عمران خان کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر
- تحریر بی بی سی اردو
- سوموار 07 / اگست / 2023
اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی سے متعلق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کل اعتراضات کے ساتھ سماعت کریں گے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے کازلسٹ جاری کردی گئی۔ چیئرمین تحریک انصاف کے وکلا کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہےکہ عمران خان کی اٹک جیل میں حراست غیر قانونی قرار دی جائے اور سابق وزیراعظم کو جیل میں اے کلاس کی سہولیات فراہمی کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان کو عمران خان کا میڈیکل چیک اپ کرنے کی اجازت دی جائے۔ عمران خان کو کو اپنی فیملی اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی اس درخواست پر دائرہ اختیار نہ ہونے کا اعتراض عائد کر رکھا ہے۔ وکالت نامہ پر چیئرمین پی ٹی آئی کے دستخط نہ ہونے کا بھی اعتراض ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے وکیل کے ذریعے حکام سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ان کی اہلیہ بشری بیگم سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ یہ میرے گھر پر تیسرا حملہ کیا گیا ہے اور اس دوران بشریٰ بی بی کے کمرے کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی گئی۔ مجھے پولیس نے وارنٹ گرفتاری نہیں دکھائے۔ عمران خان نے بتایا کہ ’مجھے 9 مئی کی طرح دوبارہ اغوا کیا گیا ہے۔ جج صاحب نے عجلت میں کارروائی کی۔‘
عمران خان کے وکلا کی ٹیم میں شامل نعیم حیدر نے بتایا ہے کہ انہوں نے اٹک میں جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں پونے دو گھنٹے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں عمران خـان ان نے بتایا کہ ’مجھے کلاس سی میں رکھا ہوا ہے۔ چھوٹا ساچکی والا کمرہ مجھے دیا گیا ہے۔ اوپن واش روم ہے۔ کمرے میں دن کو مکھیاں اور رات کو کیڑے ہوتے ہیں۔ مجھے کھانے کوجو مل رہا ہے اس پراللہ کا شکرادا کرتا ہوں۔ اگر مجھے ڈی کلاس میں رکھتے ہیں تو میں اس کےلیے بھی تیار ہوں۔ میڈیا پر جاکر بتاؤ کہ مرجاؤں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ ساری زندگی بھی جیل میں گزارنی پڑی گزار لوں گا۔‘
نعیم حیدر کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ ’مجھے اندھیرے کمرے میں رکھا ہوا، یہاں نہ ٹی وی کی سہولت موجود ہے، نہ مجھے اخبار دیا جا رہا ہے، نہ کسی سے میرا کوئی رابطہ کرایا جا رہا ہے، جیسے میں کوئی بہت بڑا دہشتگرد ہوں۔‘
اس دوران توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف ایڈوکیٹ لاہور ہائیکورٹ صائمہ صفدر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں کیس کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ توشہ خانہ کیس کا ٹرائل دوبارہ شروع کیا جائے کیونکہ عمران خان کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا اور فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ توشہ خانہ کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے تک سزا معطل کی جائے۔ اس درخواست میں ریاست، حکومت اور جج ہمایوں دلاور کو فریق بنایا گیا ہے۔