنے والے شہریوں کی تعداد بارہ سے پندرہ ہزار تھی۔ نجیب کی افغان فوج کو 1500 جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔

جلال آباد حملے کی ناکامی سے بینظیر بھٹو کو حمید گل کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹانے کا موقع مل گیا۔ تاہم حمید گل ٹولہ چین سے نہیں بیٹھا۔ 6 مارچ 1990 کو سابق کمیونسٹ شاہ نواز تنائی اور گل بدین حکمت یار کے عجوبہ اتحاد کی مدد سے کابل میں بغاوت کی ایک اور کوشش کی گئی جو بری طرح ناکام ہوئی۔ شاہ نواز تنائی فرار ہو کر پشاور پہنچ گئے۔ اگلے برس اپریل 1992 میں سوویت حکومت کے انہدام کے بعد نجیب اللہ حکومت ختم ہونے کا امکان بڑھ گیا چنانچہ باہم دست و گریبان مجاہدین رہنماﺅں کو معاہدہ پشاور کے ذریعے اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن عبوری حکومت کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہو گیا کیونکہ حکمت یار کو صبغت اللہ مجددی کی قیادت قبول نہیں تھی اور وہ کابل پر قبضہ کر کے حکومت کرنا چاہتا تھا۔ مجددی کو اس منصوبے کی بھنک پڑی تو اس نے احمد شاہ مسعود کو وزیر دفاع مقرر کر کے حکمت یار کے خلاف کھڑا کر دیا۔ 24 اپریل 1992 کو حکمت یار نے کابل پر قبضے کا اعلان کیا اور 25 اپریل کو احمد شاہ مسعود نے حکمت یار کی حزب اسلامی کو مار بھگایا۔ بالآخر پاکستان پر واضح ہو گیا کہ گل بدین حکمت یار افغانستان میں حکومت قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

جہاں تک سوویت یونین کے انہدام میں افغان جنگ کے کردار کا تعلق ہے تو سمجھنا چاہیے کہ نو سالہ جنگ میں پندرہ ہزار روسی فوجی مارے گئے جبکہ نوے ہزار مجاہدین ہلاک ہوئے، ایک لاکھ افغان شہری مارے گئے۔ 28 لاکھ افغان مہاجرت کر کے پاکستان آئے اور 15 لاکھ نے ایران کی راہ لی۔ موازنے کے لیے یہ جاننا کافی ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں سوویت اموات کی تعداد دو کروڑ ستر لاکھ تھی۔ ویت نام میں اٹھاون ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ سوویت یونین کے انہدام کے اسباب داخلی تھے۔ 1970 میں سوویت یونین امریکا کے بعد دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھا۔ بریژنیف دور کے معاشی، سیاسی اور انتظامی جمود کے باعث 1990 تک روس پہلی دس معیشتوں میں بھی شمار نہیں ہوتا تھا۔ گورباچوف کے لیے بے مقصد افغان جنگ ختم کیے بغیر پریس ٹرائیکا کی اصلاحات کو آگے بڑھانا ممکن نہیں تھا۔ سوویت یونین کا کمیونسٹ اقتدار افغانستان میں نہیں بلکہ اگست 1991 میں ماسکو میں ختم ہوا جب گورباچوف کو اپنی حکومت بچانے کے لیے بورس یلسن سے مدد لینا پڑی۔

