کیا چرچ پر حملہ اور اور بائیبل کی توہین بلاسفیمی نہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 18 / اگست / 2023
جڑانوالہ میں مسیحی آبادی اور گرجا گھروں پر حملوں کے بعد تباہ شدہ گھر میں واپس آنے والی ایک خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ خاتون تباہی و بربادی کا خوفناک منظر دیکھ کر غم سے نڈھال اپنے لٹے ہوئے گھر کی دہلیز پر بیٹھی ہے۔ اس کا کم عمر بیٹا پاکستانی پرچم کے رنگوں سے بنے لباس میں ماں کا ہاتھ تھامے اسے دلاسا دینے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ خاموش ہے لیکن یہ تصویر بول رہی ہے اور مکمل ہے ۔ یہ تصویر پاکستان کے ایک اقلیتی خاندان پر گزرنے والے دکھ کی پوری کہانی بیان کرتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ کے ایک نئے سیاہ باب کا صفحہ الٹ دیا گیا ہے۔ مذمتی بیانات، تشدد کومسترد کرنے کے اعلانات اور تباہ کی گئی عبادت گاہوں کی سرکاری خرچ پر تعمیر نو کے بلند بانگ دعوؤں کے جلو میں پوری قوم آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔ چونکہ یہ معاملہ ایک چھوٹی سی مذہبی اقلیت کے بارے میں ہے، اس لئے یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ایک قدم آگے بڑھایا جاچکا ہے۔ آخر اس سے زیادہ کیا بھی کیاجاسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے اشتعال میں آکر ایک غلطی کی تو اب پوری قوم غلطی کے اس مرحلے پر ساکت تو نہیں ہوسکتی۔ البتہ اس قوم میں شاید کم ہی لوگ یہ جاننے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ سیاہی کا جو نشان جڑانوالہ میں اٹھائے گئے طوفان دہشت میں ساکت ہوکر رہ گیا ہے، وہ دھبہ اب پاکستانی قوم کے دامن کو داغدار کررہا ہے۔ کوئی نعرہ، کوئی وعدہ اور کوئی حکم نامہ اس داغ کو مٹا نہیں سکتا۔ یہ داغ قول و فعل کے تضاد کی طرح، اس قوم کے مقدر کا حصہ بنایا جاچکا ہے۔
ابھی حال ہی میں سانحہ 9 مئی کے بعد حکومت، پاک فوج اور ’باشعور شہریوں‘ نے پورے عزم کے ساتھ عسکری تنصیبات پر حملوں کو مسترد کرتے ہوئے اس کارروائی کو قومی سلامتی پر حملہ قرار دیا تھا۔ اسی لئے اس دن ہونے والے واقعات کے سبب تقریباً سرکاری طور اسے ملکی تاریخ کا ’سیاہ باب‘ قرار دیا گیا۔ اس روز ملک پر جان قربان کرنے والوں کی یادگاروں کا تقدس پامال کیا گیا تھا، عسکری ٹھکانوں پر حملے کئے گئے تھے اور لاہور کے کور کمانڈر کے گھر کو لوٹا گیا تھا۔ پاک فوج و حکومت سمیت پوری قوم نے ان واقعات کے خلاف شدید رد عمل کے ذریعے واضح کیا تھا کہ ریاست، حکومت اور فوج کی ریڈ لائن کہاں سے ہوکر گزرتی ہے اور اسے عبور کرنے والوں کے ساتھ کس طرح نمٹا جاتا ہے۔
یہ غم اور صدمہ بہت گہرا اور اس سے باہر نکلنے کے لئے سانحہ 9 مئی میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کا عزم اس حد تک جوان ہے کہ اس وقوعہ کو چار ماہ گزرنے کے باوجود بار بار باور کروایا جاتا ہے کہ اگر اس دن عسکری تنصیبات پر حملے کرنے والوں میں سے کوئی بھی بچ گیا تو یہ ایک قومی المیہ ہوگا جس سے اس ملک کی دفاعی اور نظریاتی بنیادیں ہل جائیں گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس سانحہ کے کئی ماہ بعد ملک کے نگران وزیر اعظم مقرر ہونے والے انوار الحق کاکڑ نے اپنی کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب میں بھی اس سانحہ کو فراموش نہیں کیا اور فرمایا کہ ’ 9 مئی کے واقعات مایوس کن ہیں۔ ہم نہ صرف ان کی مذمت کرتے ہیں بلکہ اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جن لوگوں نے بھی اس دوران قانون کی خلاف ورزی کی ہے، ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے‘۔ نئے نویلے وزیر اعظم کا یہ عزم شاید اس لئے ضروری تھا کہ زندہ قومیں ایسے لوگوں کو معاف نہیں کرتیں جو ان کی سلامتی کے لئے خطرہ بنتے ہیں یا ریاست کی ’ریڈ لائن‘ عبور کرتے ہیں۔
