درست فیصلے کیے تو مہنگائی اور معاشی بدحالی کے امتحان سے سرخرو ہو کر نکلیں گے: شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قوم اس سیاہی اور بربادی کو اب ملک پر دوبارہ مسلط نہ ہونے دے جس نے چار سال میں قوم کی بہتری کے تمام خواب چکناچور کر دیے تھے۔ اگر ہم نے بحیثیت قوم درست فیصلے کیے تو جلد مہنگائی اور معاشی بدحالی کے امتحان سے سرخرو ہو کر نکلیں گے اور پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا۔
وزیر اعظم نے اتوار کی رات قوم سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ارض پاک اور عوام کے مفادات کی نگہبانی کی بھاری اور مقدس امانت 16ماہ کے صبر آزما اور پے درپے آزمائشوں سے بھرے کٹھن سفر کی آئینی مدت کی تکمیل پر نگران حکومت کے حوالے کررہا ہوں۔ ہم آئین کے راستے سے آئے تھے اور اسی راستے پر چلتے ہوئے ضمیر اور قلب کے اس اطمینان کے ساتھ واپس جا رہے ہیں۔ آپ کے اعتماد، وسائل اور اختیارات کی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین پر چلتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کی مشاورت سے نگران وزیراعظم کے منصب کے لیے انوار الحق کاکڑ پر اتفاق ہوا اور میں انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کا تعلق ہمارے عظیم صوبے بلوچستان سے ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ عوام کے ووٹ کی حفاظت کرتے ہوئے وہ ملک میں شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں تمام قائدین اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے مجھے اس ذمے داری کے قابل سمجھا اور اعتماد کیا۔ رب ذوالجلال کا احسان ہے کہ ہمیں ملک کے سنگین ترین معاشی، سیاسی اور خارجی بحرانوں سے نکالنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائی۔ وقت اور ریکارڈ گواہی دیتا رہے گا کہ مختصر ترین مدت میں ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے اور اس کے نتیجے میں آنے والی بڑی تباہی سے قوم کو بچا لیا اور قومی مفادات پر آنچ نہیں آنے دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کی ڈوبتی کشتی کو بدترین طوفانوں سے بچا کر پرامن ساحلوں کی طرف واپس لے آئے ہیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی کامیابی نے ملک کو معاشی استحکام عطا کیا ہے۔ میرے عزیز ہم وطنو، قرض لینا کوئی کامیابی نہیں لیکن حالات جس نہج پر تھے اور سابق حکومت شرائط کی جن زنجیروں میں ریاست کو جکڑ گئی تھی، ہم نے پاکستان کو ان زنجیروں سے آزاد کرایا۔
پاکستان کے عزیز ترین دوستوں اور ہر مشکل میں ساتھ نبھانے والے برادر ممالک کا اعتماد بحال کیا اور تاریخ کے بدترین سیلاب سے متاثرہ اہل وطن کا ہاتھ تھاما۔ شدید ترین معاشی مشکلات کے باوجود معاشرے کے کمزور ترین طبقات کو ہر ممکن ریلیف مہیا کیا، پانچ ہزار میگا واٹ مزید بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100انڈیکس 49ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر چکا ہے جو گزشتہ چھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ میڈیا کو آزادی اور میڈیا ورکرز کو حقوق دیے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو معاشی خود انحصاری اور کشکول سے نجات دلانے کی راہ پر گامزن کردیا۔ ہم نے ماضی کی تاریکیاں ہی ختم نہیں کیں بلکہ خوشحال مستقبل کے لیے چراغ بھی روشن کر کے جا رہے ہیں۔
مسلم لیگ(ن) کے صدر نے کہا کہ 16 ماہ کانٹوں اور انگاروں پر چلنے کا سفر تھا۔ اقتدار سنبھالتے ہی یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو چکی تھی کہ پاکستان کو انتہائی تباہ کن حالات کا سامنا ہے۔ ایک دن کی بھی مزید تاخیر ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی تھی، اگر اس وقت ہم فوری انتخابت کرا دیتے تو ہمیں بہت سیاسی فائدہ ہوتا لیکن ملک کے سنگین اور گمبھیر حالات نے ہمیں یہ سیاسی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی۔
