نواب شاہ کے قریب ٹرین حادثہ میں بیس افراد جاں بحق
نواب شاہ کے قریب ہزارہ ایکسپریس کی کم از کم 10 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں جس کے نتیجے میں 20 مسافر جاں بحق جب کہ 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ہزارہ ایکسپریس ٹرین کراچی سے راولپنڈی جارہی تھی۔ حادثہ نواب شاہ سرہاری ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آیا اور نیوز چینلز پر نشر ہونے والی فوٹیج میں مسافروں کی بڑی تعداد کو پٹڑی سے اتری ہوئی بوگیوں کے پاس جمع دکھایا گیا۔
سرہڑی کے ہسپتال میں 20 لاشیں اور 50 زخمی لائے گئے ہیں۔ مزید لاشوں اور زخمیوں کو جائے حادثہ سے نکالا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نے بتایا کہ شہداد پور، نواب شاہ کے ہسپتالوں میں زخمیوں کو بھی لایا گیا ہے۔ زیادہ تر زخمی مسافروں کے جسم کے اعضا کٹے ہوئے ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے جبکہ جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی شرجیل انعام میمن نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے محکمہ آبپاشی کی بھاری مشینری بھی موقع پر پہنچائی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہا کہ تمام مقامی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی ریلوے حکام کو ہزارہ ٹرین حادثے کی انکوائری کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے شہید بینظیر آباد کی ڈویژنل انتظامیہ کو بھی ہدایت کی کہ زخمی مسافروں کو ہسپتالوں میں ہر قسم کی طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے حادثے پر فوری ردعمل دیتے کہا کہ نواب شاہ حادثے کا علم ہے، ہم اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔ سیکریٹری ریلوے اس وقت نواب شاہ میں کام کر رہے ہیں۔ لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے نے کہا تھا کہ حکام کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق 15 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
سعد رفیق نے کہا کہ ٹرین مناسب رفتار سے چل رہی تھی جو ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا۔ حکام جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں، سکھر اور نواب شاہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سے فون پر بات ہوئی ہے، سیکریٹری ریلوے نواب شاہ حادثے کے مقام پر کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعہ میں جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا، اپنے بیان میں انہوں نے ڈپٹی کمشنر نوابشاہ کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
پاکستان ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی فوج اور رینجرز نے جائے حادثہ پر فوری امدادی سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے حیدرآباد اور سکرنڈ سے اضافی نفری طلب کرلی ہے۔ آرمی چیف نے امدادی سرگرمیوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں، پاک فوج اور رینجرز کی امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچنا شروع ہوگئ ہیں۔