جڑانوالہ میں بھی درجنوں گھر تباہ کئے گئے۔ سینکڑوں لوگوں کی عمر بھر کی کمائی لوٹ لی گئی، متعدد چرچوں کو نذر آتش کیا گیا یا وہاں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس قومی المیہ پر ہر طرف سے دکھ اور مذمت کا اظہار ہؤا ہے لیکن کسی نے اس دن ہونے والے واقعات کو ملکی تاریخ کا ’سیاہ باب‘ قرار نہیں دیا ۔ اس کی وجہ پر غور کیا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کی بنیادی اورقابل فہم وجہ یہ ہے کہ ریاست اور اس کے ادارے جڑانوالہ سانحہ کو معمول کی سماجی کج روی سمجھتے ہیں۔ اس روز ضرور قانون ہاتھ میں لیا گیا اور ایک اقلیت کے ساتھ ظلم ہؤا لیکن کسی سرکاری سطح پر اس حرکت کو ریاست کی ’ریڈ لائن‘ عبور کرنے کے مترادف قرار نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سانحہ 9 مئی کی طرح سانحہ جڑانوالہ کو ایک دو روز نہیں تو ایک دو ہفتوں میں بھلا بھی دیا جائے گا اور کسی کو یہ غم بھی نہیں ہوگا کہ ان سینکڑوں مفلوک الحال لوگوں کا کیا بنےگا جن کی کل جمع پونجی لٹ گئی، گھروں کو تباہ کردیا گیا اور بہت سوں سے ان کے روزگار کے ذرائع چھین لئے گئے۔
دیکھا جائے تو 9 مئی کے دن جو تباہی مچائی گئی، تمام ریاستی وسائل اس کے ازالے کے لئے مستعدہیں۔ تباہ کئے جانے والے مقامات و یادگاروں کی تعمیر و مرمت کا کام پوری سرعت و قومی جذبے سے مکمل کیا گیا ہے۔ لاہور کے کور کمانڈر کا گھر بھی اسی شان و شوکت سے ایستادہ ہے اور اس پر حملہ کے دوران تباہ کی گئی اشیا ازسر نو فراہم کردی گئی ہیں اور عمارت کے نقصان کی تزئین و آرائش بھی ہوچکی ہوگی۔ حالانکہ کور کمانڈر کا گھر اگر تباہ شدہ حالت میں بھی کھڑا رہتا تو لاہور کے کسی کورکمانڈر کو ایک رات بھی چھت کے بغیر بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن جڑانوالہ میں جن سینکڑوں لوگوں کے گھر تباہ کئے گئے ہیں،ان میں سے کتنے ہی لوگ نہ تو نئی جگہ متقل ہونے کی سکت رکھتے ہیں اور نہ ان کے پاس تباہ شدہ گھروں کو مرمت کروانے کی مالی استطاعت ہے۔
پنجاب کے ’نگران وزیر اعلیٰ محسن رضا نقوی نے فراخدلی سے اعلان کیا ہے کہ 16 اگست کو جڑانوالہ میں جن گرجا گھروں کو تباہ کیا گیا، حکومت پنجاب ان کی تعمیر ومرمت کے مصارف پورے کرے گی۔ حالانکہ عبادت گاہوں کی تعمیر کا کام تو چندہ جمع کرنے یا مخیر حضرات کے تعاون سے بھی ہوسکتا ہے لیکن ان سینکڑوں بے گھر لوگوں کا کون پرسان حال ہوگا جنہیں کسی قصور کے بغیر نفرت، انتہاپسندی اور مذہبی جنونیت کے ایک ہی ہلے میں اپنے تمام اثاثوں اور سر چھپانے کی چھتوں سے محروم کردیا گیا۔ ریاست پاکستان اور ان کی نمائیندہ حکومتیں اور ادارے جڑانوالہ کے ان مسیحی شہریوں کو ’چادر و چار دیواری‘ کا تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کا جواب دہ کون ہوگا؟ ایک انسانی المیے کو مجسم کردینے والی ایک ماں اوراس کے بیٹے کی تصویر کو کون دوبارہ زندگی کی روشنی دکھائے گا؟ ان غریب بچیوں کا جہیز کہاں سے فراہم ہوگا جن کے خاندانوں نے تمام عمر صرف کرکے ایک ایک چیز جمع کی تھی لیکن بلوائیوں نے ایک ہی دھاوے میں سب نیست و نابود کردیا۔
کون جواب دے؟ ملک میں تو نگران حکومت برسر اقتدار آئی ہے جس کا مینڈیٹ اور اختیا رمحدود ہے ۔ کسی ادارے نے جڑانوالہ کے سانحہ کو قوم کا سیاہ باب بھی قرار نہیں دیا۔ گویا ریاست کی کوئی ریڈ لائن عبور نہیں ہوئی۔ بلوائیوں نے جرم ضرور کیا ہے لیکن ملک کا نظام انہیں سزا دے سکتا ہے۔ تدارک کے لئے زیادہ مستعدی یا سختی کی ضرورت نہیں۔ اسی لئے نہ اس معاملہ میں آرمی کورٹس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے اور نہ ہی عدالت عظمی کو ’مفاد عامہ‘ خطرے میں محسوس ہوتا ہے۔ سب کام معمول کے مطابق ہؤا ہے اور اسی معمول کے مطابق اس سے نمٹ بھی لیا جائے گا۔ چند سو خاندانوں کے بے وسیلہ ہونے کو قومی المیہ اور سیاہ باب قرار نہیں دیا جاسکتا! جاننا چاہئے کہ قوموں کی زندگی میں ریڈ لائن کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ اور اس معیار پر 9 مئی کے واقعات زیادہ پورے اترتے ہیں یا جڑانوالہ میں منہ زور اکژیتی ہجوم کے ہاتھوں اقلیتی عقیدے کی عبادت گاہوں اور بستی پر حملہ زیادہ خطرناک اور ناقابل فراموش سانحہ ہے جسے ریاست نے اگر ریڈ لائن سے تعبیر نہ کیا تو اس ملک سے کبھی مذہبی انتہا پسندی ، نفرت اور تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
