زندگی تماشہ: ایک دلیرانہ کوشش

پاکستانی فلم میکرز کو کبھی بھی اظہاررائے کی آزادی نہیں رہی اور ہر دور میں فلموں کو ایک ناقابل فہم سنسرشپ کا سامنا رہاہے۔ 1954 میں جب ملک کے  وزیراعظم محمد علی بوگرہ اور گورنر جنرل ملک غلام محمد تھے، حکومت نے ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد (وحید الدین ضیاء الدین احمد) کی اردو فلم “روحی” پر طبقاتی نفرت بڑھرکانے کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی تھی۔

بعد میں یہ پابندی ختم تو کردی گئ مگر اس پابندی سے سنسر کی ایک ایسی بُری روایت شروع ہو گئی جس کا شکار آج بھی فلم میکرز ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ممالک کے برعکس، پاکستان میں ایک نہیں بلکہ تین فلم سنسر بورڈز ہیں۔ ان تینوں کی طرف سے ہدایتکار سرمد کھُوسٹ کی فلم “زندگی تماشہ” کو نمائش کی منظوری دیے جانے کے باوجود اس فلم کو پاکستان میں ریلیز نہیں ہونے دیاگیا۔ عمران خان کے دور میں تحریک لبیک پاکستان کے کہنے پر فلم کو ریلیز ہونے سے روک دیاگیا تھا۔ سرمد کھُوسٹ نے ریلیز کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور  سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کو فلم دکھائی جس نے فلم کو ریلیز کرنے کی سفارش کی مگر پھر بھی فلم کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے کی اجازت نہ ملی۔

اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی اس وقت کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے اعلان کیا تھا کہ سرمد کھُوسٹ کو کہاگیا ہے کہ وہ اپنی فلم کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کریں۔ فاطمہ بھُٹو اور محمد حنیف جیسے عالمی شہرت یافتہ مصنفین اور ناقدین نے فلم پر پابندی کے خلاف مضامین لکھے مگر فلم کی ریلیز کے لئے راہ ہموار نہ ہو سکی۔ شہباز شریف کی حکومت کے دور میں بھی فلم کی ریلیز کے سلسلے میں پیش ورفت نہ ہوئی اور سرمد کُھوسٹ نے تنگ آکر 4 اگست 2023 کو فلم کو یوٹیوب پر ریلیز کر دیا ہے۔ بقول ان کے اُنہوں نے ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اس فلم کی ریلیز کے لئے درکار تمام قانونی ذمہ داریاں ادا کیں لیکن ان کی فلم کو انصاف نہ ملا۔ سرمد کھُوسٹ کوئی متنازعہ فلم بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی فلم میں کُچھ متنازعہ ہے مگر شاید پاکستان میں انتہائی دائیں بازو کے بنیاد پرستوں کی تنقید کا نشانہ بننے کے لئے متنازعہ ہونا ضروری نہیں۔

فلم کا سکرپٹ نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کی گریجویٹ نرمل بانو نے لکھاہے اور اسے سرمد کی بہن کنول کھُو سٹ نے پرڈیوس کیا ہے۔ سرمد کھُوسٹ نے فلم میں ایک انتہائی مختصر اور دلچسپ رول بھی کیاہے۔ فلم کا ٹائٹل 1974 کی ہدایتکار حیدر چوہدری کی پنجابی فلم “نوکر ووہٹی دا” کے ایک گیت “زندگی تماشہ بنی، دنیا دا ہاسابنی” سے متاثر ہے۔ فلم کی کہانی راحت خواجہ (عارف حسن)، جو شوقیہ طور پر ایک نعت خواں ہے، کے گرد گھومتی ہے۔ ایک دن وہ اپنے ایک دوست کے بیٹے کی شادی میں شرکت کرتاہے جہاں دوستوں کے بے حد اصرار پر ایک پنجابی گیت پر رقص کرتاہے۔ وہ بے ہودہ یا فحش رقص نہیں بلکہ ایک معصوم سا رقص کرتا ہے۔ رقص کی ویڈیو بنائی جاتی ہے جو وائرل ہوجاتی ہے اور اسے عدم برداشت معاشرے کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ اخلاقیات کے خود ساختہ محافظ اسے اخلاقی اقدار کا بھاشن دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسے اپنی بیٹی صدف (امان سلیمان) کی طرف سے بھی شدید ردعمل کا سامنا کرناپڑتاہے۔

وہ اپنی بیمار بیوی فرخندہ (سمیعہ ممتاز) کا بہت خیال رکھتا ہے اور وہ بھی اسے پیار کرتی ہے۔ پُرانی پاکستانی فلمیں دیکھنا اور پرانے گیت سننا اس کا محبوب مُشغلہ ہے۔ شاید اس طرح وہ اپنی شناخت تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عید میلاد النبی کے موقع پر جب وہ محلے میں حلوہ اور نان بانٹتا ہے تو پڑوسی اس کے وائرل شدہ ویڈیو کی وجہ سے اسے مسترد کرتے ہیں۔ اس طرح کے عدم برداشت کا شکار ہونے کے باوجود وہ خود  دوسری اقلیتوں کے ساتھ امتیازی رویہ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ٹرانس جینڈر،  کوئئر اور ہم جنس پرست افراد کے بارے میں کئی تضحیک آمیز جُملے بولتا ہے۔ یہ منافقت عدم برداشت کی باریکیوں کو نمایاں کرتی ہے۔ راحت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے اس کا داماد دانش (علی قریشی) مشورہ دیتا ہے کہ ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ان سے معافی مانگی جائے، جن کی دل آذاری ہوئی ہے۔ ایک مولوی (حماد حیدر بٹ) کے ساتھ مل کر بادشاہی مسجد کے قریب ایک مکان کی چھت پر معذرت کرنے والی ویڈیو کی ریکارڈنگ کا اہتمام کیاجاتاہے۔ دو تین ٹیک کے بعد مولوی ہدایت دیتاہے کہ آخر میں دُعا لمبی ہو اور اس میں فلسطین کے مسلمانوں کے لئے اور امریکہ کے نیست و نابود ہونے کی دُعا بھی ہو۔ حیدر پوچھتا ہے کہ فلسطین اور امریکہ کا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ مولوی غصے میں کہتاہے اتنے سوالوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ پاکستانی معاشرہ برداشت سے عاری پولرائزیشن والا ایک ایسا معاشرہ بن چکاہے جہاں کسی نقطۂ نظر اور کسی اختلاف کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ “زندگی تماشہ” اس معاشرے کی تصویر ہے۔

دو گھنٹے اور چھ منٹ کی اس فلم میں کُچھ مناظر ضرورت سے زیادہ لمبے ہیں جو فلم کے فطری بہاؤ کو ناقص کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ فلم بنانا ایک دلیرانہ اور انتہائی اہم کوشش ہے مگر فلم کی کہانی کے اندر ذیلی موضوعات کے اہم پہلو ایڈیٹنگ کے فقدان اور فلم کی سُست رفتاری میں کھو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود راقم کے خیال میں جن کے پاس یوٹیوب تک رسائی ہے انہیں یہ فلم ضرور دیکھنی چاہئیے تاکہ فلم کے متعلق وہ خود فیصلہ کر سکیں۔

سنیماؤں میں نمائش نہ ہونے کے باوجود  2021 میں یہ فلم آسکرز کے لیے پاکستان کی “آفیشل انٹری” تھی۔ اس کے علاوہ یہ جنوبی کوریا میں بوسن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور لاس اینجلس، امریکہ میں ایشین ورلڈ فلم فیسٹیول میں ایوارڈز جیت چکی ہے۔