جڑانوالہ میں مسیحی شہری پر توہینِ مذہب کا الزام، مشتعل ہجوم نے چرچ کو آگ لگا دی

  • بدھ 16 / اگست / 2023

جڑانوالہ میں مسیحی شہری پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد مشتعل افراد نے چرچ کو آگ لگا دی ہے۔ پولیس نے توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ شہر میں حالات کشیدہ ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق مسیحی شہری پر الزام ہے کہ اس نے جڑانوالہ کے سنیما چوک میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہینِ آمیز کلمات کہے جب کہ قرآن کی بے حرمتی بھی کی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر جب پولیس جڑانوالہ کے سنیما چوک پہنچی تو وہاں قرآن کے اوراق موجود تھے جن پر سرخ قلم سے توہین آمیز الفاظ لکھے ہوئے تھے جب کہ ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔

واقعے کے بعد مشتعل ہجوم مقامی گرجا گھر کے باہر جمع ہوا ۔ ہجوم میں شامل کئی افراد نے گرجا گھر میں توڑ پھوڑ شروع کی بعد ازاں اسے آگ لگا دی۔ ہجوم میں شامل کئی افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ علاقے میں آباد مسیحی برادری کے افراد گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

پولیس نے ملزم کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعات 295 سی اور 295 بی کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ خیال رہے کہ 295 سی میں توہینِ مذہب کا جرم ثابت ہونے پر عدالت سے موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے لوگوں سے گھروں سے نکلنے کی اپیل کر رہا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں مقامی پولیس افسر مشتعل افراد کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ لیکن مشتعل ہجوم ملزم کو فوری سزا دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

جڑانوالہ پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کی تحصیل ہے۔ 2009 میں اس سے ملحقہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت بھی توہینِ مذہب کے الزام میں مشتعل افراد نے مسیحی افراد کے کئی گھر جلا دیے تھے۔ ان واقعات میں سات مسیحی شہری ہلاک ہوئے تھے۔