انسانی حقوق کے خلاف قانون سازی آپ ہی کے خلاف استعمال ہوگی: سردار اختر مینگل کا نواز شریف کو خط

  • اتوار 13 / اگست / 2023

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی مینگل) کے صدر سردار اختر مینگل نے نگران وزیراعظم کے تقرر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کو خط لکھا ہے۔

سردار اختر مینگل نے اپنے خط میں لکھا کہ جناب میاں محمد نواز شریف صاحب، امید ہے آپ بمعہ اہلِ خانہ خیریت سے ہوں گے۔ میرا آج کا پیغام مورخہ 22 جولائی 2022 کو بھیجے جانے والے گزشتہ پیغام کا تسلسل ہے کیونکہ جن مسائل کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا کاش کہ اُن میں کمی آتی لیکن حسبِ روایت ان میں اضافہ ہوتا گیا۔

اس کا الزام کسی پر ڈالنے کے بجائے ہم اپنی شومئی قسمت کو ہی ٹھہرائیں تو بہتر ہوگا۔ وہی بلوچستان، وہی جبری گمشدگیاں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسئلے کے حل کی کوشش کی جارہی ہے۔ سیاست دانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے آس لگائی جارہی ہے یا اُن کی مشاورت سے مسئلے کا حل تلاش کیا جارہا ہے۔

میاں صاحب، ہم پر جو گزری یا گزر رہی ہے وہ ہماری قسمت لیکن حیرانی اس بات پر ہے کہ جو آپ لوگوں پر گزری اُس سے ابھی تک سبق نہیں سیکھا۔ ہمیں جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف کے مظالم اچھی طرح یاد ہیں لیکن آپ کی جماعت مشرف اور باجوہ کی سازشوں اور غیر آئینی اقدامات کو اتنی جلدی فراموش کردیا۔ ایک بار پھر رات کی تاریکیوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر قانون سازی کرکے جمہوری اداروں کو کمزور کرنا اور غیر جمہوری طاقتوں کو مزید طاقتور کرنا جمہوریت کے تابوت میں مزید کیلیں ٹھوکنے کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے لکھا کہ انسانی حقوق کے برخلاف قانون سازی شاید ہم سے زیادہ مستقبل میں آپ حضرات کے ہی خلاف استعمال کی جائیں گی۔ کیونکہ ہم بلوچستان کے باسیوں کو روزِ اول سے انسان سمجھا ہی نہیں گیا۔ سی پیک سے اہل بلوچستان کو کیا حاصل ہؤا؟ آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔ کتنے موٹروے، بجلی اور شمسی توانائی کے منصوبے، میٹرو ٹرینوں اور بسوں سے لے کر صحت اور تعلیم کی سہولیات سے لے کر پینے کے پانی کے جو منصوبے اور سہولیات مہیا کی گئی ہیں وہ دنیا کی ترقی کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔

سربراہ بی این پی مینگل نے لکھا کہ موجودہ دور میں گوادر یونیورسٹی کے قیام بمقام لاہور کا بھی اعلان کیا گیا جو میں سمجھتا ہوں بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ گوادر ایئرپورٹ کا نام بجائے کسی بلوچستان کی سیاسی یا سماجی شخصیت کے کسی ایسے شخص کے نام کردیا جس کے نام سے شاید ہی بلوچستان کے لوگ واقف ہوں گے۔ انہوں نے خط میں استفسار کیا کہ گزشتہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی جو کہ تقریباً 2 کروڑ 24 لاکھ کے قریب بنتی تھی، اسے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں 73 لاکھ کم کرکے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے؟

انہوں نے لکھا کہ اہم معاملات میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنا بداعتمادی ہی کو دوام بخشے گا۔ بڑے اور چھوٹے صوبوں کے درمیان نفرتوں کی مٹی سے بنائے گئے اُن میناروں کی اونچائی اور مضبوطی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔ اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی مستقبل میں آنے والی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون بنائے اور توڑے بھی جاتے ہیں۔ لیکن اُس کے برعکس اہلِ بلوچستان کا اپنے پیاروں کے لیے آوز اٹھانا اور آنسو بہانا بھی خلافِ قانون ہے۔

انہوں نے نواز شریف کو یاد دہانی کروائی کہ آپ کے گزشتہ 2 ادوار حکومت میں بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہم پچھلی بار کی طرح اس بار بھی یہ تصور اور خیال کر بیٹھے کہ شاید اُن تلخ تجربات کے بعد آپ کی جماعت کو اب احساس ہوگیا ہوگا لیکن آپ کی جماعت نے ہمیں پہلے بھی غلط ثابت کیا اور اب بھی۔ انہوں نے لکھا کہ کاش کہ ہمیں مطالعہ پاکستان کی نصاب کی کتابوں میں گزشتہ 76 سالہ تاریخ پڑھائی جاتی تو شاید ہم تاریخ سے سبق حاصل کرتے۔ لیکن اب تو ہم اور آپ تاریخ کے سامنے صرف اور صرف جواب دہ ہیں اور جواب دے رہے ہیں۔

خط کے اختتام میں سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے لیے ایسے شخص کی نامزدگی کی گئی جس سے ہمارے لیے سیاست کے دروازے بند کر دیے گئے۔ آپ کے اس طرح کے فیصلوں نے آپ کے اور ہمارے درمیان مزید دوریاں پیدا کر دیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قائد ایوان شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجا ریاض کے درمیان نگران وزیراعظم کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کے نام پر اتفاق ہو گیا تھا اور صدر مملکت نے انوارالحق کے بطور نگران وزیراعظم تقرر کی سمری پر دستخط بھی کردیے تھے۔ حکمران اتحاد کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انوار الحق کاکڑ کا نام اتحاد میں شامل بہت سے لوگوں کے لیے ’باعث حیرت‘ ہے۔ درحقیقت ان کی نامزدگی کی سمری پر دستخط کرنے والے بھی ان کے نام سے لاعلم تھے۔

نگران سیٹ اپ ’اپنے آدمی‘ کے حوالے کرنے میں شریف برادران کی ناکامی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انوار الحق کاکڑ کا نام کہیں اور سے آیا ہے اور اسے تمام اسٹیک ہولڈرز کو قبول کرنا پڑا۔ اسی طرح کا تبصرہ رہنما پیپلزپارٹی سید خورشید شاہ نے کیا۔ جن کا کہنا تھا کہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انوار الحق کاکڑ نگران وزیر اعظم بنیں گے، پیپلز پارٹی نے 3 نام تجویز کیے تھے اور وہ بہتر آپشن تھے۔