گرین پاکستان منصوبہ

وفاقی حکومت اور فوج کے تعاون واشتراک سے ملک میں زرعی انقلاب لانے کے لیے ایک بڑے منصوبے"گرین پاکستان انیشیٹو" کے تحت زراعت میں غیر ملکی سرمایہ کاری لاکرنہ صرف ہائبرڈ بیجوں کی پیداواربڑھائی جائے گی بل کہ شمسی اور ہوائی توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے جدید آبپاشی کے منصوبوں کے زریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا۔

اس منصوبے کے زریعے زیر تعمیر نہروں کو مکمل کرتے ہوئے سیلابی پانی کو بھی نہروں کے زریعے استعمال میں لانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف نے "لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم سینٹر آف ایکسلینس" کا افتتاح کر کے کیا تھا۔افتتاحی تقریب سے بطور وزیراعظم خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے اس منصوبے کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ویژن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں جنرل عاصم منیر نے مشورہ دیا تھا کہ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی معاشی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے زرعی معاش کو مضبوظ بنائیں۔

فیلڈ مارشل جنرل ایوب کا نام لیے بغیر میاں شہباز شریف نے یہ بھی کہا تھا کہ ساٹھ کی دہائی میں بننے والی نہروں اور ڈیمز اور کسانوں کو فراہم کیے جانے والے بیجوں سے زرعی انقلاب آیا تھا۔گرین پاکستان منصوبے میں 70لاکھ ہیکٹرز سے زائد غیر کاشت شدہ اراضی کو جدید پیداواری طریقوں سے قابل کاشت بناتے ہوئے جدید زرعی فارمنگ کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اس منصوبہ سے جڑے افراد اور حکام پرامید ہیں کہ لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم سینٹر آف ایکسلینس کے زریعے پاکستان میں 30سے 40ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔اس منصوبے کے تحت پاکستان سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور چین کے ساتھ مل کر ملکی برآمدات کو بڑھانے کے لیے مختلف زرعی منصوبوں پر کام کرے گا۔

دیکھا جائے تو کارپوریٹ فارمنگ کا یہ منصوبہ نیا نہیں۔ پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کی کوششیں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری ہیں۔پاکستان میں سب سے پہلے بے نظیر بھٹو کی حکومت نے پہلی بار1990کی دہائی کے آخر میں کارپوریٹ فارمنگ متعارف کروائی۔ اس کے لیے 19ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منظوری دی گئی لیکن اس منصوبے پر عمل درآمد سے قبل ان کی حکومت بے طرف کر دی گئی۔جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے باضابطہ اقدامات کیے۔ان کے دور میں کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کے لیے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے زرعی فارمنگ پالیسی اور کارپوریٹ فارمنگ آرڈیننس کا اجرا کیا گیا۔2008میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو اس نے کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کے لیے بورڈ ٓف انویسمینٹ کے زریعے غیر ملکی سرمائے کو متوجہ کرنے کی کوشش کی اور 2009میں ایک پیکج کا اعلان کیا جس کا فوکس بھی مشرق وسطی کے مختلف ممالک تھے جس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ تاہم ایک سے زائد وجوہات کی بنا پر یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔گزشتہ حکومت (پی ڈی ایم)کے مطابق کارپوریٹ فارمنگ کا حالیہ منصوبہ ماضی میں بننے والے منصوبوں سے زیادہ جامع اور قابل عمل ہے تاہم بعض تجزیہ نگار اور ماہرین زراعت سمیت پانچ شعبوں میں فوج کی شمولیت پر تنقید کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

