عمران خان کی گرفتاری کے ملکی سیاست پر اثرات
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 06 / اگست / 2023
تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا اور اٹک جیل منتقلی کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ اس کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اگرچہ عمران خان گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنی گرفتاری کے بارے میں متنبہ کرتے رہے تھے لیکن عام طور سے یہ قیاس نہیں کیا جارہا تھا کہ انہیں یوں اچانک سزا دے کر جیل میں بند کردیا جائے گا۔
گرفتاری کے بعد عمران خان کا ایک ویڈیو پیغام بھی نشر ہؤا ہے جس میں انہوں نے اپنے کارکنوں سے پر امن احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔ تحریک انصاف کے بعض لیڈروں کے احتجاجی اور مذمتی بیانات بھی سامنے آئے ہیں لیکن 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد دیکھے جانے والے شدید احتجاج اور توڑ پھوڑ کی کارروائیوں کے برعکس اس بار ملک کے کسی علاقے سے کسی بڑے یا چھوٹے احتجاج کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔ حتی کہ زمان پارک میں عمران خان کی گرفتاری کے وقت جمع ہونے والے کارکنوں کی تعداد بھی درجن بھر سے زیادہ نہ تھی۔ ان عوامل کا ضرور تجزیہ کیا جاسکتا ہے جن کی وجہ سے تحریک انصاف ، عمران خان کو ’ریڈ لائن‘ قرار دینے کے باوجود اب ان کی گرفتاری اور قید پر کوئی احتجاج منظم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ تاہم اس حقیقت سے قطع نظر کسی کو اس غلط فہمی کا شکار بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ملک کی ایک بڑی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کو قید کرنے کے سیاسی اثرات دیکھنے میں نہیں آئیں گے۔
عمران خان کے سیاسی مستقبل اور اس حوالے سے تحریک انصاف کے ملکی سیاست میں کردار کے حوالے سے حقیقی صورت حال تو اگلے ہفتے کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی اپیلوں پر عدالتی رد عمل کے بعد ہی واضح ہوگی۔ اگر ہائی کورٹ ، سیشن عدالت کے فیصلے کو مسترد کرکے عمران خان کو فوری ریلیف دے دیتی ہے اور انہیں جیل سے رہائی مل جاتی ہے اور سیاست سے نااہلی کا معاملہ بھی التوا کا شکار ہوجاتا ہے تو حالات جمعہ کو سامنے آنے والے فیصلے اور اس کے نتیجے میں عمران خان کی حراست سے پہلے کی صورت حال پر واپس آجائیں گے۔ یعنی عمران خان مقدمات کا سامنا بھی کرتے رہیں گے لیکن انہیں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی سہولت بھی حاصل رہے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے ایسی کوئی سہولت عمران خان اور تحریک انصاف کے حوصلے بلند کرنے کا سبب بنے گی۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ جن عناصر نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا دلوا کر ان کی فوری گرفتاری اور اٹک جیل منتقلی کا اہتمام کیا ہے ، وہ ایسے کسی عدالتی اقدام پر کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔
اب یہ واضح ہورہا ہے کہ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کا فیصلہ محض قانونی میرٹ کی بجائے، عمران خان کی سیاست اور تحریک انصاف کے ملکی سیاست میں کردار کو پیش نظر رکھ کر لکھا گیا تھا۔ میڈیا میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق عمران خان کو سزا دینے کا حکم دینے والے جج ہمایوں دلاور اگلے ہی دن ایک جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کے لئے برطانیہ روانہ ہوگئے۔ حیرت انگیز طور پر ان کا یہ سفر کسی قبل از وقت طے شدہ پروگرام کا حصہ نہیں تھا بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 4 اگست کو لکھے گئے ایک خط میں جج ہمایوں دلاور کو جج فیضان حیدر کی جگہ یونیورسٹی آف ہل میں منعقد ہونے والی ایک جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کے لئے نامزد کیا تھا۔ ہمایوں دلاور نے اگلے ہی دن عمران خان کو جیل بھیجنے کا حکم دیا اور اسی رات لندن روانہ ہوگئے۔ خبر کے مطابق متعدد ججوں کے نام برطانیہ کا ویزا نہ ملنے کی وجہ سے آخری وقت میں تبدیل کئے گئے ہیں تاہم ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں عمران خان کو سزا دینے والے جج کی سرکاری خرچ پر فوری برطانیہ روانگی سے متعدد سوال پیدا ہوں گے۔ اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکے گا کہ عمران خان جج ہمایوں دلاور کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے ایک درخواست میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق ان کے مقدمات کی سماعت نہ کریں۔
