ملکی تاریخ کی ’ناکام ترین قومی اسمبلی‘
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 09 / اگست / 2023
وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی توڑنے کے لئے صدر عارف علوی کو ایڈوائس بھیج دی ہے۔ صدر نے اس بارے میں حکم جاری نہ کیا تو اڑتالیس گھنٹے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن کو آئین کے مطابق 90 دن کے اندر انتخابات کروانا پڑیں گے۔ تاہم حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل میں نئی مردم شماری کے نتائج منظور کرکے الیکشن کمیشن کو نئے اعداد و شمار کے مطابق حلقہ بندیاں کرنے کے بعد انتخابات کروانے پر مجبور کیا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ انتخابات آئیندہ سال کی پہلی یا دوسری سہ ماہی میں ہوں گے۔
شہباز شریف نے آج قومی اسمبلی کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اقتدار کی مختصر مدت کو اپنی سیاسی زندگی کا مشکل ترین دور قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اتحادی حکومت کی بیشتر غلطیوں کا ملبہ سابقہ حکومت کے سر تھوپنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ اس حکومت نے کسی سیاسی لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی انہیں عمران خان کو سزا ملنے پر کوئی خوشی ہے۔ معاشی کامیابی کی بنیاد رکھنے اور ملک کو درست سمت گامزن کرنے کے دعوؤں کے باوجود بطور وزیر اعظم شہباز شریف کا دور ملک میں سیاسی انارکی، مہنگائی ، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور آزادی رائے کو دبانے کی کوششوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔
گزشتہ سال اپریل میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کا اہتمام کیا تھا۔ اس تحریک کی کامیابی کے بعد 13 سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب کیا اور ایک وسیع و عریض کابینہ نے ملکی معاملات چلانے کے کام کا آغاز کیا۔ اگرچہ شہباز شریف اپنے دور حکومت کے آخری ہفتوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ تین ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ایک تو ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا اور دوسرے سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوئے ۔ لیکن اس دوران پیدا ہونے والی سیاسی بداعتمادی اور بے چینی ہر قسم کی مثبت پیش رفت پر حاوی رہی ہے۔ یہ بے چینی پیدا کرنے میں عمران خان کے منفی سیاسی ہتھکنڈوں کا بھی اہم کردار رہا ہے لیکن اقتدار کی ہوس میں انتخابات کی بجائے عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے چمٹے رہنے کا طریقہ درحقیقت ملک میں موجودہ پریشانی و بے چینی کا اصل سبب کہا جاسکتا ہے۔
پارلیمانی نظام میں سیاسی پارٹیوں کو انتخابات سے فرار کی بجائے ہمہ وقت انتخاب میں جانے اور عوام کی رائے لینے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک چلاتے ہوئے پی ڈی ایم کا یہی مطالبہ رہا تھا کہ ملک میں فوری انتخابات کروائے جائیں تاہم جب سپریم کورٹ کی مداخلت سے پہلے عمران خان نے بطور وزیر اعظم عدم اعتماد سے بچنے کے لئے اسمبلی توڑنے کا راستہ اختیار کیا تو اسے درحقیقت اپوزیشن کے مطالبے کے سامنے سر جھکانا ہی کہا جاسکتا تھا۔
سپریم کورٹ نے البتہ سو موٹو نوٹس کے ذریعے ملکی پارلیمانی کارروائی میں مداخلت کی اور ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے علاوہ وزیر اعظم کے مشورے پر صدر مملکت کی طرف سے اسمبلی توڑنے کو غیر آئینی قرار دیا۔ اس طرح اپوزیشن جماعتوں کو تحریک عدم اعتماد منظور کروانے اور اپنی حکومت قائم کرنے کا موقع مل گیا۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھی پی ڈی ایم ، تحریک انصاف کے ساتھ نئے انتخابات کی طرف پیش قدمی کرنے پر اتفاق رائے کرسکتی تھی۔ ایسا مثبت اور دانشمندانہ فیصلہ ملک میں سیاسی بحران کم کرنے، اعتماد سازی اور نئی جمہوری حکومت کے قیام کا سبب بنتا ۔ اس طرح ایک تو عوام کو یہ اعتماد حاصل ہوتا کہ ملک میں جب بھی کوئی مشکل مرحلہ آئے گا توسیاسی جماعتیں خود ہی فیصلے کرنے کی بجائے عوامی مینڈیٹ لینے کو ترجیح دیتی ہیں۔ دوسرے نئے انتخابات کی صورت میں ان بدگمانیوں کا خاتمہ ہوجاتا کہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو کامیاب کروانے کے لئے دھاندلی کی گئی تھی۔ گزشتہ سال کے شروع میں فوجی قیادت اور اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے درمیان چونکہ اختلافات عروج پر پہنچ چکے تھے، اس لئے اس وقت نئے انتخابات بڑی حد تک شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوسکتے تھے۔
