پارلیمنٹ کے حق قانون سازی پر اعلیٰ عدلیہ کا وار
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 11 / اگست / 2023
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ’ریویو آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ 2023‘ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا ہے۔ یہ بل اپریل میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد صدر عارف علوی کے دستخط سے قانون بنا تھا۔ اس قانون کے تحت آئینی شق 184(3) کے تحت قائم ہونے والے مقدمات میں اپیل کا حق دیا گیا تھا۔ بنچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجازالاحسن شامل تھے۔
آئینی شق 184(3) کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مفاد عامہ کے کسی معاملہ میں ازخود نوٹس لے کر کارروائی کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس اختیار کو عام طور سے سوموٹو اختیار کا نام دیا جاتا ہے۔ اس شق کے تحت کی جانے والی کارروائی اور جاری ہونے والے احکامات حتمی ہوتے ہیں کیوں کہ ان فیصلوں کے خلاف نظر ثانی کی درخواست یا اپیل کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس شق کی سب سے بڑی قباحت یہی ہے کہ متاثرہ فریق کو ایک فورم پر کسی فیصلہ کے بعد اپیل کرنے یا اس پر نظر ثانی کا حق نہیں ملتا۔ یہ طریقہ کار مسلمہ اصول عدل سے متصادم ہے۔
اس کے علاوہ آئین میں سو موٹو اختیار بنیادی حقوق کی کسی سنگین خلاف ورزی پر انصاف فراہم کے نقطہ نظر سے دیا گیا تھا۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ آئین سازوں نے امید رکھی ہوگی کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ایک معتبر اور ذمہ دار عہدہ ہوتا ہے۔ طویل عدالتی تجربے اور قانون کے عمیق مطالعے کی بنیاد پر اسے اس بات کا ادراک ہوگا کہ ایک ایسی شق کے تحت اختیار کو احتیاط اور سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران عدالت عظمی کے چیف جسٹسوں نے اس اختیا رکو بلا دریغ استعمال کرکے درحقیقت یہ سنگین سوال پیدا کردیا ہے کہ کیا فرد واحد کو اتنا وسیع اختیار حاصل ہونا چاہئے کہ متاثرہ فریق اس فیصلہ کے خلاف اپیل بھی نہ کرسکے۔ خاص طور سے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس اختیار کو کثرت سے استعمال کیا اور اس سے مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔
اسی تناظر میں وکلا برادری کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آتا رہاہے کہ آئینی شق 184(3) کے تحت کارروائی کا طریقہ کار طے کرنے کے لئے فل کورٹ کے پلیٹ فارم سے کوئی قابل قبول اور انصاف پر مبنی فیصلہ کیا جائے تاکہ چیف جسٹس محض اخبار پڑھ کر یا کوئی شکایت سن کسی بھی معاملہ میں سو موٹو نوٹس نہ لے سکے ۔ اس شق میں طے کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس اسی وقت کسی معاملہ میں سو موٹو نوٹس لے سکتا ہے اگر عدالت کو اس معاملہ پر غور کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ اس کے علاوہ یہ معاملہ مفاد عامہ سے متعلق ہو اور اس میں آئین میں فراہم کردہ بنیاد ی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ آئینی شق 184(3) کے تحت اختیار استعمال کرتے ہوئے ان پابندیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو کوئی چیف جسٹس کسی ایسے معاملہ پر نوٹس لینے کا مجاز نہیں ہے جو سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہ آتا ہو۔ یعنی چیف جسٹس کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ سپریم کورٹ کو ٹرائل کورٹ میں تبدیل کردیں کیوں کہ آئینی طور پر کوئی بھی معاملہ پہلے زیریں عدالت یا ٹرائل کورٹ میں زیر غور آتا ہے اور پھر اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکتی ہے۔ اصول قانون کے مطابق یہ طریقہ سائل کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے متعین کیا گیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ خود ہی ٹرائل کورٹ بن جائے گی تو ایک تو متاثرہ فریق کا حق اپیل ختم ہوجاتا ہے ، دوسرے عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ میں اضافہ ہوگا ، تیسرے یہ اقدام آئینی تقاضوں سے متصادم ہوگا۔ بدنصیبی سے ہمای اعلیٰ عدلیہ کے سربراہان نے ہمیشہ ان اہم پہلوؤں کو پیش نظر نہیں رکھا۔
