شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم کارکردگی

حکومت گھر چلی گئی ہے۔ نگران حکومت آرہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کیسے وزیر اعظم رہے۔ بطور وزیر اعظم ان کی کارکردگی کیسی رہی۔ شہباز شریف کی بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی کے تو سب معترف رہے ہیں۔

ان کے مخالفین کے پاس بھی بطور وزیر اعلیٰ ان کی کارکردگی کا کوئی جواب نہیں رہا۔ بلکہ ان کے بعد آنے والے وزیر اعلیٰ لوگوں کو یہی بتاتے رہے کہ میں پنجاب میں نیا شہباز شریف لگ گیا ہوں۔ شہباز شریف نے وزارت اعلیٰ کے معیار کو اتنا بلند کر دیا کہ اب سب کواس تک پہنچنا مشکل نظر آتا ہے۔ ایسے میں سب کے ذہن میں یہ سوال اہم ہے وزارت اعلیٰ کے بعد اب شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم کارکردگی کیسے رہی ہے۔ ان کی بطور وزیر اعظم کارکردگی کا احاطہ بھی اہم ہوگا۔

شہباز شریف بطور وزیر اعظم کیسے رہے۔ اس سوال کا جواب سب اپنے اپنے انداز اور اپنی اپنی سوچ کے مطابق دیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے مخصوص حالات میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ہم کوئی آئیڈیل صورتحال میں نہیں ہیں۔ اس لیے آئیڈیل صورتحال سے موازنہ درست نہیں۔ موجودہ صورتحال میں ان کی کارکردگی کا جائزہ اور موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

شہباز شریف کی حکومت ایک مخلوط حکومت تھی۔ اتنے بڑے اتحاد کو چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ شہباز شریف کے بارے میں عمومی رائے یہی تھی کہ وہ سولو فلائٹ کے کھلاڑی ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے کام کرنے کے عادی ہیں۔ ان کے بارے میں تو یہ رائے تھی کہ بطور وزیر اعلیٰ وہ بھی ایک سخت گیر ایڈمنسٹریٹر تھے وہاں سولو فلائٹ ہی ان کی پہچان تھی، لیکن بطور وزیر اعظم انہوں نے ایک بڑے اتحاد کو چلانے کی کمال مہارت کا ثبوت دیا ہے۔

اس کا کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا۔ کیسے سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ کیسے اتفاق رائے سے فیصلے کرنے ہیں۔ شہباز شریف کا یہ دور بطور وزیر اعظم اس کی بہترین مثال کے طور پر دیکھا جا سکے گا۔ ان کی سیاسی معاملہ فہمی نے ایک مشکل دور کو کافی آسان دکھایا ہے۔ شہباز شریف کا یہ دور اتنے بڑے اتحاد کے باوجود کسی بھی بڑے چھوٹے اسکینڈل سے پاک تھا۔ ان سے پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر اقتدار میں آئے لیکن ان کے دور میں چینی گندم سے لے کر بہت سے کرپشن اسکینڈل آئے۔

لیکن شہباز شریف کا دور وزارت عظمیٰ کسی بھی اسکینڈل سے پاک رہا ہے۔ حکومت کی کرپشن کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے ایک کرپشن سے پاک حکومت چلا کر دکھائی ہے۔ ویسے تو ان کی وزارت اعلیٰ کا دور بھی کسی بڑے اسکینڈل سے پاک ہی تھا۔ وہ بار بار عدالت میں جج سے سوال کرتے تھے کہ اگر میں نے حکومت کی ایک پائی کی بھی کرپشن کی ہے تو مجھے پھانسی دے دیں۔ تاہم وہ وقت اور تھا۔ انہیں لمبی جیل کاٹنی تھی۔

لیکن پھر بطور وزیر اعظم بھی انہوں نے کسی بھی اسکینڈل سے پاک ایک حکومت چلا کر دکھائی ہے۔ اتنے بڑے اتحاد میں ایک کرپشن سے پاک اسکینڈل سے پاک حکومت چلانا ایک بڑا کام ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ پر بہت سیاست کی۔ وہ سابقہ وزیر اعظم کی جانب سے توشہ خانہ سے تحائف لینے کو سیاسی بیانیہ کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ شہباز شریف نے توشہ خانہ سے کوئی تحفہ نہیں لیا بلکہ ان کو عوام کے دیکھنے کے لیے رکھ دیا۔