بہر حال جنہیں اعتراض ہو تو وہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے اس بیان سے حوصلہ لینے کی کوشش کریں کہ ’ملک میں اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ کچھ گروپس کی جانب سے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے لیکن ان کے ساتھ ریاست اور سوسائٹی سختی سےنمٹے گی۔جبر کسی بھی شکل میں ہو، ہم اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ شدت پسندی کو ناپسند کیا جائے گا اور اسے قانون کے ذریعے قابو میں لایا جائے گا۔ ہم اکثریت میں ہیں، ہمیں اقلیتوں کا تحفظ کرنا ہے، بنیادی انسانی وقار کو یقینی بنانا ہے‘۔ اس پر بھی اطمینان نہ ہو تو آرمی چیف کے اس عزم پر سر دھننا چاہئے کہ ’ جڑانوالہ کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور مکمل طور پر ناقابل برداشت ہے۔ معاشرے کے کسی بھی طبقے کی طرف سے کسی کے خلاف خاص طور پر اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور انتہائی رویے کے ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان کے تمام شہری بلا تفریق مذہب، جنس، ذات یا عقیدہ ایک دوسرے کے لیے برابر ہیں۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘۔
انصاف کے جس کٹہرے میں جڑانوالہ میں تباہی مچانے والوں کو لانے کا عزم کیا گیا ہے، اس کی بنیادیں مذہب و عقیدہ کے ان رکھوالوں کے حوصلے اور طاقت کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ ہمارا ماضی گواہ ہے کہ اقلیتوں پر حملوں کے بعد ایسے ہی بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن تھوڑے ہی عرصے میں عدالتیں شافی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو رہا کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ اس بار ایسا کیا مختلف ہؤا ہے کہ پولیس کا طرز عمل الگ ہوگا اور عدالتوں سے ایسے فیصلے جاری ہوں گے جو سرکش سماج دشمن عناصر کو لگام ڈال سکیں؟
اب یہ واضح ہورہا ہے کہ جس مسیحی باپ بیٹے پر قرآن پاک کے اوراق کی توہین کرنے اور ان پر گستاخانہ کلمات لکھنے کا الزام ہے، وہ تو ان پڑھ ہیں۔ پھر کون ایسا احمق ہوگا کہ پاکستان میں قرآن کی توہین کرتے ہوئے ان اوراق کے ساتھ اپنی تصویر لگائے گا اور پتہ بھی تحریر کردے گا؟ کیا ملکی نظام جو سب کے لئے مساوی سلوک کرنے کا پابند ہے، اس شخص کا پتہ لگائے گا جس نے درحقیقت قرآن کے صفحات پر نازیبا الفاظ لکھے اورپھر دو بے گناہ مسیحی افراد کو اس میں ملوث کرنے کی سازش کی اور شہر میں فساد برپا کیا؟
جڑانوالہ میں متعدد چرچ تباہ کئے گئے اور اس دوران بائیبل کے متعدد نسخوں کی توہین کی گئی۔ ملک کا نظام انصاف اگر سب کے لئے یکساں ہے تو کیا پولیس کو ہدایت کی جائے گی کہ اس بلوہ میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف توہین مذہب کی انہیں شقات کے تحت مقدمے قائم کئےے جائیں جن کا سہارا لے کر ملک کا منہ زور مولوی خود ہی مفتی، قاضی اور جلاد بننے کی تلقین کرتا ہے؟ اگر توہین مذہب جرم ہے تو جڑانوالہ کے سب بلوائی اس جرم میں شامل تھے۔ کیا کوئی لیڈر، عالم یا قانون دان مسلمانوں کے مذہبی جذبات طرح مسیحیوں کے عقیدہ کی توہین کو بھی بلاسفیمی قانون کی خلاف ورزی کہتے ہوئے، اس کے مطابق نظام کو حرکت میں لانے کا حوصلہ کرے گا؟