اڈیالہ جیل منتقلی اور توشہ خانہ کیس میں درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • بدھ 09 / اگست / 2023

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں قید چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو جیل میں اے کلاس سہولیات دینے اور اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے سے متعلق درخواست پر وفاقی و صوبائی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔

سابق وزیراعظم کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ گزشتہ روز آپ نے وکلا کو جیل میں ملاقات کی اجازت دی، کل ہم جیل گئے تو ہمیں عدالتی حکم کے باوجود اجازت نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میری ہی کوتاہی ہے۔ ہماری کورٹ سے آرڈر دیر سے نکلا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جیل میں ملاقات کا کوئی وقت ہوتا ہے؟ وکیل شیر افضل مروت نے جواب دیا کہ چھ بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے۔ دوران سماعت وکیل شیر افضل مروت نے وکیل نعیم حیدر پنجوتھا کی ایف آئی اے میں پیشی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کل ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میرے علم میں آیا ہے، تحقیقات کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا۔ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ کل ایک وکیل کو بلایا، آج خواجہ حارث کو بلایا گیا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں ایڈمنسٹریٹر سائیڈ پر اس کو دیکھوں گا۔ عدالت نے پوچھا کہ کس جیل میں بھیجنا ہے، یہ فیصلہ کون کرے گا؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میاں نواز شریف نے استدعا کی تھی اور وہ کوٹ لکھپت جیل چلے گئے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کا معاملہ 11 اگست بروز جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے نمائندگان سے جواب طلب کرلیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر بھی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے باپ ہیں۔ آپ بطور چیف جسٹس وکلا کے بھی باپ ہیں۔ بطور باپ آپ پر وکلاء کے تحفظ کی بھی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ روز ایف آئی اے نے ایک وکیل کو 8 گھنٹے بٹھائے رکھا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے۔ ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ فکر نہ کریں، ہم ایک ہی پیشے سے تعلق رکھتے ہیں، ہم معاملہ دیکھ رہے ہیں۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ماتحت عدلیہ ہائیکورٹ کے ماتحت رہ کر کام کرتی ہے۔ ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے، جج نے فیصلہ سنا دیا، ہائیکورٹ نے دفاع کا حق ختم کرنے سے متعلق نوٹس جاری کر رکھے تھے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایسے جج کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جج نے 3 سال قید، ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی۔ قانون و آئین کی پاسداری اہمیت کی حامل ہے۔ اگر ایک سیشن جج خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ جسٹس سسٹم کیلئے المیہ ہے۔ جس درخواست پر آپ نے نوٹس جاری کر رکھے ہیں کیا آپ اس کو غیر موثر قرار دیں گے؟ یہ قانون اور جسٹس سسٹم کے ساتھ مزاق ہے۔ سیشن جج کو ہائیکورٹ میں کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ 12 بج کر 15 منٹ پر میں عدالت پہنچ چکا تھا، میں عدالت کو بتانا چاہتا تھا کہ کس وجہ سے دیر سے پہنچا۔ میں نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست جج کے سامنے رکھی، جج نے حکم سنانا شروع کردیا۔ جج کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ جج کو چاہیے تھا کہ کہتا میں فیصلہ کر چکا ہوں، اب آپ کو نہیں سن سکتا۔ جج نے مجھے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔ فیصلے کا آپریشنل پارٹ لکھوانے سے پہلے میں عدالت میں موجود تھا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ میں اگر آرڈر سنانے سے پہلے پہنچ گیا تھا تو عدالت کو مجھے سننا لازم تھا، میں کیس کے میرٹ کی بات نہیں کررہا۔ میں فیصلے کی قانونی نوعیت بتا رہا ہوں۔ مجھے سنے بغیر فیصلہ سنا دیا گیا تو اس کا کیا تقدس ہے؟ ہماری اپیل پر سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے، ٹرائل کورٹ میں بھی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوتی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل سماعت ممکن نہیں ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ اس کو جلدی مقرر کیا جائے۔ دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے سزا معطلی کی درخواست آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا عندیہ دیا۔ وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری گزارش ہے کیس کل سماعت کیلئے مقرر کر لیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے بھی بتایا ہے کہ کل نہیں ہو سکتا۔ پریشان نہ ہوں یہ چھٹیوں کے بعد تک نہیں جانا، چار پانچ دن میں لگ جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سزا معطلی اور ضمانت کے کیسز چھٹیوں میں مقرر کئے جا رہے ہیں، کل کیس کو سماعت کے لیے رکھنا ممکن نہیں ہے۔ کل میرے میڈیکل چیک اپ ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا نہ ہو دیگر کیسز میں ضمانت خارج ہوجائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک میں آپ گرفتار ہوں تو دوسرے میں بھی گرفتار ہوجائیں، آصف زرداری کیس میں ہم طے کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