پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کی ناروے کپ میں کامیابی
- تحریر آفتاب وڑائچ
- بدھ 09 / اگست / 2023
پاکستانی قوم میں کسی بھی شعبہ زندگی میں قابلیت اور صلاحیت کی کمی نہیں ہے۔ کمی ہے تو سرکاری سرپرستی کی، اہل اقتدار و اختیار کی فہم و فراست اور اہلیت کی، ملی جذبے، ایمان داری اور دیانت داری کی۔
پاکستان میں بہت سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نامساعد حالات اور غیر یقینی صورت حال کے باوجود بھی اپنے ملک اور قوم کی نیک نامی اور ترقی کے لیے ہمہ وقت سر گرم عمل نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال ناروے میں ہونے والے حالیہ فٹ بال ٹورنامنٹ (ناروے کپ) میں پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ فٹبال ٹیم کا فائنل میں پہنچنا ہے۔
ناروے کپ دنیا میں فٹبال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا آغاز 1972 میں ہوا اور ہر سال اس کا انعقاد31 ویں ہفتے میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کیا جاتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے عمر کی حد 10 سے 19 سال تک مقرر کی گئی ہے۔ اس سال ناروے کپ میں دنیا کے 30 مختلف ممالک کی 2350 ٹیموں نے حصہ لیا۔ جن میں ایک ٹیم پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ پر مشتمل تھی۔ اس ٹیم نے انڈر 17 کی کیٹگری میں حصہ لیا۔
پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم نے اس سال چوتھی بار ناروے کپ میں حصہ لیا ہے۔ پہلی دفعہ 2014 میں پاکستان کے لیے نیک خواہشات اور درد دل رکھنے والی پاکستانی نژاد ڈاکٹر ٹینا شگفتہ نے اپنے رفقا سے مل کر اپنی مدد آپ کے تحت پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ فٹبال ٹیم کو ناروے کپ کھیلنے کے لیے مدعو کیا اور آئینده کے لیے راہیں ہموار کیں۔ اس سال ٹیم کے کھلاڑیوں کا انتخاب اوپن ٹرائل کے ذریعے پاکستان میں کام کرنے والی ایک رفاہی تنظیم مسلم ہینڈز نے کیا۔ یہ ٹیم پاکستان کے دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب اور پس ماندہ مگر پر عزم اور پر جوش نوجوانوں پر مشتمل تھی۔
جب یہ ٹیم ناروے کی سرزمین پر اتری تو ناروے میں بسنے والے پاکستانیوں اور سفارت خانہ پاکستان نے ملی جذبے کے تحت ان کا والہانہ استقبال کیا۔ ان کے قیام و طعام سے لے کر ان کو زندگی کی ہر سہولت بہم پہنچانے کے لیے نارویجن پاکستانی ہر دم پیش پیش رہے۔ ناروے کے اوورسیز پاکستانی اپنے آبائی وطن سے بے لاگ اور غیر مشروط محبت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کو ناروے میں دیکھ کر پاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور ایئرپورٹس پر اپنی جامہ تلاشی بھی بھول گئے۔
اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کے کھلاڑی جو پھٹے، پرانے جوتوں اور کپڑوں میں ملبوس، بلند عزم اور روشن آنکھوں میں سنہرے خواب لیے ناروے کپ کھیلنے آئے تھے۔ ناروے میں بسنے والے پاکستانیوں کے پر خلوص رویوں نے ان کے عزم اور حوصلوں کو مزید تقویت بخشی۔ انہوں نے دیگر انتظامات کے علاوہ ان کو فٹ بال کھیلنے والے نئے جوتے اور کپڑے بھی خرید کر دیے۔
پاکستانی ٹیم کے کپتان طفیل شنواری جن کا تعلق لنڈی کوتل سے ہے، بتاتے ہیں کہ ان کو شروع سے ہی فٹ بال کھیلنے کا بہت شوق تھا مگر یہ شوق جنون میں تب بدلا جب انہوں نے ایک دفعہ خواب میں ارجنٹائن کے فٹبال کے مایہ ناز کھلاڑی لینیل میسی کے ساتھ فٹ بال میچ کھیلا۔ انہوں نے دیگر اسٹریٹ چائلڈ کی طرح وسائل اور سہولیات نہ ہونے کے باعث گاؤں کے کھیتوں، گلیوں غرض کہ جہاں کہیں بھی تھوڑی سی جگہ اور وقت ملا فٹبال کھیلنا شروع کر دیا۔
اسی کپتان کی قیادت میں پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم، ناروے کپ کے مسلسل سات میچ جیت کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ گئی۔ ٹیم نے فائنل میں جاں فشانی اور استقلال سے مقابلہ کیا اور بدقسمتی سے ایک پلنٹی سے ہار گئی۔ پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم پچھلے سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل تک پہنچ گئی تھی۔
اسٹریٹ چائلڈ ٹیم نے ان ٹیموں سے مقابلہ کیا جن کے نوجوانوں کو سرکاری سرپرستی اوردنیا کی ہر آسائش اور سہولت میسر ہوتی ہے۔ پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کا اس بے سروسامانی کے عالم میں فائنل میں پہنچنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ فائنل میچ میں ان کی یہ ہار بھی سو جیت پر بھاری ہے۔ یہ نوجوان پاکستان کے ان اعلیٰ عہدے داروں سے کہیں زیادہ قابل عزت اور محب وطن ہیں جو قیمتی سرکاری گاڑیوں اور بڑے بڑے سرکاری دفاتر میں بیٹھ کر ملکی وسائل کا بے جا اور بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور جن کی زندگی کا شیوا صرف "حکمرانی" ہے۔
پاکستانی اسٹریٹ چائلڈ ٹیم کے کھلاڑیوں نے وسائل اور مواقع نہ ہونے کے باوجود اپنے جواں جذبوں، محنت، ناقابل شکست عزم و ہمت اور طرزِ عمل سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پاکستانی نوجوان اور قوم کسی لحاظ سے بھی کسی دوسری قوم سے کم نہیں ہے۔ پاکستان کی تقریباً نصف آبادی بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان کسی ملک کا حقیقی سرمایہ اور اس کے بہتر مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ انہوں نے کل کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہوتی ہے۔ اگر آج ان پر توجہ نہ دی جائے تو کل صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار انتقامی سیاست اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے، ایسے اقدامات عمل میں لائیں جو پاکستانی عوام اور نوجوانوں کی بہتری، بھلائی، ترقی اور کام یابی کے ضامن ہوں۔ پاکستان کی زرخیز سرزمین کو ثمر بار کرنے کے لیے بہت زیادہ تگ و دو کی ضرورت نہیں ہے اس کے لیے تو ذرا سا نم بھی کافی ہے۔ اسی لیے علامہ محمد اقبال نے کہا تھا کہ:
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی