ایک اور نااہلی، یہ سلسلہ کب رکے گا؟

گزشتہ چند ماہ سے سیاسی محاذ پر آنے والی ڈرامائی تبدیلیوں کودیکھتے ہوئے انیسویں صدی کے مشہور انگلش شاعر رابرٹ براؤننگ کی  نظم Patriot into Traitor بار بار ذہن میں آجاتی ہے۔نظم "محب وطن اور  غدار" ایک سیاسی لیڈر کے عروج و زوال کی داستان بہت موثر اور قائل کرنے والے انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس نظم کا لب لباب یہ ہے کہ سیاسی لیڈر سمیت کوئی بھی انسان زیادہ دیر تک اپنے ملک یا زمانے کے حالات کو اپنی مرضی مطابق نہیں چلا سکتا۔بعض اوقات حالات میں ایسی ڈرامائی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو جاتی ہیں جو مقبول ترین سیاسی لیڈر کی تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ہیں۔وہی لوگ جو کچھ عرصہ پہلے کسی سیاسی لیڈر کے ہمنوا ہوتے ہیں اور اس کا ہر طرح سے ساتھ دیتے ہیں۔اس کے اچھے کاموں میں بھی عیب نکالنے لگتے ہیں اور اسے غدار قرار دے دیتے ہیں۔عام آدمیوں کی ناپختہ اور جذباتی رائے کسی عام سیاسی رہنما کو شہرت کی بلندیوں پر بھی پہنچا دیتی ہے اور کسی مقبول ترین لیڈر کو راتوں رات تختہ دار پر بھی لٹکانے کا باعث بن جاتی ہے۔جب تک سیاسی لیڈر اقتدار میں رہتا ہے، عوام کی اکثریت قریبا ہر کام میں اس کی تائید کرتی ہے لیکن جیسے ہی سیاسی لیڈر زوال پذیر ہونے لگتا ہے یا اسے اقتدار سے باہر کر دیا جاتا ہے تواس کے تمام حمایتی اسے چھوڑ جاتے ہیں۔

یہ نظم بنیادی طور پرڈیڑھ دو سو سال پہلے تیسری دنیا کے ممالک میں ہونے والی ڈرامائی سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں لکھی گئی تھی۔انیسویں اور بیسویں صدی میں تیسری دنیا کے ممالک میں ایسی ڈرامائی تبدیلیاں عام تھیں۔بیسویں ویں صدی کے دوسرے نصف کے اختتام تک بھی زیادہ تر ترقی پذیز ممالک میں عوام پہلے سیاسی لیڈرز کو اقتدار کی مسند پر بٹھا کر ان کی مقبولیت کے گن گاتے لیکن حکمرانوں کی جانب سے کئے گئے بلند بانگ دعوے پورے نہ ہونے کی صورت میں یہی عوام اپنے مقبول لیڈر وں سے نالاں ہو کر ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے نئی تبدیلی کے خواہش مند ہوتے جس کے نتیجے میں ان ملکوں کی فوج سیاستدانوں کو غدار قرار دے کر نہ صرف اقتدار پر قابض ہو جاتی بلکہ لوگوں کے محبوب سیاسی لیڈروں کو ان کے سامنے تختہ دار پر لٹکادیتی۔دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی ماضی میں سیاسی لیڈروں کو تختہ دار پر چڑھانے، جلاوطنی پر مجبور کئے جانے اور سیاست سے نااہلی کی سزائیں ملتی رہی ہیں۔اگرچہ20ویں صدی میں دنیا کے بہت سے ترقی پزیر ممالک میں عوامی سطح پر ایسی ناپختہ رائے اور متلون مزاجی دیکھنے میں آتی رہی لیکن سرد جنگ کے بعد سے دنیا کے بیشتر ترقی پزیر ممالک میں بھی عوام کا مزاج بتدریج بدل چکاہے۔ عوامی مزاج کی تبدیلی تو ہمارے ہاں بھی مشاہدے میں آئی ہے لیکن اسٹبلشمنٹ کا مزاج ابھی تک ویسا ہی ہے، ہاں البتہ ان کے طریقہ واردات میں تبدیلی آچکی ہے۔

