نیا نگران وزیر اعظم : ملک میں جمہوری عمل سے گریز کا نقطہ آغاز؟
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 13 / اگست / 2023
بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے انوارالحق کاکڑ ایک روز بعد ملک کے آٹھویں نگران وزیر اعظم کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ ملک میں نئے نگران وزیر اعظم کے بارے میں کئی ہفتے سے قیاس آرائیں ہورہی تھیں۔ اتحادی پارٹیوں کے اجلاس بھی ہوئے اور دونوں بڑی پارٹیوں کے بڑے بھی سر جوڑ کر بیٹھے لیکن نئے نگران وزیر اعظم کے لئے اس نام پر ’اتفاق‘ ہؤا جو بظاہر کٹھ پتلی اپویشن لیڈر سمجھے جانے والے راجہ ریاض نے پیش کیا تھا۔
اس دوران حفیظ شیخ جیسے ماہر معاشیات اور جلیل عباس جیلانی جیسے ماہر سفارت کار اور آزمودہ سرکاری افسر کے ناموں کا چرچا رہا بلکہ بعض حلقوں نے تو ان میں سے کسی ایک کو یقینی امیدوار تک قرار دیا لیکن وزیر اعظم شہباز شریف نے جب آئینی ضرورت پوری کرنے کے لئے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے ملاقاتیں شروع کیں تو ان کے ذریعے سامنے آنے والے ایک غیر معروف نام انوار الحق کاکڑ پر اتفاق رائے کرنا پڑا۔ اب یہ واضح ہورہاہے کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے دوران جو نام زیر غور تھے ، ان میں کاکڑ کا نام شامل نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی نے تو کہہ دیا ہے کہ یہ نام ان کے تجویز کردہ تین ناموں میں شامل نہیں تھا تاہم پارٹی کا سرکاری طور سے یہی مؤقف سامنے آیا ہے کہ حتمی نام کے فیصلے کا اختیار چونکہ شہباز شریف کو دیا گیا تھا، اس لئے پارٹی کو اس نام پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ پارٹی بروقت انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے۔
اتحادی حکومت میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے صدر سردار اختر مینگل نے اس نامزدگی پرباقاعدہ احتجاج کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کے رہبر اعلیٰ میاں نواز شریف کے نام ایک کھلے خط میں واضح کیا ہے کہ ’ نگران وزیراعظم کے لیے ایک ایسے شخص کی نامزدگی کی گئی جس سے ہمارے لیے سیاست کے دروازے بند کر دیے گئے۔ آپ کے اس طرح کے فیصلوں نے آپ کے اور ہمارے درمیان مزید دوریاں پیدا کر دیں‘۔ اس خط میں اختر مینگل نے گزشتہ چند ہفتے کے دوران ہونے والی قانون سازی سے بھی لاتعلقی کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ ’ ہمیں جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف کے مظالم اچھی طرح یاد ہیں لیکن آپ کی جماعت نے مشرف اور باجوہ کی سازشوں اور غیر آئینی اقدامات کو اتنی جلدی فراموش کردیا۔ ایک بار پھر رات کی تاریکیوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر قانون سازی کرکے جمہوری اداروں کو کمزور کرنا اور غیر جمہوری طاقتوں کو مزید طاقتور کرنا جمہوریت کے تابوت میں مزید کیلیں ٹھوکنے کے مترادف ہوگا۔ انسانی حقوق کے برخلاف قانون سازی شاید ہم سے زیادہ مستقبل میں آپ حضرات کے ہی خلاف استعمال کی جائے گی‘۔
سردار اخترمینگل کے یہ سخت الفاظ ، اس شدید مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں جو بلوچ عوام کو پاکستان کے مر کزی دھارے اور مقتدر طاقتوں سے رہی ہے۔ بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی نے تمام ذیادتیوں اور سیاسی اختلافات کے باوجود مین اسٹریم سیاست کا حصہ بنے رہنے اور علیحدگی پسندی کی بجائے سیاسی تعاون سے مسائل کا متفقہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ سردار اختر مینگل کا خط واضح کرتا ہے کہ دونوں بڑی پارٹیوں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بیانات کی حد تک تو بلوچستان کی تقدیر بدل دینے کے بہت دعوے کئے ہیں لیکن عملی طور سے کبھی کسی اہم سیاسی فیصلہ میں اس صوبے کے حقیقی نمائیندوں کو شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اور نہ ہی لاپتہ افراد اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے کوئی ایسے اقدامات کئے کہ بلوچ عوام کو اطمینان نصیب ہوتا۔ اب بلوچستان سے ہی تعلق رکھنے والے ایک شخص کو نگران وزیر اعظم بنانے پر سردار مینگل کی تشویش درحقیقت اس سچائی کا اظہار ہے کہ انوار الحق کاکڑ بلوچ عوام کے نمائیندے نہیں ہیں بلکہ وہ ان قوتوں کے ترجمان بنے رہے ہیں جن پر بلوچ عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے اور ان کے سیاسی حقوق سلب کرنے کا الزام عائد ہوتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے بڑے فخر سے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ نگران وزیر اعظم چھوٹے صوبے سے ہونا چاہئے اور اسی لئے انہوں نے انوار الحق کاکڑ کا نام تجویز کیا اور پھر وزیر اعظم سے بات چیت میں اس نام پر ’ڈٹ گئے تھے۔ ملکی سیاسی تناظر میں راجہ ریاض کی پہچان چاپلوس اور موقع پرست سیاست دان کی رہی ہے۔ وہ تحریک انصاف کا حصہ رہے ہیں لیکن جوں ہی اس پارٹی کی حکومت کے دوران مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں اضافے کی خبریں سامنے آنے لگیں تو پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی ہونے کے باوجود انہوں نے لیگی قیادت سے پینگیں بڑھانا شروع کردیں اور اگلا انتخاب مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر لڑنے کا اعلان تک کردیا۔ اسی ارادت مندی کی وجہ سے تحریک انصاف کے باغی ارکان میں سے انہیں ’اپوزیشن لیڈر‘ کے منصب کے لئے چنا گیا تھا۔ اس پوزیشن پر رہتے ہوئے انہوں نے اب تحلیل ہوجانے والی قومی اسمبلی میں کبھی حکومت کے کسی اقدام پر انگلی نہیں اٹھائی بلکہ شہباز حکومت کے سولہ ماہ کے دوران کبھی محسوس ہی نہیں ہوسکا کہ قومی اسمبلی میں کوئی اپوزیشن بھی موجود ہے۔
یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم نے نئے نگران وزیر اعظم کے نام پر مشاورت کے لئے حلیف جماعتوں سے مشاورت کے تو کئی دور کئے لیکن راجہ ریاض سے ملاقات کو مسلسل ٹالا جاتا رہا ۔حالانکہ اپوزیشن لیڈر سے مشاورت وزیر اعظم کا آئینی فرض تھا اور ان دونوں میں اتفاق رائے کے بغیر کسی شخص کو نگران وزیر اعظم نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ راجہ ریاض سے ملاقات کے دوران میں شہباز شریف کے وہم و گمان میں نہیں ہوگا کہ ’اپوزیشن لیڈر‘ بھی اپنے امیدواروں کی فہرست لے کر آئیں گے بلکہ ایک نام پر باقاعدہ ’ڈٹ‘جائیں گے اور اس ضد میں کوئی ایسی پراسرار قوت پنہاں ہوگی کہ شہباز شریف کی سٹی گم ہوجائے گی۔ بڑے بھائی کی صلاح ، اتحادیوں کے مشورے اور آرمی چیف کی تمام تر چاپلوسی کے باوجود انہیں راجہ ریاض کے سامنے یوں ہتھیار پھینکنے پڑیں گے کہ نگران وزیر اعظم کی سمری پر دستخط کرنے کے بعد وہ فوری طور سے میڈیا کا سامنا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ یہ فریضہ بھی راجہ ریاض کو سرانجام دینا پڑا جنہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ انہوں نے بلوچستان کے عوام کی محرومی کی وجہ سے یہ تجویز پیش کی اور اسے منوا کر ہی دم لیا۔ تجزیہ نگار ضرور اس بات کی کھوج لگاتے رہیں گے کہ راجہ ریاض جیسے موقع پرست سیاست دان کو اچانک بلوچستان کی محرومیاں کیوں یاد آگئیں اور ایک نگران وزیر اعظم کیوں کر ان محرومیوں کو کم کرسکتا ہے جبکہ اس کا کام صرف انتخابات کے دیانت دارانہ انعقاد تک محدود ہوتا ہے۔
