یوم آزادی پر مایوسی کیوں؟

قوموں کی زندگی میں آزادی کے 76برس بہت ہوتے ہیں۔جن قوموں نے ترقی کرنی ہوتی ہے، وہ آزادی کے پہلے پچاس سالوں میں ہی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتی ہیں یا پھر کم ازکم وہ روڑ میپ ضرور بنا لیتی ہیں جو انہیں ترقی و خوش حالی کی منزل پر چند سالوں میں لے جانے میں معاون ومددگار ثابت ہوتاہے۔

آزادی حاصل کیے ہمیں پون صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن ترقی و خوش حالی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی بجائے بار بار ہم دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت کا شمار اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کے طور پر ہوتا ہے جب کہ ہم سے دو سال بعد آزاد ہونے والا چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے۔بھارت اور چین سے موازنہ تو چلیں رہنے ہی دیں، آج سے باون برس قبل ہم سے آزادی حاصل کرنے والا بنگلہ دیش جی ڈی پی، فی کس آمدنی، ایکسپورٹس اورزرمبادلہ کے ذخائر میں ہم سے کافی آگے ہے۔معاشی اشاریوں میں آگے نکل جانے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں بھی ہم سے کہیں آگے جا چکا ہے۔ 

آزادی کے75برسوں میں ہماری شرح خواندگی75فیصد ہی ہو چکی ہوتی تو ہم کسی حد تک مطمئن ہو سکتے تھے۔قیام پاکستان کے وقت خواندگی کی شرح 10سے 12فیصد کے درمیان تھی۔اگرشرح خواندگی میں  ہر سال ایک فیصد بھی اضافہ ہوتا رہتا تو اس وقت ہماری85فیصد سے زائد آبادی خواندہ ہوتی۔نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ کہ قوم کو تعلیم سے بہرہ ور کرنے کے معاملے میں ریاست وحکومت کے بڑوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔شرح خواندگی میں پیچھے رہنے کی ایک بڑی وجہ آبادی کا تیز رفتاری سے بڑھتے رہنا بھی ہے۔اگر ہم بنگلہ دیش کی طرح آبادی کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو محدود وسائل کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو تعلیم دینے کے قابل ہو سکتے تھے۔

بنگلہ دیش کی ترقی کا ایک اہم فیکٹر آبادی کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔بنگلہ دیش کے قیام کے وقت اکیلے مشرقی صوبے(مشرقی پاکستان) کی آبادی باقی ماندہ چار صوبوں (مغربی پاکستان) سے 60لاکھ زیادہ تھی لیکن اس وقت بنگلہ دیش کی آبادی پاکستان کی آبادی سے قریبا ساڑھے سات کروڑ کم ہے۔ ہم آبادی پر کنٹرول نہیں کر پائے۔ معیشت کا سیدھا سادھا اصول ہے کہ آبادی اور وسائل میں توازن ہونا چاہیے لیکن ارباب اقتدار کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے آبادی اور وسائل میں توازن بری طرح بگڑ چکا ہے۔ہر سال 50لاکھ سے زائد نفوس کے اضافے سے جہاں ایک طرف ہمارے دستیاب وسائل تیزی سے سکڑ رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف  عوام کی ایک بڑی تعداد کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات کی عدم فراہمی سمیت شدید قسم کی غربت، بے روزگاری، غذائی قلت، پینے کے صاٖف پانی کی عدم دستیابی، آلودگی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