اگرچہ ہمارے ہاں گزشتہ پندرہ سولہ سالوں سے براہ راست آمریت تو نہیں آئی لیکن ملک کے سیاسی وانتخابی نظام پر ابھی بھی مقتدرہ کی گرفت بہت مضبوط ہے۔مشرف کی آمریت کے بعد اسٹبلشمنٹ پس پردہ رہتے ہوئے سیاسی و انتخابی نظام کو اپنی مرضی و منشاء کے مطابق کامیابی سے چلاتی آ رہی ہے۔اگرچہ مشرف کی آمریت کے بعد بننے والی دو حکومتوں نے یکے بعد دیگرے اپنی آئینی مدت پوری کر کے ملکی جمہوری تاریخ میں ایک بڑ اسنگ میل عبور کیا لیکن ملکی تاریخ میں کسی بھی وزیراعظم کی آئینی مدت پوری کرنے کا خواب ان حکومتوں میں بھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکا۔پیپلز پارٹی حکومت میں یوسف رضا گیلانی توہین عدالت پر نااہل کیے گئے تو سابق (ن) لیگ حکومت میں نواز شریف کو اقامہ پر نااہل کیا گیا۔پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی حکومتوں میں بات صرف وزرائے اعظم کی نااہلی تک رہی لیکن 2018میں بننے والی پی ٹی آئی حکومت وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے ساتھ ساتھ اپنی آئینی مدت بھی پوری نہ کر سکی۔اگرچہ یوسف رضا گیلانی کی نااہلی میں اسٹبلشمنٹ کا کوئی بالواسطہ یا بلواسطہ کردار دکھائی نہیں دیتا تاہم نواز شریف اور عمران خان اسٹبلشمنٹ کی اجارہ داری چیلنج کرنے کی پاداش میں نااہل ہوئے۔پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ اور ڈان لیکس نواز شریف کے ناقابل معامی جرم ٹھہرے تو ملٹری تقرریوں کے معاملے میں من مانی نے عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کی راہیں جدا کیں، رہی سہی کسر 9مئی کے واقعات نے پوری کر دی۔اگرچہ عمران خان توشہ خانہ ریفرنس میں کرپٹ پریکٹسز کی بنیاد پر نااہل کیے گئے ہیں لیکن نواز شریف کی طرح ان کا جرم بھی اپنے آپ کو" حقیقی وزیراعظم' سمجھنے کی غلطی کرنا ہے۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی و جمہوری نظام پر مقتدرہ کی گرفت شروع دن سے مضبوط رہی ہے۔بھٹو صاحب کے پہلے دور کے علاوہ ہمارے ہاں آج تک کوئی وزیراعظم داخلہ و خارجہ محاذ پر اپنی مرضی و منشاء کے مطابق فیصلے نہیں لے سکا۔نوے کی دہائی میں نواز شریف نے دو مرتبہ اسٹبلشمنٹ سے سینگ پھنسائے، بے نظیر بھٹو بھی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی بے جا رمداخلت پر دل گرفتہ رہیں۔نوے کی دہائی میں اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہونے والوں نے جب سیاسی وانتخابی نظام میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تو مقتدرہ ان کا زور توڑنے کے لیے عمران خان کو متبادل قیادت کے طور پر لے آئی۔عمران خان کے آنے سے اسٹبلشمنٹ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کو کمزور کرنے میں کامیاب تو ہو گئی لیکن عمران خان سے ایک تو معیشت نہ سنبھلی اور دوسرا انہوں نے سیاسی مخالفت کو نفرت اور دشمنی میں ایسا بدلا کہ پہلے سے محاذ آرائی پر مبنی سیاست نفرت اور عدم برداشت کی انتہاؤں کو چھونے لگی۔

 کہنے کا مطلب یہ کہ اگر عمران خان اپنے دور میں سیاسی مخالفین کی سیاسی نمائندگی کو تسلیم کرتے ہوئے افہام و تفہیم سے سیاست کرتے تو ان کے سیاسی مخالفین بھی آج ان کا زور توڑنے کے عمل میں اسٹبلشمنٹ کو کاندھا نہ دیتے۔حرٖ ف آخر یہی کہ جب تک سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما مقتدرہ کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے رہیں گے، سیاسی جماعتیں اسی طرح کمزور اور وزرائے اعظم کی نااہلیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔گذرے کل نواز شریف کی ناہلی میں پی ٹی آئی اور عمران خان استعمال ہوئے، آج عمران خان کو نااہل کرانے میں پی ڈی ایم خاص طور پر (ن) لیگ پیش پیش ہے۔ اس قسم کی منفی سیاست کو دیکھتے ہوئے بلاول بھٹو یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ  ’سابق صدر آصف زرادری اور نواز شریف ایسے فیصلے کریں کہ آنے والے کل میں میرے اور مریم نواز کے لیے سیاست آسان ہو‘۔بلاول نے یہ بھی کہا کہ آج اگر عمران خان جیل میں ہیں تو کل وہ آزاد ہوں گے اور پھر اگر وہی دھرنے اور احتجاج کا پرانا سلسلہ چل پڑے گا تو پھر نظام کیسے آگے بڑھے گا۔