اب اگر اسلام آباد ہائی کورٹ سے عمران خان کو ریلیف نہیں ملتا تو یہ بات طے ہوجائے گی کہ انہیں سزا دلوانے میں صرف ایک جج ہی ملوث نہیں ہے بلکہ ملکی عدالتی نظام کو ایک بار پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ’کمپرومائز‘ کیا جارہا ہے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس کا سارا الزام اسی اسٹبلشمنٹ پر عائد ہوگا جو اس سے پہلے بھی سیاسی بادشاہ گری کے مقصد سے عدالتوں کو مجبور کرتی رہی ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں کو کسی بھی قیمت پر جیل بھیجنے یا نااہل قرار دینے کا اہتمام کریں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ عملی طور سے یہ کام کیسے سرانجام پاتا ہے یا واقعی عسکری اداروں کے اعلیٰ افسر ججوں کو بعض فیصلوں کے بارے میں واضح ہدایات دیتے ہیں اور وہ انہیں ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں دائیروں کے سفر کی بات تواتر سے کی جارہی ہے ۔ عمران خان کے مخالف تجزیہ نگار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ گرفتاری اور قید کی سزا محض قانونی میرٹ پر نہیں سنائی گئی بلکہ یہ اسی پرانے طریقے کا نقش ہے جو اس سے پہلے بھی سیاسی معاملات کو مینیج کرنے کے لئے اختیار کیا جاتا رہا ہے۔
عمران خان کی طویل قید اور نااہلی جاری رہنے کی صورت میں شاہ محمود قریشی پارٹی کی قیادت کریں گے۔ پاکستان کی دیگر پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف بھی ایک شخص کے گرد ہی کھومتی تھی۔ اس کے تمام فیصلے عمران خان کرتے تھے اور وائس چئیرمین کے عہدے پر سرفراز ہونے کے باوجود شاہ محمود قریشی کے پاس پارٹی معاملات میں کوئی اختیار نہیں تھا۔ بلکہ وہ اس عہدے پر صرف اس لئے فائز تھے کیوں کہ وہ عمران خان کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ شاہ محمود قریشی بھی سانحہ 9 مئی کے بعد گرفتار ہونے والے لیڈروں میں شامل تھے اور کئی ہفتے تک کسی مقدمہ کے بغیر انہیں قید رکھا گیا تھا ۔ تاہم پارٹی کے بعض دیگر لیڈروں کے برعکس وہ چند ہفتے بعد ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس کے بعد ان کی عمران خان سے طویل ملاقات بھی ہوئی جو اطلاعات کے مطابق اختلاف اور تلخی پر ختم ہوئی ۔لیکن شاہ محمود قریشی پارٹی میں شامل رہے اور وائس چئیر مین کے عہدے سے بھی نہیں ہٹائے گئے۔
شاہ محمود قریشی کو بھی متعدد دوسرے سیاست دانوں کی طرح اسٹبلشمنٹ کا ’اثاثہ‘ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کی گرفتاری، رہائی اور معتدلانہ بیانات کے تناظر میں یہ قیاس آرائیاں موجود تھیں کہ عمران خان کو سیاسی منظر نامہ سے ہٹا کر شاہ محمود قریشی کو تحریک انصاف سنبھالنے کا کام سونپا جائے گا۔ اب وہ مرحلہ عملی طور سے سامنے آگیا ہے۔ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے قائم مقام چئیرمین ہیں اور کور کمیٹی میں انہی کی مرضی سے فیصلے ہوں گے۔ اگرچہ ان کی قیادت میں بھی تحریک انصاف ان نعروں پر قائم رہے گی جو عمران خان کی سیاسی کامیابی کی بنیاد بنے تھے لیکن شاہ محمود قریشی کی سرکردگی میں تحریک انصاف سیاسی مین اسٹریم میں واپس آنے کے لیے مفاہمت اور بات چیت کا راستہ اختیار کرے گی۔ ایسی پارٹی کو ’انعام ‘ کے طور پر قومی و صوبائی اسمبلیوں میں چند نشستیں ضرور مل جائیں گی لیکن یہ عمران خان کی سربراہی میں قائم ہونے اور عروج پانے والی پارٹی نہیں ہوگی۔ ملکی سیاست کے اگلے مرحلے میں ایسی تحریک انصاف کو شاید اقتدار میں کوئی خاص حصہ بھی نہ مل سکے البتہ اگر شاہ محمود قریشی نے سیاسی چابکدستی سے کام لیا تو پی ٹی آئی کو اپوزیشن پارٹی کے طور پر کردار ادا کرنے کا موقع ضرور مل جائے گا۔
