اُمید کے چراغ روشن رکھیں
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- جمعرات 17 / اگست / 2023
پاکستان کا 76 واں یوم آزادی گزر گیا ہم نے روایتی انداز میں خوشیاں منائیں، پرچم لہرائے، سینوں پر پاکستانی پرچم کے بیجز لگائے، باجے بجائے گئے، بچوں کو سبز لباس پہنائے گئے، خوب ہلہ گلہ کیا گیا۔
پاک فوج نے شاندار اور جاندار تقریبات کا اہتمام کیا عسکری ہاؤسنگ سکیموں میں جشن آزادی منانے کے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کی طرف سے سوشل میڈیا پر آزادی اور جشن آزادی کے خلاف غلیظ پراپیگنڈہ کیا گیا ۔جشن آزادی منانے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی شعوری کاوشیں کی گئیں۔ کہا گیا کہ ”ہم آزاد نہیں ہیں“ ہم پر آئی ایم ایف مسلط ہے، عوام حکمرانوں کی غلامی میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ اس طرح کی باتیں کر کے عوام میں مایوسی پھیلانے کی سعی کی گئی لیکن جشن آزادی کی گہما گہمی اور عوام کی بھرپور شرکت کے مظاہرے دیکھ کر لگتا ہے کہ مایوسی پھیلانے والے عناصر کو منہ کی کھانا پڑی ہے قاسم کے ابو جی کے ناخلف بیٹے اور حواری قوم میں ناامیدی کو فروغ دیتے پھر رہے ہیں۔
9 مئی 2023کو انہوں نے جو کچھ کیا وہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ قابل معافی نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان کی عزت و سالمیت کے ساتھ وہ کچھ کر دکھایا جو ہمارا دشمن بھی کرنے کا سوچ نہیں سکتا تھا اختلاف کرنا یا اختلاف ہونا اور بات ہے لیکن ریاست کو للکارنا اور اس سے ٹکرانا بالکل عجب بات ہے قاسم کے ابو جی اور ان کی ناخلف اولاد نے وہ سب کچھ کر دکھایا جس کا سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ریاست نے جس انداز میں ری ایکٹ کیا ہے شریروں اور ان کے مشیروں کو قانون کے آہنی شکنجے میں کسنے کی جو راہ لی ہے اس سے عوام میں امید پیدا ہوئی ہے، ان کا ریاست پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ شریر بچے اور ان کے سہولت کاروں پر ناطقہ بند کیا جا رہا ہے۔ آئین اور قانون اپنی طاقت کے ساتھ حرکت میں ہے اور اپنی راہ لے رہا ہے ۔اشرار نے سوشل میڈیا کو استعمال کر کے پاکستان کے بطور آزاد ملک اور اس کے یوم آزادی کے حوالے سے زہریلا پروپیگنڈہ کر کے عامتہ الناس کو گمراہ کرنے کی کاوشیں کی تھیں ان کا بھی 14 اگست کو بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے۔
عام پاکستانیوں نے 76 واں یوم آزادی روایتی جوش و خروش سے منا کر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وہ اپنی آزادی اور اپنی ریاست کی آزادی کے ساتھ والہانہ انداز میں جڑے ہوئے ہیں۔ یوم آزادی کے موقع پر انہوں نے روایتی جوش و خروش کا مظاہرہ کر کے ریاست کے داخلی دشمنوں کے پروپیگنڈے کو ریجیکٹ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ قوم ایسے ناہنجار ریاست کے باغیوں کے ساتھ نہیں ہے پاکستان ہماری آن و شان ہے ریاست پاکستان ہمارے دلوں میں بستی ہے اور جو بھی اس کے خلاف بات کرے گا اسے پذیرائی ہرگز نہیں ملے گی۔
جشن آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاست پاکستان کی محافظ فوج کے سالار اعلیٰ حافظ سید عاصم منیر نے بڑے واشگاف الفاظ میں قوم کو پیغام دیا ہے کہ ”ریاست پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، پاکستان کے پاس سب کچھ ہے تمام وسائل موجود ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد ہی مشکلات پر قابو پا لیں گے، پاکستان کو خوشحال و مستحکم بنانا ہمارا مشن ہے ہمیں خوف و مایوسی پھیلانے والوں کے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرنا ہوگا۔“ جنرل عاصم منیر نے جس قطعیت کے ساتھ ریاست کے دشمنوں کے عزائم اور پروپیگنڈے کی تردید کی ہے ، اسی عزم اور جذبے کے ساتھ پاکستان کو جاری مشکلات سے نکالنے اور تعمیر و ترقی کی راہ پر لگانے کے عزم بالجزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
