نئی حلقہ بندی سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کوئی واضح فرق نہ پڑے گا

  • جمعہ 11 / اگست / 2023

اس بات کا امکان ہے کہ نئی حد بندیوں سے ملک بھر کے بیشتر اضلاع میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔

یہ امکان ملکی تاریخ کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے سرکاری نتائج کے بغور جائزے سے  سامنے آیا ہے۔ پیش رفت سے واقف افراد کے مطابق چونکہ قومی اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں میں مزید نشستیں مختص کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے آئندہ ہونے والی حد بندی کی مشق بین الصوبائی تبدیلیوں تک محدود رہنے کی توقع ہے۔

الیکشن رولز کی شق 7 (2) کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کام اضلاع کی کل آبادی کو قومی اسمبلی کی فی نشست کے کوٹے سے تقسیم کرکے اس کے حصے کا تعین کرنا اور اس کا نوٹی فکیشن جاری کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن فارمولے کے تحت 0.5 سے زیادہ کے حصے کو ایک نشست کے طور پر شمار کیا جاتا ہے اور 0.5 سے کم کے حصے کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

ایک محتاط اندازے سے پتا چلتا ہے کہ کوئی بھی ضلع قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے اپنا حصہ نہیں کھوئے گا، جس کا مطلب ہے کہ اگر کچھ اضلاع کی قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا تو بھی انہیں آئندہ حد بندی میں وہ اضافہ نہیں ملے گا۔ اس کے بجائے فی حلقہ آبادی کا مقررہ کوٹہ پہلے کی حد بندیوں سے زیادہ مقرر کیا گیا ہے۔

127.68 ملین کی کل آبادی اور 141 قومی اسمبلی کی نشستوں کے ساتھ پنجاب کا فی سیٹ کوٹہ 905,595 ہے۔ سندھ کی کل آبادی 55.69 ملین ہے اور اس کی قومی اسمبلی میں 61 نشستیں ہیں، اس کا فی سیٹ کوٹہ 913,051 ہے۔ خیبرپختونخوا کی آبادی 40.85 ملین ہے، اس کی قومی اسمبلی میں 45 نشستیں ہیں اور اب اس کا فی سیٹ کوٹہ 907,913 ہوگا۔

14.89 ملین کی آبادی اور 16 قومی اسمبلی کی 16 نشستوں کے ساتھ بلوچستان کے لیے فی سیٹ کوٹہ 930,900 ہے جب کہ اسلام آباد کی آبادی 2.36 ملین ہے، اس کی تین سیٹیں ہیں۔ اس کا پر سیٹ کوٹہ 787,954 ہے۔

رائج فارمولے کے تحت پنجاب کے 2 اور سندھ کے ایک ضلع میں ایک اضافی نشست دی جانی چاہیے لیکن اس کا امکان نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی ضلع اپنا حصہ نہیں کھو رہا ہے۔

ماہرین نشاندہی کرتے ہیں کہ الیکشنز ایکٹ میں حالیہ ترمیم کی بدولت جس کے تحت ضلع کی حدود پر سختی سے عمل کرنا ضروری نہیں رہا، الیکشن کمیشن کے پاس نشستوں میں اضافہ نہ کرنے کی کچھ گنجائش ہو سکتی ہے۔

تاہم ماہرین اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکے کہ کیا اس صورت میں الیکشن کمیشن مردام شماری کے باوجود انتخابات نوے دن کی آئینی مدت نمیں کرواسکے گا۔ عام خیال ہے کہ مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں کی وجہ سے انتخابات میں چار پانچ  ماہ تاخیر ہوجائے گی۔