بعد میں توشہ خانہ کے حوالے سے مضبوط قانون سازی بھی کر دی ہے۔ اب آنے والا کوئی حکمران بھی توشہ خانہ سے تحائف نہیں لے سکے گا۔ شہباز شریف نے تو بطور وزیر اعلیٰ بھی کبھی توشہ خانہ سے تحائف نہیں لیے تھے۔ لیکن انہوں نے اس کا راستہ بند کر کے پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت کام کیا ہے۔ انہوں نے نہ تو کوئی گھڑی لی ہے نہ کوئی ہیرے کی انگوٹھی لی ہے۔

شہباز شریف نے جتنا کام کیا ہے انہیں اتنا کریڈٹ نہیں ملا ہے۔ ان کا دور وزارت عظمیٰ ایک مشکل دور تھا۔ شاید ان کی جگہ کوئی اور وزیر اعظم ہوتا تو شاید مدت مکمل نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن شہباز شریف نے ہر سیاسی بحران کا سامنے سے مقابلہ کیا اور مدت مکمل کی ہے۔ انہوں نے ایک مثال قائم کی ہے ۔ ان کے ناقدین بھی اس بات پر حیران ہیں کہ انہوں نے کیسے یہ مدت مکمل کی ہے ۔ جب یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ ایک کمزور وزیر اعظم ہیں انہوں نے ایک مضبوط وزیر اعظم بن کر دکھایا۔

شہباز شریف کے دور میں پاکستان فیٹف سے نکلا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کپتان اور ان کی ٹیم شدید کوشش کے باوجود بھی پاکستان کو فیٹٖف سے نہیں نکلوا سکے تھے۔ ہر بار یہی کہہ دیا جاتا تھا کہ ہمارا کام تو مکمل ہے لیکن بھارت کی لابی نے ہمیں فیٹف سے نہیں نکلنے دیا۔ لیکن شہباز شریف کی کامیاب سفارتکاری سے پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں تھی۔ تا ہم آج ہم اس کو یاد بھی نہیں کر رہے۔

شہباز شریف نے چین کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کو نہ صرف ختم کیا بلکہ سی پیک کو دوبارہ زندہ بھی کیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے دور میں پاکستان کے نہ صرف چین سے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے بلکہ سی پیک تو بند ہی تھا۔ آج سی پیک دوبارہ زندہ نظر آرہا ہے۔ ان پندرہ ماہ میں شہباز شریف نے گوادر میں بجلی اور پانی جیسے مسائل کا حل کیا ہے۔ ایران سے بجلی لے کر گوادر کو دی گئی ہے ورنہ اس سے پہلے گوادر میں بجلی اور پانی کا شدید بحران تھا ۔ ہم کیسے بجلی اور پانی بغیر کوئی پورٹ سٹی بنانے کا تصور بھی کر سکتے ہیں۔ ان پندرہ ماہ میں گوادر اب تیار ہے، بندرگاہ بند تھی وہاں بڑے جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتے تھے ان پندرہ ماہ میں گوادر کی بندر گاہ بحال ہو گئی ہے۔

شہباز شریف کو پاکستان کوئی بہترین معاشی حالات میں نہیں ملا تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی معاشی طور پر گہری کھائیاں کھود کر گئے تھے۔ آئی ایم ایف سے پہلے ایک غلط معاہدہ کیا تھا۔ اس کو توڑ کر گئے۔ امپورٹس بڑھ گئی تھیں۔ تجارتی خسارہ بڑھا کر گئے تھے۔ تمام معاشی جن بوتل سے نکال کر گئے تھے تا کہ آنے والی حکومت ناکام ہو جائے۔ شہباز شریف نے تمام جن بوتل میں بند کیے ہیں۔ ان کی کارکردگی کو صرف مہنگائی کے تناظر میں دیکھنا جائز نہیں۔ جب چیئرمین پی ٹی آئی پر مہنگائی کی تنقید کی جاتی تھی تو پاکستان ایسے معاشی مسائل کا شکار نہیں تھا۔ تب کوئی روس یوکرین جنگ بھی نہیں تھی۔ عالمی سطح پر بھی مہنگائی نہیں تھی۔ آج دنیا میں جنگ کا ماحول ہے۔

عالمی سطح پر مہنگائی ہے۔ ایسے میں شہباز شریف کی حکومت کی کارکردگی کو صرف مہنگائی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مشکل معاشی حالات میں ان کی کارکردگی کیسی رہی۔ انہوں نے مشکل حالات میں ملک کیسے چلایا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان حالات میں کسی اور سے ملک ایسے نہیں چل سکتا تھا، انہوں نے شدید مشکل حالات میں ملک چلا کر دکھایا ہے۔