شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی رہائی کا حکم، اعلیٰ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ

  • بدھ 16 / اگست / 2023

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار کی مینٹیننس پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران گرفتاری کا آرڈر معطل کرکے دونوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جسٹس بابر ستار نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ ڈی سی اسلام آباد، آئی جی پولیس اور چیف کمشنر عدالت میں موجود تھے۔

عدالت عالیہ نے کہا کہ اگر شہریار آفریدی جیل میں رہ کر عدالت پر حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے تو جیل انتظامیہ کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق شہریار آفریدی نے اشتعال پھیلایا، ضلعی عدالتوں پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ عدلیہ کے خلاف مہم میں بھی ان کا نام آیا۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ جیل میں ہونے کے باوجود انہوں نے لوگوں کو کیسے اشتعال دلایا؟ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ میری آنکھیں اور کان تو انٹیلی جنس رپورٹس ہی ہیں۔ ڈی سی نے 9 مئی کو مختلف شہروں میں ہونے والے واقعات کا حوالہ دیا جس پر جسٹس بابر ستار نے ڈی سی کو روک دیا۔

جسٹس بابر ستار نے ہدایت کی کہ آپ صرف اسلام آباد کی بات کریں اور اپنے آرڈر پڑھیں۔ ڈی سی نے کہا کہ آئی بی نے رپورٹ دی کہ شہریار آفریدی ضلعی عدالتوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ شہریار آفریدی جیل میں عدالت پر حملے کا منصوبہ کیسے بنا رہے تھے؟

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ 8 مئی کی انٹیلی جنس رپورٹس کہ صورتحال کشیدہ ہے، 8 مئی کو کیا ہو رہا تھا اسلام آباد میں؟ کیا آپ نے اس سے متعلق پوچھا؟ ان رپورٹس کی روشنی میں آپ نے بھی اپنا مائنڈ اپلائی کرنا ہوتا ہے۔ پولیس حکام بتائیں کہ 8 مئی کو کیا صورتحال تھی اسلام آباد میں؟

آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان نے کہا کہ واقعہ ہونے سے قبل خدشات کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔ ہم نے یہ کارروائیاں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کیں۔ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اسپیشل برانچ کی رپورٹ تو محض ایک مذاق ہے۔ شہریار آفریدی جیل میں بیٹھ کر جن کو تشدد پر اکسا رہا تھا، ان میں سے کسی کو گرفتار کیا گیا؟ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم تو ماسٹر مائنڈ کے پیچھے جائیں گے۔ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جو کچھ پڑھا گیا، وہ پولیس سسٹم کا مذاق اڑا رہا ہے۔ فیصلہ کر لیں کہ ملک کو آئین کے تحت چلانا ہے یا کسی اور طرح سے چلانا ہے؟ عدالت نے آئی جی کو ہدایت کی کہ تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی سی صاحب آپ نے اپنے شوکاز کا جواب جمع کروایا ہے، ڈپٹی کمشنر نے اسپیشل برانچ اور انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹس پڑھ کر سنائیں، جسٹس بابر ستار نے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 3 ماہ میں آپ کا کوئی ایک ایم پی او کا آرڈر جو عدالت نے برقرار رکھا ہو؟ ذہن میں رکھیں کہ توہین عدالت پر 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شوکاز نوٹس کا جمع کرا دیا ہے، جون کا ایم پی او مختلف نوعیت کا ہے اور اس وقت کا کیس مختلف ہے۔

عدالت نے شہریار آفریدی کیس میں جاری شوکاز نوٹس پر ڈی سی کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ڈی سی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد ہو گی۔ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ لوگوں نے تماشا بنایا ہوا ہے۔ عدالت ایم پی او آرڈر کالعدم دیتی ہے اور پھر نیا آرڈر جاری ہوجاتا ہے۔ عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کا جواب بھی غیر تسلی بخش قرار دیا اور ان کے خلاف بھی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ آئندہ سماعت پر ایس ایس پی آپریشنز پر بھی فرد جرم عائد ہو گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریار آفریدی کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیانات نہ دینے کی ہدایت کی۔ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ میں آپ سے توقع کرتا ہوں کہ یہ کیس چلنے تک آپ کوئی بیان نہیں دیں گے۔ آپ کی طرف سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر کوئی بیان نہیں آنا چاہیے۔ دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کا آرڈر معطل کرتے ہوئے دونوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔ کیس زیر التوا ہونے تک میڈیا پر بیان نہ دینے اور اسلام آباد کی حدود سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی۔