دوسری طرف عمران خان کے شیدائیوں اور جاں نثاروں کے لئے ایسی پارٹی اور اس کی قیادت قابل قبول نہیں ہوگی جو عمران خان کی قید پر سمجھوتہ کرلے اور سیاسی عمل کا حصہ بننے پر آمادہ ہوجائے۔ اگرچہ ایسے احساسات رکھنے والے عناصر کے پاس نہ تو کوئی متبادل قیادت ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسا ایجنڈا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے وہ عمران خان کے ’حقیقی آزادی‘ مشن کو جاری رکھ سکیں۔ بدنصیبی سے عمران خان کی سیاست کا محور اور کامیابی کا سفر نام نہاد ’ایک پیج‘ کی سیاست سے مکمل ہؤا تھا۔ یعنی وہ فوجی قیادت کے کاندھوں پر سوار ہوکر دھاندلی سے اپنے مخالفین کو نیچا دکھا کر اقتدار تک پہنچے تھے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد بھی وہ سیاسی مکالمہ پر آمادہ نہیں ہوئے اور ان کی یہی کوشش رہی کہ کسی طرح فوج سے مصالحت ہوجائے تاکہ وہ پہلے کی طرح باقی سیاسی لیڈروں کو ملکی سیاست سے نکال باہر کریں۔ سانحہ 9 مئی کی وجہ سے یہ کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں اور عمران خان یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ اسٹبلشمنٹ سے مقابلہ کی ایک ہی ممکنہ صورت ہوتی ہے کہ ملک کے تمام سیاسی عناصر مل کر کسی ایسے نظام پر اتفاق کرلیں جس میں فوج کا کردار محدود کیا جاسکے۔
ملکی سیاسی تاریخ اور جمہوری عمل میں اداروں کی مداخلت کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہ طے ہے کہ اس مقصد کوحاصل کرنے کے لئے طویل سفر کرنا ہوگا۔ بدقسمتی سے عمران خان نے جو راستہ چنا وہ سیاسی جماعتوں کے بعد اداروں کے ساتھ تصادم کا راستہ تھا۔ یہی طرز عمل ان کی سیاسی ناکامی کا سبب بنا ہے ۔ اقتدار کے حصول کے لئے جو کام چند سال پہلے عمران خان انجام دے رہے تھے ، اب وہی مشن شہباز شریف نے اختیار کیا ہؤا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ ’انہیں اس بات سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا کہ انہیں اسٹبلشمنٹ کا آدمی کہا جاتا ہے‘۔ گویا اقتدار ہی ان کی منزل ہے اور اس مقصد کے لئے وہ بھی عمران خان کی طرح ہر جمہوری روایت کو پامال کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ دوسری بڑی ملکی سیاسی پارٹیاں بھی اقتدار میں مناسب حصہ لے کر آئینی جمہوریت کے مقصد پر سمجھوتہ کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتیں۔ اسے ’حقیقت پسندانہ‘ سیاست کہا جاتا ہے۔
عمران خان اور ان کی سیاست کے حوالے سے آئیندہ چند ہفتے اہم اور فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر انہیں مستقل طور سے سیاست سے باہر رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا تو ان کی وجہ سے سیاست میں متحرک ہونے والی ایک پوری نسل مایوس ہوگی، ملکی نظام پر اعتبار کمزور ہوگا اور بڑھتے ہوئے مسائل کی روشنی میں عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگا۔ آئیندہ انتخابات کو ’دھاندلی شدہ‘ سمجھا جائے گا ۔ اس سے نئی حکومت کی ساکھ متاثر رہے گی ۔ سیاست کے علاوہ قومی اداروں پر عوام کا اعتبار متزلزل ہوگا۔ کسی مقبول اور ہوشمند سیاسی قیادت کے بغیر اس صورت حال کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
سیاسی عمل کو بااعتبار بنانے اور جمہوری راستہ ہموار کرنے کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں اور ریاستی اداروں کو متوازن اور مفاہمانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ سوال ہے کہ کیا اٹک جیل کا قیام عمران خان کی سیاسی سوچ تبدیل کرسکے گا؟ اور کیا ملکی سیاست میں متحرک دیگر عناصر عمران خان کے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ ان سوالوں کا جواب مستقبل قریب میں رونما ہونے والے حالات میں ہی سامنے آئے گا۔