بعد از وقت اگر سولہ ماہ پہلے رونما ہونے والے سیاسی حالات پر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت میں شامل جماعتوں اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن) نے اپریل 2022 میں انتخابات کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرکے درحقیقت اپنے لئے سیاسی تباہی کا راستہ چنا تھا۔ اب اسی تباہی پر قابو پانے کے لئے انتخابات کو زیادہ سے زیادہ وقت کے لئے مؤخر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ کسی طرح عوام کو عمران خان کے سیاسی ’جال‘ سے نکال کر ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کی طرف راغب کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ اب یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ اگرچہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف ’جد و جہد‘ کی جارہی تھی لیکن عمران خان کے خلاف عدم اعتماد اور اتحادی حکومت کا قیام درحقیقت اسٹبلشمنٹ یا اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مرضی و منشا کے عین مطابق تھا۔ اس وقت کئے گئے ایک غلط فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کی عوامی مقبولیت میں قابل قدر کمی ہوئی اور عمران خان نے مہنگائی کے علاوہ شہباز حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم اور ٹھوس عوامی رابطہ مہم کے ذریعے تحریک انصاف کی سیاسی قوت میں اضافہ کیا۔ شہباز شریف اگر اسٹبلشمنٹ کی ’وفاداری‘ اور مستقبل میں اپنے سیاسی کردار کو مستحکم کرنے کی بے پناہ ہوس کے ہاتھوں مجبور نہ ہوتے تو گزشتہ سال عدم اعتماد کی بجائے نیا انتخاب ملکی سیاست میں جمہوری حقوق کی جد و جہد کے حوالے سے فیصلہ کن ہوسکتا تھا۔
شہباز شریف اور ان کے شریک سیاسی گروہوں کو اس وقت جس پریشانی کا سامنا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان پارٹیوں نے عوام پر بھروسہ کرنے کی بجائے فوجی قیادت کا ہرکارہ بننا قبول کیا۔ پہلے نئے آرمی چیف کے نام کے حوالے سے قیاسات کی بنیاد پر سیاست کی گئی اور اس کے بعد خود اپنے مقرر کئے ہوئے آرمی چیف کی ’نگرانی‘ میں خدمات سرانجام دے کر ملک میں جمہوری حقوق کی جد و جہد کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس ایک فیصلہ نے مسلم لیگ (ن) کو اس حد تک بدحواس کردیا کہ جب عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اپنا آئینی استحقاق استعمال کرتے ہوئے ان صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ذریعے اسمبلیاں توڑیں تو وہاں آئینی توجیہ اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود انتخابات کروانے کا راستہ روکا گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں نگران وزرائے اعلیٰ کسی آئینی جواز کے بغیر حکومت کررہے ہیں۔
شہباز شریف اور ان کے رفقا اگر چہ تسلسل سے یہ راگ الاپتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کی بنیاد تحریک انصاف کے غلط فیصلے اور عمران خان کی ناکام حکمرانی تھی لیکن عوام کو یہ باور کروانا مشکل ہے کہ ملکی معیشت کو سنبھالنے کا دعویٰ کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے والی پارٹیاں آخر ان مشکلات پر قابو کیوں نہیں پاسکیں۔ کیا وجہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے علاوہ تمام ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہ درست ہے کہ اس دوران میں یوکرائین جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت انحطاط کا شکار ہوئی ہے اور پاکستان کو گزشتہ سال کے غیر معمولی سیلاب کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اپنے گھر کے مصارف پورے کرنے کی جد و جہد کرنے والے عام شہری کو ایسی موشگافیوں سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے باوجود شہباز حکومت کی سب سے بڑی ناکامی معاشی میدان میں نہیں ہے۔ کسی بھی حکومت کو ایسے حالات میں یہی فیصلے کرنے پڑتے اور عوام کی ناراضی کا سامنا ہوتا۔ جانے والی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی انتخابات میں جانے کا حوصلہ کرنے کی بجائے عدم اعتماد کا سہارا لے کر عمران خان کی جگہ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنوانا تھا۔ اس فیصلہ سے عوام سے فاصلہ پیدا ہؤا، سیاست پر فوجی کنٹرول مستحکم ہوگیا اور مشکل معاشی فیصلے کرنے کی وجہ سے حکمران سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں مسلسل کمی ہوتی رہی۔ اب اسی وجہ سے یہ پارٹیاں مسلسل انتخابات سے فرار حاصل کررہی ہیں۔ اسی لئے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں آئینی طریقہ کے مطابق انتخابات کا راستہ روکا گیا۔
انتخابات سے فرار کے علاوہ تحریک انصاف کا راستہ روکنے کے لئے میڈیا پر کنٹرول کرنے کا غیر جمہوری طریقہ اختیار کیا گیا اور صحافیوں کو بدترین سنسرشپ اور میڈیا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آزادی رائے محدود کرنے کے علاوہ صحافیوں کو ہراساں کرنے، انہیں اٹھا لینے اور حکومتی انتظام کے خلاف بولنے والے صحافیوں کو خاموش کروانے کے ہتھکنڈے کھلے عام دیکھنے میں آئے ۔ اگرچہ وزیر اعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیاسی مخالفین کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا اور کسی ادارے کو تحریک انصاف کے خلاف متحرک نہیں کیا گیا لیکن عملی صورت حال اس سے برعکس ہے۔ خاص طور سے تحریک انصاف نے 9 مئی کے احتجاج کے دوران میں جو غلطیاں کیں، اس سے فوجی قیادت سخت ناراض ہوئی اور عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی زندگی دو بھر کرنے کا عزم کرلیا گیا۔ ایک نام نہاد جمہوری حکومت نے ایک قومی سیاسی جماعت کے خلاف ریاستی جبر کو روکنے کی بجائے اس میں مکمل معاونت کی ۔حتیٰ کہ عام شہریوں کو فوج کے حوالے کرنے اور ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
شہباز شریف کی دوسری بڑی ناکامی یہ رہی کہ انہوں نے سولہ ماہ تک آدھی قومی اسمبلی اور دو صوبوں میں نگران حکومتوں کے سہارے حکومت کی ہے۔ قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے استعفوں کے بعد نامکمل اسمبلی کو قائم رکھنے اور اس میں ایک جعلی اپوزیشن کھڑی کرکے پارلیمانی امور چلانے کا طریقہ سبک دوش ہونے والی حکومت کے دامن پر بدنما داغ کے طور پر برقرار رہے گا۔ یہ درست ہے کہ عمران خان نے نئے انتخابات کی امید پر ہی قومی اسمبلی سے استعفے دیے تھے اور پھر پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کو توڑا تھا۔ ان فیصلوں پر تنقید کے باوجود انہیں غیر آئینی نہیں کہا جاسکتا لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے لئے شہباز شریف کی حکومت نے غیر آئینی ہتھکنڈوں کا سہارا لیا۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پارلیمنٹ سے درجنوں ایسے قوانین منظور کروائے گئے ہیں جن سے شہری حقوق متاثر ہوئے ہیں اور ریاستی اداروں کی قوت میں اضافہ ہؤا ہے۔ اسی تناظر میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈر شاہد خاقان عباسی نے موجودہ قومی اسمبلی کو ملکی پارلیمانی تاریخ کی ناکام ترین اسمبلی قرار دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پانچ سال کی مدت میں اسمبلی کی کارکردگی مایوس کن رہی۔بغیر پڑھے قوانین منظور کئے گئے اور اپوزیشن کے بغیر ایوان چلایا گیا۔ صرف گزشتہ ہفتہ کے دوران یونیورسٹیوں کے بارے میں 40 قوانین منظور ہوئے جو قابل شرم معاملہ ہے۔ ان کے خیال میں اسمبلی نے زیادہ تر عوام کی سہولت کی بجائے حکومت کو بااختیار بنانے کے لئے قانون سازی کی۔
ایک ایسی ناکام اسمبلی کی ذمہ داری سبک دوش ہونے والے وزیر اعظم اور حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں پر عائد ہوگی۔ انہیں اپنے تمام غیر جمہوری فیصلوں اور اقدامات کے لئے عوام کے سامنے جوب دہ ہونا پڑے گا۔ شاید اسی لئے حکمران سیاسی جماعتیں انتخابات میں تاخیر کا سبب بنی ہیں۔