سیاست میں دشمنی کا چلن بند کیا جائے: بلاول بھٹو زرداری
پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سیاسی جماعت کو سیاست اس طریقے سے کرنی چاہیے کہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف کیسے لے کر جائیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ بچپن سے دیکھ رہے ہیں کہ کبھی سیاستدان حکومت میں تو کبھی جیل میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنی حکومت کے 16 ماہ میں اداروں کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنے پر آمادہ کرنے پر کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’سابق صدر آصف زرداری اور نواز شریف ایسے فیصلے کریں کہ آئندہ میرے اور مریم کے لیے سیاست آسان ہو۔‘ آج اگر عمران خان جیل میں ہیں تو کل وہ آزاد ہوں گے۔ اور پھر اگر وہی دھرنے اور احتجاج اور پرانا سلسلہ چل پڑے گا تو نظام آگے کیسے بڑھے گا۔
انہوں نے کہا جب سیاست کو دشمنی اور وہ بھی ذاتی دشمنی تک لے کر جایا جائے تو اس کا نقصان ریاست کو اور سب کو ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ ہمارے بڑوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جیسے انہوں نے 30 سال تک سیاست بھگتی ہے، اب مریم اور میں بھی ایسے ہی سیاست کریں۔
یہ سیاست دیکھتے دیکھتے اب نوجوان تنگ آ چکے ہیں۔ اور وہ اب نہ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور نہ کسی اور پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہمیں اپنا رویہ ایسا کرنا ہوگا کہ جس سے 65 فیصد سے زیادہ نوجوان بھروسہ کر سکیں۔
خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ’جناب سپیکر اب الیکشن میں ملیں گے‘۔