پاک افغان مجادلے کا قصہ آج نبیڑ دیتے ہیں۔ پچاس برس پر پھیلی یہ دیوار گریہ تو جہالت، سازش، جرم، ناانصافی اور تشدد کے بدصورت پتھروں سے اٹھائی گئی ہے- قتل و غارت کی اس لہو آلود کہانی پر سینکڑوں کتابیں اور لاکھوں اخباری مضامین لکھے گئے ہیں۔ کاغذ پر کھنچے یہ بے معنی حروف مگر 19 سالہ رخشندہ کے درد کا احاطہ نہیں کر سکتے جسے 2015 میں طالبان  نے صوبہ غور کے قصبے فیروز کوہ میں سنگسار کیا تھا۔ درس گاہوں میں بیٹھے افغان جنگ کے مقالہ نویس کابل کی 27 سالہ رخشندہ کا المیہ بھی بیان نہیں کر سکتے جسے طالبان نے بے بس افغان شہریوں کے سامنے تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد اس کی جلی ہوئی نعش دریائے کابل میں پھینک دی تھی۔ رخشندہ کا جنازہ کابل کی عورتوں نے اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔ پاکستان میں بیٹھ کر مہذب افغان قوم کی بربادی رقم کرنے سے میرا قلم یوں بھی قاصر ہے کہ مجھے تو اپنے 15 سالہ اعتزاز بنگش کو یاد  رکھنے کی توفیق نہیں جس نے 6 جنوری 2014 کو خود کش حملہ آور کو اپنے سکول کے دروازے پر روکتے ہوئے جان دی تھی۔ مجھے ٹانک کے اس بہادر استاد کا نوحہ لکھتے ہوئے حیا آتی ہے جسے مارچ 2007 میں اپنے طالب علموں کو جہاد کے لئے بھیجنے سے انکار کی پاداش میں کھال کھینچ کر شہید کیا گیا تھا۔

میں تو اے پی ایس پشاور کے 142 پھولوں اور ان کی فرض شناس پرنسپل طاہرہ قاضی کو بھی فراموش کر چکا۔ مجھے منگورہ کے خونی چوک میں ہر صبح لٹکتی بے لباس لاشیں بھول چکی ہیں۔ مجھے غیرقانونی ریڈیو پر بنکارتا ملا دوران شاہ تو ایک طرف، امریکی لب و لہجے میں دھمکیاں دینے والے مسلم خان کی موجودہ قانونی حیثیت کا اتا پتا نہیں۔ مجھے تو سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی نومبر 2014 میں واشنگٹن میں کی گئی وہ تقریر تک استحضار نہیں جس میں انہوں نے پاکستانی فوجی جوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے والوں کو معاف نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایسا نہیں کہ اپنی یادداشت اچھی نہیں۔ ریاست پر سے اختیار چھن جائے تو شہری کے پاس مزاحمت کے لئے حافظے کے سوا بچتا ہی کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ درویش طبعاً محتاط ہے۔ بات کرنے سے پہلے ریاست کا تازہ فرمان دیکھ لیتا ہے۔ ان دنوں قومی افق پر گہری دھند چھائی ہے۔ فیض صاحب کے لفظوں میں: نظر پہ کھلتا نہیں کچھ اس دم، کہ دل پر کس کس کا نقش باقی ہے۔ دوسرے یہ کہ قومی اسمبلی میں ذرائع ابلاغ کے ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد دھڑکا سا رہتا ہے کہ کالم لکھنے والا تو منظور شدہ خبر کے پار جھانکنے کی خدمت پر مامور ہے۔ نامعلوم کب Misinformation  اور Disinformation کی مفروضہ لکیر پر پاؤں رکھ بیٹھے۔ ہم افغان قضیے کے بیان میں طالبان کی نمود تک پہنچے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے آگے ہمارے لئے ادھورا سچ بولنا بھی مشکل ہے۔ یوں کرتے ہیں کہ ایک مجمل بیان دے کر یہ قصہ ختم کرتے ہیں۔