انوار الحق کاکڑ بلوچستان میں اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی میں قائم ہونے والی بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے بانی ارکان میں شامل ہیں۔ انہیں بلوچستان کے بارے میں سرکاری مؤقف کی بھرپور تائد کرنے کی شہرت حاصل ہے۔ یعنی وہ اس صوبے میں سہولتوں، آزادی، بنیادی حقوق کی حفاظت اور سیاسی کارکنوں کو اٹھالئے جانے جیسے معاملات کو اہم نہیں سمجھتے بلکہ یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وسائل سے مالامال ملک کا یہ صوبہ بدستور ملکی فوج کی دسترس میں رہے ۔ انہیں اس میں کوئی قباحت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ بلکہ سکیورٹی امور پر نام نہاد ماہر کے طور وہ عوامی حقوق کی بجائے اسٹبلشمنٹ کے اختیار کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں تاکہ اس صوبے میں امن قائم رہے۔ کسی خطے میں عوامی خواہشات کے علی الرغم سکیورٹی فورسز کو طاقت ور بنانے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
یہاں اس بات کا حوالہ بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان عوامی پارٹی صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی بنیاد تباہ کرنے اور اس کے وزیر اعلیٰ ثناللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کے پس منظر میں قائم کی گئی تھی۔ بعد میں اس پارٹی نے مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت قائم کرنے میں اہم امداد فراہم کی تھی۔ اب اسی پارٹی کے ایک بانی رکن کو شہباز شریف نگران وزیر اعظم نامزد کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس نامزدگی کا طریقہ بھی واضح کرتا ہے کہ طاقت ور حلقوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی سیاسی لیڈر یا پارٹی نے ان کے لئے کیا خدمت سرنجام دی ہے۔ اسٹبلشمنٹ کو بروقتِ ضرورت سیاست دانوں کو استعمال کرنے اور پھر انہیں نظر انداز کرنے یا نشانِ عبرت بنانے کا طویل تجربہ ہے۔ کاکڑ کی نامزدگی درحقیقت شہباز شریف کے لئے اس واضح پیغام کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ خود کو اسٹبلشمنٹ کا کیسا ہی خیر خواہ سمجھتے رہیں اور آرمی چیف کو اپنی وفاداری کا جتنا بھی یقین دلائیں، فوج سیاسی فیصلے کرتے ہوئے اپنے منصوبوں کے مطابق کام کرتی ہے۔
شہباز شریف موجودہ آرمی چیف کو مقرر کرکے مرضی کا آرمی چیف لانے کے لئے عمران خان کے منصوبوں کو ناکام بنانے کا سہرا اپنے سر باندھتےرہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ جنرل عاصم منیر کی صورت میں ایک ایسا آرمی چیف میسر آیا ہے جو باجوہ رجیم میں عروج پر پہنچائے گئے ’عمران پراجیکٹ ‘ کو ناکام بنادے گا۔ دوسرے لفظوں میں اب مسلم لیگ (ن) کو اقتدار میں رہنے کے لئے سہولت کاری فراہم ہوگی۔ لیکن شہباز شریف کی تفہیم کے برعکس راجہ ریاض کے ذریعے انوار الحق کاکڑ کو نگران وزیر اعظم بنوا کر اس بھرم کا پول کھول دیا گیا ہے۔
اسٹبلشمنٹ جب تک سیاست پر حاوی رہے گی تو عمران خان ہو یا شہباز شریف، ان کی حیثیت مہروں سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ یہ صورت حال تبدیل کرنے کے لئے سیاست دانوں کو عسکری اداروں کی بجائے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ عمران خان کے بعد شہباز شریف بھی باہمی تعاون سے مسلسل انکار کرتے رہے ہیں اور اب اس کا نتیجہ ان کے سامنے ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ شہباز حکومت نے نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ کرنے اور عوام کے مقابلے میں ریاستی اداروں کو مضبوط و بالادست بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ قیاس آرائیاں موجود ہیں کہ نئی نگران حکومت مقررہ مدت میں انتخاب کروانے کی بجائے ایک طویل عبوری حکومت کی شکل اختیار کرلے گی اور ملک کے تمام مسائل حل کرنے تک انتخابات نظر انداز ہی رہیں گے۔
انوار الحق کاکڑ کی صورت میں کمزور ، سیاسی بنیاد سے محروم اور کسی ذاتی صلاحیت سے عاری ، ایک ایسا وزیراعظم مقرر ہؤا ہے جس کے ہوتے کسی کو شبہ نہیں رہے گا کہ ملک کا اصل حکمران کون ہے۔ بدقسمتی سے یہ نامزدگی ملک میں ایک طویل اور تاریک جابرانہ دور کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