آرمی چیف دہشت گردوں کا صفایا کرنے سے پہلے آئین کی حفاظت کا اہتمام کریں
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 07 / اگست / 2023
پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے دہشت گردوں کا سر کچلنے اور ہر قیمت پر ملک میں امن و مان بحال کرکے معاشی احیا کا مقصد حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے یہ باتیں قلعہ بالاحصار کے دورہ کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ ملک کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لئے ڈٹے رہنے کے عزم کا اظہار ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی سیاست میں عسکری اداروں کی دسترس کے بارے میں نت نئے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
ایسے میں سب سے اہم سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ پاک فوج ملک کے جن عوام کی بہبود و حفاظت کے لئے پرعزم ہونے کا اعلان کررہی ہے، ان کے سیاسی حقوق کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام اور بے یقنی کا خاتمہ کیسے ہوگا۔ ضمنی طور سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگر ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کی وجہ سے فوج اور عوام میں فاصلہ بڑھتا رہا تو فوج کیوں کر ملکی دفاع کا بنیادی فرض ادا کرنے کے قابل ہوگی۔ موجودہ آرمی چیف کے علاوہ ماضی میں فوج کی کمان کرنے والے اکثر جنرل یہ اعتراف کرتے رہے ہیں کہ فوج عوام کی مکمل اعانت و حمایت کے ساتھ ہی محاذ پر کامیاب ہوتی ہے ۔ اس لئے پاک فوج کو دفاع کے دعوے کرتے ہوئے یہ ضرور جاننا چاہئے کہ کہیں عوام کے ساتھ اس کا رشتہ کمزور تو نہیں ہورہا۔ اس رشتے میں کسی وجہ سے دراڑیں پڑ رہی ہیں تو اسے وقتی ارتعاش یا بدگمانی نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس تفاوت کی وجوہات جاننے کی کوشش ہونی چاہئے۔
اس وقت ملک میں یہ تاثر قوی ہورہا ہے کہ پاک فوج سرحدوں پر دشمن کا سامنا کرنے کی بجائے خود اپنے ہی لوگوں کے خلاف محاذ آرا رہتی ہے۔ سرحدوں پر تو جنگ کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ بلکہ حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کو ایک بار پھر بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ مسائل جنگ سے حل نہیں ہوسکتے۔ اس بیان کا منطقی نتیجہ تو یہ سامنے آنا چاہئے کہ کم از کم پاکستان کی طرف سے ایسے اقدامات دیکھنے میں آئیں جن سے واضح ہو کہ پاک افواج اب جنگ کی بجائے امن کے ایک نئے اور بامعنی دور میں داخل ہورہی ہے۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم کا بیان ایک روٹین کی کارروائی تھا۔ اس بیان میں بھی اگرچہ جنگ نہ کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن درحقیقت ملک کے جوہری اثاثوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جنگ کی صورت میں پورا خطہ تباہ ہوسکتا ہے۔ ایٹمی صلاحیت اور اس کے مضمرات پوری دنیا پر عیاں ہیں، اس لئے سیاسی بیان بازی میں جوہری ہتھیاروں کا حوالہ ناجائز اور ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے بیانات سے اشتعال میں اضافہ ہوتا ہے اور امن کا راستہ دشوار ہوجاتا ہے۔
تاہم وزیر اعظم کے اس بیان کے باوصف پاکستان میں دفاعی اخراجات میں اضافہ سے بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ ملک طویل المدت امن کا خوہش مند ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک کے ساتھ تنازعہ کی موجودہ صورت حال میں پاکستان اپنی فوجی صلاحیت میں ڈرامائی کمی نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود متعدد ایسے اقدامات ممکن ہیں جن سے ہمسایہ ملکوں کے علاوہ دنیا کو یہ اشارے دیے جاسکیں کہ پاکستان جنگ کی بجائے امن پر یقین رکھتا ہے اور بات چیت کے ذریعے ہی باہمی تنازعات حل کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ملک