پاکستان اپنی 76 سالہ تاریخ میں سب سے پہلی بار جس سانحہ عظیم کا شکار ہوا وہ سقوط مشرقی پاکستان ہے دسمبر 1971میں بھارتی افواج نے بنگالی مکتی باہنی کے ساتھ مل کر پاکستان کو نہ صرف عسکری ہزیمت سے دو چار کیا 90 ہزار سویلین و فوجی گرفتار ہو گئے دشمن کی قید میں چلے گئے۔ مجیب الرحمن نے پاکستان سے علیحدگی کا اعلان کر کے بنگلہ دیش بنا ڈالا۔ یہ وقت ہر اعتبار سے پاکستان کے لئے مشکل ترین وقت تھا ۔ نا امیدی و نامرادی کے مہیب سائے پاکستان پر چھائے ہوئے تھے ۔ایسے وقت میں بھٹو کی قیادت میں پاکستان نے نئے سفر کا آغاز کیا۔ 1973کا متفقہ آئین اسی دور پر امید کی یاد گار ہے۔ اس دستاویز نے سندھ، بلوچستان، سرحد اور پنجاب کو پاکستان کی زنجیر میں پرودیا ہوا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جو پاکستان کو ایٹمی مملکت بنانے کا ذریعہ بنا، اسی دور کی یادگار ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ 1979 تا ہنوز پاکستان عالمی طاقتوں کی سرد و گرم سیاست کا محور و مرکز بنا ہوا ہے۔
1979میں جب عظیم اشتراکی سوویت یونین کی افواج نے افغانستان پر قبضہ کیا تو پاکستان، افغانوں کی تحریک آزادی کے لئے فرنٹ لائن سٹیٹ بنا۔ جہاد افغانستان کا مرکز و محور بنا۔ 40 لاکھ سے زائد مہاجرین کے لئے انصار کا فریضہ سر انجام دیا۔ 1989 میں اشتراکی افواج ناکام و نامراد ہو کر یہاں سے نکل گئیں تو پھر افغان دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی کی حدت بھی پاکستان نے برداشت کی۔ طالبان حکومت کو قائم کرنے/ رکھنے میں بھی پاکستان فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کرتا رہا۔ 2001 میں امریکی اتحادی افواج طالبان کے افغانستان پر پل پڑیں تو اس وقت بھی پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ بننے پر مجبور کر دیا گیا۔ 20 سال بعد امریکی یہاں سے ناکام و نامراد ہو کر نکلے تو ایک بار پھر پاکستان طالبان ریاست کے لئے سہارا بننے پر مجبور نظر آ رہا ہے۔
ٹی ٹی پی ہو یا داعش سب پاکستان کو نشانے پر لئے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان اپنے پورے قد کے ساتھ، پورے وزن کے ساتھ، پورے عزم و حوصلے کے ساتھ اقوام عالم میں ایک اہم مملکت کے طور پر سینہ سپر ہے اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانے، 70 ہزار نفوس کی قربانی دینے اور سماجی ڈھانچے کی تباہی و بربادی کے باوجود پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر نہ صرف کھڑا نظر آ رہا ہے بلکہ آگے بڑھنے اور بڑھتے ہی چلے جانے کے عزم بالجزم کا برملا اظہار بھی کر رہا ہے۔ خطے کی تبدیل ہوتی سٹریٹیجک پوزیشن میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ چین یہاں سی پیک کے ذریعے تعمیر و ترقی میں مصروف ہے، روس ہمارے ساتھ تجارت بڑھانا چاہتا ہے، امریکہ سفارتی، عسکری اور اقتصادی تعلقات میں اور بھی زیادہ بہتری کا خواہاں ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کے اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب ہماری سب سے بڑی ریفائنری قائم کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔
ایسے تمام حالات پاکستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عزم و یقین کے ساتھ آگے بڑھیں اور نا امیدی و نامرادی کو جھٹک کر نوید سحر کا استقبال کریں۔ مستقبل ہمارا ہے۔ ان شاء اللہ۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)