امریکا میں ایک صاحب تھے نارمن میکلین (Norman Maclean)۔ 1977 میں میکلین نے ایک خود سوانحی ناولٹ لکھا تھا A river runs through it۔ 1992 میں Robert Redford نے اس پر ایک فلم بھی بنائی تھی۔ ایک شفیق پادری اور دو بیٹوں کی کہانی ہے، بڑا بیٹا اطاعت گزار ہے۔ چھوٹا بھائی خطر پسند ہے اور بھری جوانی میں مارا جاتا ہے۔ ناولٹ کیا ہے، انسانی تاریخ کا استعارہ ہے۔ بہتے دریا کو وقت جانیے اور دو کناروں کو زندگی کرنے کے دو مختلف اطوار۔ ٹالسٹائی نے ’جنگ اور امن‘ میں تصویر کے یہی دو رخ دکھائے تھے۔ امن خواب کی نیلگوں دھند میں لپٹی نیند ہے اور جنگ آتش و آہن کے جلو میں موت کی بے بس سسکی ہے۔ 1258 میں بغداد پر ہلاکو خان کا حملہ ہو یا سترہویں صدی میں بلغاریہ سے آسٹریا تک عثمانی فوج کی یلغار۔ خود ہم نے گزشتہ صدی میں سٹالن گراڈ، نانکنگ، کوونٹری اور ڈریسڈن جیسے شہروں کو کھنڈر ہوتے دیکھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ترقی یافتہ قوموں نے ہتھیار بنانے کا کاروبار خود سنبھال لیا ہے اور جنگ کے لئے اجنبی زمینوں کو ہدف بنا لیا ہے۔ ہم نے کوریا، ویت نام، عراق، لیبیا اور شام کو اجڑتے دیکھا۔ اب یوکرائن میں جنگ دیکھ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ ایک غیرپیداواری سرگرمی مگر نہایت منافع بخش کاروبار ہے۔ کرائے پر چلنے والی ریاستیں بھوک، محرومی اور افلاس کا درماں قرض میں ڈھونڈتی ہیں یا طاقتور ریاستوں سے جنگی خدمت گزاری کا معاوضہ چاہتی ہیں۔ پاکستان نے 1989 کے بعد جنگی معیشت کا راستہ ترک نہیں کیا۔ تاہم اپنے پاس یہ بساط بچھانے کے وسائل نہیں تھے۔ 1994 میں طالبان کی نمود کے چار بنیادی کردار تھے۔ نصیراللہ بابر، مولانا فضل الرحمن، افغان تجارت سے وابستہ کاروباری طبقہ اور چوتھے فریق کا نام لینے کی اجازت نہیں۔ نائن الیون کے بعد ہمیں پھر سے کرایہ ملنے لگا لیکن خارجی اور داخلی محاذوں پر دوہری پالیسی کے لئے ریاستی جھوٹ گھڑنا پڑے اور ان میں سے ہر جھوٹ ہمارے گرد شکنجہ بنتا گیا۔ ہم نے نائن الیون کو سازش قرار دیا۔ دہشت گردی کی تعریف پر بحث میں الجھے رہے، اچھے اور برے طالبان میں تفریق پیدا کی، طالبان سے مذاکرات کا راگ چھیڑا، کوئٹہ شوریٰ کو پراپیگنڈا قرار دیا، بلیک واٹر پر الزام دھرا، ایبٹ آباد واقعے پر سنجیدہ نہیں ہوئے، افغانستان میں دشمن ممالک کے قونصل خانے دریافت کئے، اندرون ملک دہشت گردی کو کبھی مخالف خفیہ اداروں کی کارروائی بتایا تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کا ذیلی نقصان قرار دیا۔

آج افغانستان میں مداخلت ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ باجوڑ دھماکہ تو ابتدائی اشارہ ہے، اپنی معیشت خراب ہے، بیرونی دنیا اب افغان قضیے سے آگے نکل چکی۔ افغانستان میں ایک حریف حکومت وجود میں آ چکی، ہم ماضی کی طرح خواب کا بیوپار کر رہے ہیں۔ آج کا سچ یہ ہے کہ ہمیں شفاف سیاست اور پیداواری معیشت کو ترجیح بناتے ہوئے دہشت گردی سے دوٹوک لڑائی کے سوا چارہ نہیں۔ (ختم شد)

(بشکریہ: ہم سب لاہور)