کے اندر اور تمام عالمی فورمز پر بھارت دشمنی کا پرچم بلند کرنے کا طرز عمل ترک کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی طالب علموں کو ہندوؤں کے ساتھ دشمنی کا سبق پڑھانے کی بجائے برصغیر کی مشترکہ روایات اور تاریخی اثاثے کا حوالہ دے کر باہمی دوستی کے رویے کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے قیام کو 75 سال ہوچکے ہیں، اس لئے یہ بحث قطعی غیر ضروری ہوچکی ہے کہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم غلط تھی یا مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کی طرف ایک قدم۔ کیوں کہ اس خطے میں جو ممالک وجود میں آچکے ہیں، انہیں ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی اس بنیاد پر عدم تحفظ کا احساس ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگر امن کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو وہ یک طرفہ طور سے بھی کئی ایسے اقدامات کرسکتا ہے جن سے اعتماد میں اضافہ ہو اور خطے میں جنگ کی بجائے امن و امان کی باتیں ہونے لگیں۔
علاقائی امن پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ جیسا کہ حالیہ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ حکومت کے علاوہ پاک فوج نے ملک میں معاشی ترقی کے متعدد منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ سرمایہ کاری میں سہولت کاری کے لئے سول و فوجی قیادت پر مشتمل ایک کونسل قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی سے قطع نظر معاشی منصوبے جاری رہیں گے اور آنے والی حکومت بہر صورت ان منصوبوں اور معاہدوں کا احترام کرے گی جن کا تعلق ملک میں معاشی ترقی سے ہو۔ ان اقدامات کا مقصد ملک کو موجودہ مالی بحران سے نکال کر قومی پیدا وار میں اضافہ کا مقصد حاصل کرنا ہے تاکہ پاکستان اپنے قرضے بھی ادا کرسکے اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرکے عوام کو سہولت بھی فراہم کی جاسکے۔
یہ اعلیٰ مقاصد ہیں لیکن ملکی دفاع کی طرح ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنا بے حد ضروری ہے۔ عوام کو اس بات کا اعتبار ہونا چاہئے کہ ملک کے فیصلے ان کے منتخب لیڈروں کے ایما پر ہی کئے جائیں گے یعنی عوام کو بالادست اور فیصلہ کن عنصر مانا جائے گا۔ یہ مقصد کسی ایک آرمی چیف کی توصیف اور قصیدہ گوئی سے حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لئے ملک میں آئینی جمہوری عمل کو یقینی بنانا بے حد ضروری ہے۔ البتہ معروضی حالات میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک پارٹی کو کمزور کرنے اور ایک لیڈر کو کسی بھی قیمت پر اقتدار سے محروم کرنے کے لئے انتخابات ملتوی کرنے کے بہانے تلاش کئے جارہے ہیں۔ پہلے اسمبلی کی آئینی مدت کا عذر تراش کر کر انتخابات کو ٹالا جاتا رہا حالانکہ پارلیمانی نظام میں جب کوئی ملک کسی بڑے بحران کا سامنا کرتا ہے تو اس سے نکلنے کے لئے انتخابات کے ذریعے عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں انتخابات کو ٹالنے کے حیلے تلاش کئے جارہے ہیں۔
وائس آف امریکہ نے آج اپنی اردو ویب سائٹ پر ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی حکمران جماعتیں اور پاک فوج موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد ایک ایسی نگران حکومت قائم کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہیں جو دو سال کی مدت تک اقتدار میں رہے گی۔ اس میں موجودہ حکمران جماعتوں کے علاوہ تحریک انصاف سے علیحدہ ہوکر بننے والی پارٹیوں کو بھی نمائیندگی دی جائے گی۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے پہلے ہی نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب انہیں ملکی معاملات اور عالمی معاہدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے وسیع اختیار حاصل ہوگا۔ رپورٹ کہا گیا ہے کہ ان اختیارات کے ساتھ طویل المدت نگران حکومت ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کا کام احسن طریقے سے سرانجام دے سکے گی۔