انہ ہم نے سیاسی خودغرضی نہیں کی، پاکستان کے قومی مفادات کو ترجیح دی۔ ایک طرف ریاست اور دوسری طرف سیاست تھی۔ ہم نے ریاست بچانے کا فیصلہ کیا اور اللہ کا نام لے کر مشکل ترین فیصلے کیے اور وقت نے ثابت کیا کہ ہم نے درست فیصلہ کیا۔
مہنگائی میں کمی نہ ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اس راہ میں سب بڑی بارودی سرنگ ڈیفالٹ کی صورت میں سابق حکومت بچھا کر گئی تھی جس نے آئی ایم ایف سے اپنے ہاتھ سے کیا ہوا معاہدہ جان بوجھ کر اور سازش کے تحت خود ہی توڑ دیا۔ حتیٰ کہ اس معاہدے کی بحالی کی ہماری سرتوڑ کوشش بھی ناکام بنانے کی مذموم سازش کی۔
اگر ملک دیوالیہ ہو جاتا تو ملک میں وہ قیامت برپا ہوتی جس کا تصور بھی محال ہے۔ کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہو جاتی، دوائی ملتی نہ پیٹرول، گیس ہوتی نہ بجلی۔ صرف افراتفری اور ہنگامے ہوتے، بچے بھوک سے بلکتے۔ غریب بے حال ہوتے، کاروبار بند، صنعت و معیشت کے پہیے رک جاتے۔ بے روزگاری کا سمندر ہوتا، کچھ ملتا بھی تو کئی کئی دن قطاروں میں کھڑے رہنے کے بعد ملتا۔ وطن دشمن وہی خوفناک منظر دیکھنا چاہتے تھے جو دوست ملک سری لنکا میں پوری دنیا نے دیکھا۔ خودغرضوں کو صرف اپنی سیاست پیاری تھی، یہ وطن دوست اور وطن فروش سوچ میں ایک جنگ تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سازشیں ایک ایک کر کے ناکام ہو گئیں۔ مہنگائی ہوئی لیکن اشیا کی قلت ہوئی نہ ہی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بزرگوں کو قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا۔ میں نے ہمیشہ قوم کے سامنے برملا اعتراف کیا کہ ہمیں مشکل اور تلخ فیصلے کرنے پڑے لیکن یہ سوچنا ہو گا کہ یہ فیصلے آخر کیوں کرنے پڑے۔ یہ نہ کرتے تو کیا ہوتا۔ یہ فیصلے اسی طرح ایک مجبوری تھے جس طرح کینسر کے مریض کو شفایاب کرنے کے لیے کیمو تھراپی کے مشکل اور تلخ مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے لیکن یہ فیصلہ بیمار وجود کو صحت مند بنانے کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 14 اگست کو اس عظیم وطن کے قیام کو 76سال مکمل ہو رہے ہیں، میں قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس وطن کے قیام کے لیے لاکھوں شہدا نے عظیم قربانیاں دیں۔ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں نے اپنے آنچل قربان کیے، جنہیں ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔
یہ قربانیاں اور احسان ہماری آنکھوں آج بھی آنسو لے آتی ہیں، مگر افسوس ہمارے شہدا کی قربانیوں کو زائل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، شہدا کی نشانیوں کو مسمار کیا گیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ وہ لوگ جو دن رات سرحدوں پر ہماری حفاظت پر مامور ہیں، ان کی عمارتوں کو جلایا گیا۔ پاکستان کے طول و عرض میں موجود کئی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور یہ سب باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ ذہن سازی کی گئی، اہداف کا تعین ہوا۔ جتھوں کی صورت اختیار کی گئی اور باقاعدہ ہدایات جاری کی گئیں۔ سابقہ حکومت کے لیڈران بطور ماسٹر مائنڈ، سہولت کار اور دور دراز علاقوں سے بلائے گئے گروہ اس قابل افسوس کام میں شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 9مئی کا دن قوم کبھی نہ بھلا سکے گی۔ یہ سیاہ دن اور ان کے کالے چہرے اس قوم کے سامنے آج مکمل طور پر سامنے آ گئے ہیں۔ قوم کو اپنے شہدا اور غازیوں پر فخر ہے۔ ان کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد ہیں اور بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے خلاف کامیابی سے لڑ رہے ہیں۔ میں قوم کے ان بہادر بیٹوں سلام پیش کرتا ہوں۔ افواج پاکستان، ان کا ہر افسر اور سپاہی ہمارا فخر ہے اور ہم سب کو ان پر ناز ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اب پھیلا ہوا ہاتھ دینے والا ہاتھ بنانا ہے اور اس میں سب سے پہلے غریبوں اور مفلوک الحال کو وہ وسائل فراہم کرنے ہیں جن کے وہ اصل میں حقدار ہیں۔ عام آدمی نے بہت قربانی دے دی ہے، اب قربانی کی باری ان کی ہے جن پر خدا تعالیٰ نے وسائل کی فراوانی کی ہے۔ مجھے یقین کامل ہے صاحب ثروت لوگ صاحب دل اور صاحب ایثار بھی ہیں۔ ملک و قوم کی بہتری کے لیے ہماری کاروباری، صنعت کار اور اہل ثروت برادری اس بار بھی آگے بڑھ کر کردار ادا کرے گی۔ اپنے زیر سایہ کم وسائل کے حامل لوگوں کے دکھ درد بانٹے گی، وطن کی معاشی خودانحصاری کے لیے آگے بڑھ کر اپنا حصہ ڈالے گی۔
انہوں نے کہا کہ 16 ماہ محض ایک جھلک ہیں۔ اگر تدبیر کی سمت درست ہو تو بنجر زمین میں بھی گلاب اگائے جا سکتے ہیں۔ ہم نے یہی کر کے دکھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور 16ماہ کی مسلسل محنت کے بعد آج میں آپ سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ معاشی پالیسیوں کے اسی راستے پر چلتے رہنے سے آنے والے وقت میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئے گی۔ ہمارا وعدہ ہے کہ مہنگائی کو اسی کم ترین سطح پر واپس لائیں گے جہاں نواز شریف بڑی لگن سے لے کر آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ملک آج پھر فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے ہم ترقی کی بلند شرح، معاشی خودانحصاری، کشکول توڑنے، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے دکھوں سے نجات کی منزل حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آئندہ 5سال ہمیں اسی محنت، دیانت داری اور خلوص نیت، ایثار اور درست سمت میں کام جاری رکھنا ہو گا جس کا مظاہرہ ہم نے 16ماہ میں کیا ہے۔
جس طرح دہشت گردی کے خلاف پوری قوم ایک بیانیے پر جمع ہوئی تھی، آج پوری قوم معاشی خودانحصاری کے قومی بیانیے پر متفق ہو چکی ہے۔ اس مقصد کو عملی طور پر حاصل کرنے کے لیے ایس آئی ایف سی کا ادارہ معرض وجود میں آ چکا ہے۔ آنے والے چند ماہ و سال میں اربوں ڈالر کی ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کے بڑے بڑے منصوبے شروع ہونے والے ہیں۔ زرعی انقلاب قرضوں سے نجات دلائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، معدنی خزانوں سے ملک و قوم کی تقدیر بدلیں گے۔ دفاعی پیداوار میں پاکستان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں گے اور وطن کی ترقی کی رفتار تیز کریں گے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ یہ محض خواب نہیں، دعویٰ نہیں، محض کوئی نعرہ نہیں بلکہ اس خواب کی تعمیر کا جامع منصوبہ ہم نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے بنایا ہے۔ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں اور عسکری ادارے سب مل کر اجتماعی دانش سے اس منصوبے پر کام شروع کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے بحیثیت قوم درست فیصلے کیے تو یہ خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ جلد مہنگائی، معاشی بدحالی کے امتحانوں سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا، کرب سے نجات اور معاشی طور پر خودانحصار پاکستان دنیا میں ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