گو کہ حال ہی میں سوموٹو اختیار کے تحت فیصلے کرنے کے قانون کو تمام غلطیوں سے پاک تو نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس امکان کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پیش نظر اس قانون سازی کے ذریعے نواز شریف کو تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل کا حق فراہم کرنا ہو کیوں کہ انہیں سپریم کورٹ نے سو موٹو اختیار کے تحت قائم مقدمہ میں ہی انہیں نااہل کیا تھا۔ بعد میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس نااہلی کو تاحیات قرار دیا تھا۔
اس کے باوجود اس قانون کے تحت سائیلین کو وہ بنیاد ی ریلیف دینے کا اہتمام ضرور کیا گیا تھا جو سپریم کورٹ بوجوہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ یعنی بار بار احتجاج سامنے آنے اور توجہ دلوانے کے باوجود کسی چیف جسٹس نے فل کورٹ کے ذریعے آئینی شق 184(3) کی توجیہ کرنے اور اس کے تحت اختیار کے استعمال کی واضح گائیڈ لائن بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ تو قابل فہم ہے کہ کوئی بھی چیف جسٹس خود اپنے اختیار میں کمی کیوں قبول کرے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ خوش گمانی بہر حال موجود رہتی ہے کہ چیف جسٹس کے عہدے پر متعین ہونے والا فاضل جج معاملات کو اپنی ذات سے بالا ہوکر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے اختیار کی بجائے، انصاف کی فراہمی اور عدالتی استحکام پر یقین رکھتا ہے۔ سوموٹو اختیار کے حوالے سے البتہ ایک کے بعد دوسرے چیف جسٹس نے محض ٹال مٹول سے کام لیا ہے اور کوئی واضح لائحہ عمل بنانے سے گریز کیا گیا۔ یہ رویہ چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہونے والے افراد کے شایان شان نہیں ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اب اپنے دو ساتھی ججوں کے ساتھ مل کر سابقہ حکومت کی قانون سازی کو تو ضرور آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کردیا ہے لیکن سوموٹو اختیار سے متاثرین کو نظر ثانی یا اپیل کا حق دینے کے حوالے سے کوئی ضابطہ یا طریقہ وضع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اور نہ ہی اس امر کا عندیہ دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ سوموٹو اختیار کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لئے ٹھوس اور واضح اقدمات کرے گی۔ یہ صورت حال ملک پر جوڈیشل حاکمیت نافذ کرنے کے مترادف ہے۔ ’ریویو آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ 2023‘ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کو ہدایت نہیں دے سکتی اور نہ ہی اس کی حدود متعین کرسکتی ہے۔ اسے عدالتی خود مختاری میں مداخلت کہا گیا ہے۔ لیکن یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ عدالت عظمیٰ کے تین ججوں نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ اور صدر مملکت کے دستخط شدہ قانون کو کالعدم قرار دے کر پارلیمنٹ کے اختیار میں واضح طور سے مداخلت کی ہے۔
کسی بھی قانونی یا آئینی معاملہ پر ہمشہ دو یا اس سے زیادہ آرا سامنے آتی ہیں۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے بارے میں بھی اختلاف ہوسکتا ہے اور اس کی تصحیح کے لئے کام بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ پارلیمنٹ کی وزڈم کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردے کہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے تو اس مؤقف کی جانچ کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں رہتا۔ زیر غور فیصلہ میں عمومی تفہیم اور کامن سینس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اسی دلیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کی بالادستی کے سامنے بند باندھنے کا کام بہر طور پارلیمنٹ ہی کا استحقاق ہے۔