کہنے کو تو آزادی حاصل کیے ہمیں 75برس ہو گئے ہیں لیکن تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہر گزرتے برس کے ساتھ عالمی طاقتوں اور مالیاتی اداروں کا ہمارے معاشی و سیاسی نظام میں عمل دخل بڑھ رہا ہے۔ہمارے ہاں سیاسی حکومتوں کی کامیابی کا معیار آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں اور حلیف ممالک سے زیادہ سے زیادہ قرضوں اور امداد کا حصول بنتا جا رہا ہے۔ہر آنے والی حکومت نہ ختم ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک طرف آئی ایم ایف پروگرام لینے پر مجبور ہو رہی ہے تو دوسری طرف سعودی عرب اور چین سمیت حلیف ممالک سے ادھار تیل یا آسان قرضے کی فراہمی کے لیے دوڑ دھوپ کرتی دکھائی دیتی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور حلیف ممالک سے آسان شرائط پر قرضے یا امداد کے حصول کے لیے آرمی چیف کو مداخلت کرنی پڑ تی ہے۔سوال یہ ہے کہ ہم آخر کب تک دوست ممالک سے ایسے مانگ تانگ کر گزارہ کرتے رہیں گے؟آئی ایم ایف پروگرامز بھی آخر تک کب تک ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچا پائیں گے؟معیشت میں پائیدار بہتری کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہوتا ہے جو بدقسمتی سے ہمارے ہاں مفقود  ہوتا جا رہا ہے۔ملک کو آگے کی سمت میں لے جانے کے لیے سیاسی جماعتوں اور مقتدرہ دونوں کو اپنے اپنے رویے اور طرز عمل میں مثبت تبدیلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔  

آزادی کے76ویں برس انڈیاکا "چندریان تھری" چاند کے مدار میں داخل ہو چکا ہے اور اگر اس بار انڈیا کا یہ خلائی مشن کامیاب ہو گیا تو انڈیا دنیا کا وہ پہلا ملک ہوگا جو چاند کے قطب جنوبی حصے پر اترے گا۔ آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی پر انڈیا کے خلائی ادارے نے "آزادی سیٹ"نامی سیٹلائٹ لانچ کر کے ملک کی 750طالبات کے خواب کو خلا میں لے جانے کے مشن کی تکمیل کی تھی۔ اس سیٹلائٹ کی خاص بات ملک بھر کے75سرکاری اسکولوں کی 750طالبات کو اس پراجیکٹ سے جوڑتے ہوئے لڑکیوں میں سائنسی وتخلیقی سوچ پیدا کرنا ہے۔رواں سال چندریان تھری کا چاندکے مدار میں داخل ہونا اورگزشتہ سال انہی ایام میں انڈین خلائی ادارے کی جانب سے لڑکیوں میں سائنسی سوچ کو بیدارکرنے کی غرض سے سیٹلائٹ کا لانچ کیا جانا، ہمارے ارباب اقتدار کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کا باعث بننا چاہیے تھا لیکن

افسوس صد افسوس کہ ہمارے   "بڑے" ابھی تک حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ سے ہی باہر نہیں نکل سکے۔سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کی مفاد پرستانہ سیاست کی وجہ سے ملک آگے جانے کی بجائے دائرے میں محو سفر ہے۔

یوم آزادی پر گھروں کو جھنڈیوں اور پرچموں سے سجاتے سجاتے جوان ہونے والے بچے اب ملک کے سیاسی ومعاشی مستقبل سے مایوس ہو کر ملک چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔مقتدرہ کواب ملک و قوم پر رحم کھاتے ہوئے سیاسی و انتخابی نظام کو آزادانہ چلنے دینا چاہیے۔  ورنہ یہ افسردگی ومایوسی غصے اور نفرت میں بدل سکتی ہے۔یوم آزادی پر ملک کو آگے کی سمت میں لے جانے کے لیے یوں تو ارباب اقتدار عالمی ٹورازم کو فروغ دینے سمیت کئی شعبوں میں بہتری کی کوششیں شروع کر سکتے ہیں لیکن سب سے پہلی ترجیح تعلیم و تحقیق اور سائنس وٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات ہونے چاہیں۔قبائلی افکار سے بندھے معاشرے کے باوجود ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ریسرچ  وجستجواور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ہمارے ہاں بہت سے ذہین و فطین افراد نے ملکی و عالمی سطح پر نمایاں کوششیں کی ہیں لیکن سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے سرکاری سطح پر ٹھوس اقدامات نہ کئے جانے پر ہم مجموعی طور پر اس میدان میں بہت پیچھے ہیں۔جدید پیشہ ورانہ علوم کے حصول اورسائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو پروان چڑھائے بغیرہم اپنے ملک میں موجود اربوں کھربوں ڈالر کے معدنی وسائل سے ہی صیح معنوں میں استفادہ نہیں کر سکتے۔