سیاسی وعسکری تجزیہ نگار شجاع نواز کے مطابق حکومت ایک طرح سے فوج کو ان معاملات میں الجھا رہی ہے جس میں فوج کی مہارت نہیں۔یہ پرائیوٹ سیکٹر کا کام ہے، آپ ان کو پرکشش پیشکش دیں تاکہ وہ بہتر طریقے سے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈ کریں اور پھر اسے درآمد کریں۔اس سے ان کا بھی فائدہ ہوگا اور ملک کا بھی۔ان کے مطابق سبز انقلاب تحقیق سے آتا ہے اور تحقیق کے لیے پاکستان کے ہر صوبے میں دنیا کے بہترین ادارے موجود ہیں۔ حقوق خلق پارٹی کے عمار جان کے مطابق فوج کی زراعت میں شمولیت کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت سے فوج کو جو حصہ ملتا ہے وہ بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے، لہذا اب کبھی معدنیات میں تو کبھی زراعت میں حصہ لینے کی بات ہو گی۔ان کے مطابق کارپوریٹ فارمنگ کا فائدہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہوتا ہے، عام کسان کو نہیں۔

غیر ملکی محقق انتونیا " ایگریکلچرل لینڈ بائی فارن انویسٹرز" کے عنوان سے لکھی گئی تحقیق میں لکھتی ہیں کہ کارپوریٹ فارمنگ کے مقامی کمیونٹیز پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان کے بقول جنوبی پنجاب اور بلوچستان  ان منصوبوں میں اہم ہیں جب کہ تھر اور تھل میں بارشوں پر کاشت کاری ہوتی ہے اور یہاں مال مویشی پالتے ہیں جن کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا امکان ہے۔تجزیہ نگار اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق لاکھوں بے زمین کسان ہیں جو سرکاری زمینوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔جب آپ میکنائزڈ فارمنگ کے لیے زمین ہموار کریں گے  تو ظاہر ہے کہ کچھ کو تو اٹھائیں گے۔معاشی تجزیہ نگار اور مصنف قیصر بنگالی کے مطابق اس اقدام سے جو جس کے پاس ہے وہ بھی بے زمین ہو جائیں گے کیوں کہ کارپوریٹ فارمنگ چھوٹے رقبے پر تو ہو نہیں سکتی، اس کے لیے زیادہ رقبہ چاہیے۔ان کے مطابق اب جو فارمز بنیں گے انہیں پانی کے سلسلے میں فوقیت ملے گی جس کے باعث ہو سکتا ہے کہ ڈاؤن سٹریم کو پانی نہ ملے۔

دوسری طرف اس منصوبے سے جڑے افراد اور حکومت کے ترجمان اسے ملکی مفاد میں بہترین منصوبہ قرار دیتے ہیں۔حکومت کے مطابق اس منصوبے کے لیے براہ راست سرمایہ کاری کے عمل کو ایسے آسان بنایا گیا ہے کہ سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن دستیاب ہوگا۔منصوبے کی شفافیت سے متعلق ایک پورٹل بنایا جارہاہے جس تک سب کو رسائی ہوگی۔کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں 30ارب ڈالر سے زائد پیداوار کی صلاحیت ہے اور اگر غیر ملکی سرمایہ کاری کے زریعے آنے والی جدید مشینری اورہائبرڈ بیجوں سے لاکھوں ہیکٹر بنجر اور بے کار پڑی زمین کوبھی آباد کر کے ملک میں سبز انقلاب کو یقینی بنا لیا جائے تو یہ سونے پہ سہاگہ والی بات ہو گی تاہم اس منصوبے پر تجزیہ نگاروں اور معاشی ماہرین کے سوالات و خدشات بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔خاص طور پر اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے درکار پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے نہ صرف اردگرد کی زمینوں کے لیے پانی کی فراہمی متاثر ہو گی بل کہ اس سے مجموعی طور پر زیر زمین پانی کی سطح بھی مزید نیچے جا سکتی ہے۔

حرف آخر یہی کہ تمام تر سوالات و خدشات کے باوجود لاکھوں ہیکٹرز بنجر اور غیر آباد زمین کو قابل کاشت زمین میں تبدیل کر کے سبز انقلاب کی راہیں ہموار کرنے کا گرین پاکستان منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ پون صدی کی ملکی تاریخ میں ابھی تک کوئی حکومت لاکھوں ہیکٹرز پڑی بنجر زمینوں کو قابل کاشت نہیں بنا سکی۔