کوئی عدالت پارلیمنٹ کو اس کے حق قانون سازی سے محروم نہیں کرسکتی۔ اگر کوئی قانون ججوں کی آئینی تفہیم میں آئین سے متصادم ہو تو اس کے دو طریقے ہی قابل قبول اور عمومی تفہیم میں درست ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ چیف جسٹس اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر کسی مرحلے پر پارلیمنٹ کے اختیار کو جانچنے کا کام کرنا ہی پڑے تو اس معاملہ کو فل کورٹ کے سامنے رکھا جائے تاکہ سپریم کورٹ کے سب جج اس معاملہ پر اپنی رائے دے سکیں۔صرف تین ’ہم خیال‘ ججوں کو پارلیمنٹ کا اختیار محدود کرنے کا اختیار دینا جائز نہیں ہوسکتا۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کوئی بنچ اگر کسی قانون کو آئین سے متصادم سمجھتا ہو تو اس پر رائے زنی کرنے اور قانون کو کالعدم کرنے کی بجائے پارلیمنٹ سے درخواست کی جائے کہ وہ اس قانون کے بعض حصوں پر نظر ثانی کرلے تاکہ اسے آئین کے مطابق بنایا جاسکے۔
زیر نظر معاملہ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ فیصلہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے ایک روز بعد جاری کیا گیا ہے حالانکہ اسے جون کے وسط میں محفوظ کیا گیا تھا۔ کسی جج کی نیت پر شک کئے بغیر میرٹ کی بنیاد پر یہ تو دیکھنا پڑے گا کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے یہ طریقہ اختیار کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ اگر یہ فیصلہ چھے آٹھ ہفتے پہلے دے دیا جاتا تو پارلیمنٹ اسی قانون کو بہتر انداز میں منظور کرسکتی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد فیصلہ کا اعلان اس شبہ کو تقویت دے گا کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ نہ صرف پارلیمنٹ کے حق قانون سازی کو محدود کرنے پر یقین رکھتا ہے بلکہ اس نے یہ بھی ضروری جانا کہ موجودہ پارلیمنٹ کو اسی متن کا قانون کسی دوسری شکل میں منظور کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ کسی منتخب ایوان کے بارے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا یہ رویہ افسوسناک ہے۔
یہ بات بھی نوٹ کی جارہی ہے کہ موجودہ چیف جسٹس ایک ماہ میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ہیں۔ انہوں نے سیاسی نوعیت کے ایک اہم قانون کو کالعدم کرنے کے لئے اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے حکم جاری کرنا ضروری سمجھا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال تواتر سے اہم آئینی و قانونی معاملات میں فل کورٹ بنانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ انہیں خود اپنے ساتھی ججوں کی بجائے اپنی اور اپنے چنیدہ ساتھی ججوں کی قانونی فہم پر ہی اعتبار ہے۔ یہ رویہ اعلیٰ عدلیہ میں کمزور روایت قائم کرنے کا سبب بنا ہے۔ ہر چیف جسٹس کی طرح جسٹس عمر عطا بندیال بھی بطور چیف جسٹس اچھی ’میراث‘ چھوڑ کر جانے کی خواہش رکھتے ہوں گے۔ لیکن متاثرین کو اپیل کا حق دینے کے لئے ایک اہم قانون سازی کو آئینی موشگافیوں کے نام پر مسترد کرکے انہوں نے بطور جج اپنی شہرت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے پہلے بھی آئینی شق 63 اے کی من پسند توجیہ کرنے کے علاوہ انہوں نے ایک منتخب وزیر اعظم کے قومی اسمبلی توڑنے کے استحقاق کو سوموٹو اختیار کے تحت پامال کیا تھا۔
سیاسی طور سے اس طریقہ کار پر اختلاف ہوسکتا ہے لیکن تاریخ میں یہ درج رہے گا کہ چیف جسٹس نے خود کو پارلیمنٹ سے بالا ہونے کے تاثر کو تقویت دی۔ ان کے متعدد فیصلے اس دلیل کے حق میں پیش کئے جائیں گے۔