آئینی تقاضوں کے برعکس طویل المدت نگران حکومت قائم کرنے کی باتوں کے علاوہ تحریک انصاف کے خلاف کئے گئے اقدامات اور ایک غیر شفاف عدالتی عمل کے نتیجہ میں عمران خان کو قید کی سزا دے کر جیل منتقل کرنے کے طریقہ کی وجہ سے بھی موجودہ حکومت کے علاوہ پاک فوج کے ارادوں کے بارے میں شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ عمران خان کو سزا دے کر سیاسی منظر سے دور کرنے کے عمل کو پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا پرانا اور آزمودہ طریقہ کہا جارہا ہے۔ ملک میں متعدد مواقع پر فوج نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے سیاسی لیڈروں کو معتوب ٹھہرا کر غیر فعال کرنے کا اقدام کیا ہے۔ عمران خان کے خلاف ہونے والی کارروائی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہوتا کہ پاک فوج اس تاثر کو ختم کرنے کا اہتمام کرتی۔ اور سیاسی فیصلہ سازی میں شرکت کی خبریں عام نہ ہوتیں۔ پارلیمنٹ نے حال ہی میں اسٹبلشمنٹ اور ایجنسیوں کو طاقت ور بنانے کے لئے متعدد قوانین منظور کئے ہیں۔ اس کے علاوہ آرمی چیف معاشی احیا کے نام پر تمام اہم فیصلوں میں شریک ہیں۔
ایسے میں جب ایک مقبول سیاسی لیڈر کو سزا دے کر سیاسی منظر سے دور کیا جائے گا اور انتخابات میں ٹال مٹول سے کام لیا جائے گا تو اس کا الزام سیاسی لیڈروں کی بجائے فوج پر ہی عائد ہوگا۔ پھر آرمی چیف خواہ کتنی ہی نیک نیتی سے دہشت گردی کے خاتمہ اور ملکی عوام کی بہبود کی خواہش کا اظہار کرتے رہیں، عملی طور سے یہ مقاصد حاصل کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔ کیوں کہ عوام میں مایوسی عام ہوگی ۔ وہ اس بات پر نالاں ہوں گے کہ انہیں ووٹ کے ذریعے امور مملکت پر اثر انداز ہونے اور اپنے نمائیندوں کے ذریعے اہم سیاسی و معاشی فیصلے کرنے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔
گزشتہ ہفتہ کے دوران فوج کے نزدیک سمجھے جانے والے ایک صحافی و اینکر نے ایک ٹوئٹ میں جنرل عاصم منیر کو خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ’ تحریک انصاف کا سفر رک جانے کے بعد پاکستانی عوام زرداری یا نواز شریف کی حکومت نہیں چاہتے۔ وہ اپنی غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے آرمی چیف مارشل لا لگائے بغیر ایک دیانت دار ، پروفیشنل غیر سیاسی حکومت کی قیادت کریں تاکہ ملک کی تقدیر بدلی جاسکے‘۔ ملکی حکومت یا پاک فوج کی طرف سے اس ٹوئٹ پر کوئی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ ایک جانا پہچانا اینکر جب ملکی فوجی سربراہ کو آئین کے برعکس اقدام کا مشورہ دیتا ہے اور قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ یا متعلقہ اتھارٹی اس کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی، تو اس سے یہی تاثر قوی ہوتا ہے کہ مشکل حالات کا عذر بنا کر ایک بار پھر نئی آمریت مسلط کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ اور اپنے غیر سرکاری ’ترجمانوں‘ کے ذریعے رائے عامہ ہموار کرنے کی جارہی ہے۔
یہ ملک اپنی مختصر تاریخ میں آئین سے کھلواڑ اور عوام کے حقوق کچلنے کے لئے متعدد افسوسناک تجربے کرچکا ہے۔ ان تجربوں کے نتیجہ میں نہ ترقی ہوسکی اور نہ عوام کی حالت میں تبدیلی رونما ہوئی۔ بلکہ پاکستان اس وقت اپنے معاشی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ اب بھی اسی غیر جمہوری اور آئین شکن راستے پر چل کر کامیابی کا کوئی راستہ تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ملک کو ترقی کی راہ گامزن کرنے کا خواب دیکھنے والے آرمی چیف سب سے پہلے ہمہ قسم غیر آئینی طریقوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کریں تاکہ کسی حد تک فوج کے وقار میں اضافہ ہو اور اسے عوام کا بھروسہ حاصل ہوسکے۔